نتن یاہو مشرق وسطیٰ کا ’ولن‘

لگ بھگ 30 برس سے زائد عرصہ بیت چکا ہے، جب پہلی مرتبہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین اوسلو میں تاریخی امن معاہدہ ہو رہا تھا، وعدے وعید  ہوئے کہ کس طرح دونوں ایک دوسرے کے گویا وجود کو تسلیم کر کے پر امن رہیں گے، دو ریاستی فارمولا بھی وجود میں آیا۔

امریکی صدر بل کلنٹن درمیان میں اور دائیں اور بائیں فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور اسرائیل وزیر اعظم یازک رابن۔

اسی دوران اسرائیل میں نتن یاہو جو ان دنوں اپوزیشن لیڈر تھے انتہا پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر امن معاہدے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے تھے۔ ان کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم پر یہودیوں کی ’قربانیوں‘ کا سودا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

کچھ ہی دنوں میں وہی امن پسند یازک رابن ایک یہودی انتہاپسند کے ہاتھوں قتل ہوا اورتھوڑے ہی عرصہ میں نتن یاہو پہلی مرتبہ اسرائیل کے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔

تین دہائیاں ہو چلی ہیں لیکن آج بھی نتن یاہو امن دشمن اور مشرق وسطی میں جنگی آگ کے شعلے بھڑکانے والے آرکیٹیکٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ غزہ میں نہ تھمنے والی فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ ہو یا پھر ایران کے خلاف گذشتہ سال جون میں ہوئی جنگ ہو یا پھر امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ حالیہ جنگ ہو۔ ماسٹر مائنڈ نتن یاہو کو ہی سمجھا جاتا ہے۔

ماننا ہے کہ ٹرمپ کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کی یقینی کامیابی کی پیشگی ضمانت نتن یاہو ہی نے دی تھی۔  آج 100 دن گزر گئے ہیں لیکن ٹرمپ تنازع سے نکل نہیں پا رہے ہیں یا پھر یوں سمجھ لیجیے نتن یاہو امریکہ کو مشرق وسطی کے جنگی چنگل سے آزاد دیکھنا نہیں چاہتے۔ وہی امریکہ اور ایران کے ہونے والی ممکنہ معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔

 اپریل میں جب امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا آغاز ہوا، امن کی امید جاگی تو نتن یاہو نے لبنان میں جنگ کا آغاز کر دیا۔ ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان امن کی کوششیں ادھر نتن یاہو کے خطرناک جنگی عزائم۔

جب محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران امن معاہدے کے قریب آرہے ہیں تو اسرائیل کی لبنان میں جنگ تیزی پکڑ لیتی ہے۔ گویا جیسے امن کی کوششیں اور جنگی عزائم متوازی خطوط پر ہوں۔

ان ہی چند ماہ میں اسرائیلی فوجوں نے جنوبی لبنان کے بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ 15 لاکھ باشندے یعنی لبنان کی ایک چوتھائی آبادی گھروں کو چھوڑنے ہو مجبور ہو چکی ہے۔

کہنے کو تو لبنان میں غزہ کی طرح جنگ بندی ہے، لیکن شاید ہی کوئی ایسا روز گزرا ہو جب اسرائیل فوجوں کے ہاتھوں اموات رکی ہوں۔

 کچھ ماہ قبل ٹرمپ دنیا کو غزہ کی تعمیر نو کے خواب دکھا رہے تھے اور اب غزہ میں اسرائیلی فوج کا 70 فیصد حصے پر قبضہ ہے۔ گذشتہ ڈھائی برسوں میں 73 ہزار فلسطینیوں کا خون۔ لاکھوں فلسطینی تباہ شدہ غزہ کے کھنڈرات میں رہنے ہپر مجبور۔

حملے جاری رکھنے کا بہانہ اب بھی وہی یعنی حماس کو غیر مسلح کرنے کا۔ غزہ میں بھی ریفری امریکہ اور لبنان میں بھی ریفری کی ذمہ داری امریکہ کی۔ سب کو حیرت ہوتی ہے کہ نتن یاہو کے پاس ایسی کونسی گیدڑ سنگی ہے جو امریکہ ان کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ  بندھن بہت گہرا ہے-

جب اسرائیل وجود میں آیا تو اس وقت کے امریکی صدر ٹرومین کو تسلیم کرنے میں صرف 11 منٹ لگے تھے۔ اسرائیل کو امریکہ کی جانب سے اب تک تقریباً 260 ارب ڈالر کی امداد مل چکی ہے۔

ہر سال تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر عسکری امداد کی مد میں ملتے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ویٹو کی چھتری فراہم کی ہوئی ہے اس کے علاوہ سیاسی، سفارتی اور عسکری امداد کی ایک طویل فہرست ہے۔

اسرائیلی لابی اے پیک کی جڑیں امریکہ کے سیاسی نظام میں کافی مضبوط ہیں۔ نتن یاہو خود بھی امریکی معاشرے، سیاسی اور عسکری ڈھانچے سے واقف ہیں۔

انہوں نے بطور طالب علم اور سفارت کار امریکہ میں لگ بھگ 20 برس گزارے ہیں۔ ایم آئی ٹی اور ہارورڈ جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے۔  نظام میں ذاتی اثر رسوخ بھی رکھتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بل کلنٹن ہوں یا اوباما یا بائیڈن ہوں یا ٹرمپ ان سب امریکی صدور کے ساتھ  نتن یاہو کا تعلق رہا ہے۔ چالاک سیاسی ذہن کے ساتھ  اپنی صلاحیتوں کا استعمال بخوبی کرتے ہیں۔

مانا جاتا ہےکہ نتن یاہو کہ تین بڑے عزائم ہیں۔ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے منصوبہ کو ناکام بنانا۔ ’گریٹر اسرائیل‘ کے عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانا۔ وہ مشرق وسطی کا چہرہ بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

غرب اردن کے فلسطینی علاقوں کو نئی نئی یہودی آبادیاں قائم کر کے نگلنا چاہتے ہیں اور نقشے سے فلسطین غائب کرنا چاہتے ہیں۔ نتن یاہو مشرق وسطی میں اسرائیل کے لیے سپر پاور حیثیت کے خواہش مند ہیں۔

امریکہ کی چھتری تلے ایران اور اس کے اتحادی گروہوں یعنی حزب اللہ، حوثی اور حماس کو عسکری کاروائیوں سے کمزور کرنا چاہتے ہیں اور مسلم ممالک کو امریکی اثر رسوخ کے زریعہ ابراہم معاہدہ کے بندھن کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔

تاہم حالیہ ایران جنگ میں نتن یاہو کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ نہ ایران میں حکومت کی تبدیلی حاصل کر سکے اور نہ ہی خلیجی ممالک اور ایران کے مابین جنگ ہو سکی۔

عرب ممالک کی قیادت بالخصوص سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ویژن کے عین مطابق ایران کے  خلاف تحمل کا برتاؤ رکھا گیا اور جوابی کاروائیوں سے گریز کیا گیا تاکہ خطے کو انتشار اور اسرائیلی سازش سے بچایا جا سکے۔

نتن یاہو اب 76 برس کے ہو گئے ہیں۔ اکتوبر میں الیکشن کا سامنا ہے۔ کوئی کامیاب کہانی عوام کو دینے کے لیے نہیں ہے۔ نہ ہی ایران اور نہ ہی لبنان۔ سیاسی ساکھ داو پر اور فراڈ اور بدعنوانی کے مقدمہ کا سامنا ہے۔ اگر الیکشن میں شکست ہوئی تو سزا، قید کا سامنا ہے۔ 

ٹرمپ بھی بظاہر ناراض ہیں۔ وائٹ ہاؤس سے لیک ہوئی خبر پوری دنیا میں پھیل گئی کہ کس طرح ٹرمپ اپنے ’عظیم دوست‘ نتن یاہو پر فون کال کے دوران برس پڑے۔ ’تم لبنان میں کیا کر رہے ہو۔ کیسے ایران کے ساتھ ڈیل کو خطرے میں ڈال رہے ہو۔ اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔‘

یہاں تک کہ ٹرمپ نے نتن یاہو کو، بقول امریکی میڈیا، ’پاگل‘ تک کہہ دیا۔ ٹرمپ کے کچھ الفاظ ناقابل اشاعت ہیں۔ لیکن ٹرمپ کا نتن یاہو سے الجھنا، بظاہر بوکھلاہٹ اور پریشانی کی علامت ہے۔ 

ٹرمپ ایران کے ساتھ اوباما حکومت کے نیوکلیئر معاہدے سے بہتر ڈیل کے متلاشی ہیں۔ امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

حال میں ہی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ خاتمے کے لیے ٹرمپ کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے جو علامتی اہمیت کی حامل ہے لیکن ٹرمپ کے لیے پریشانی کا باعث ہے کیونکہ اس قرارداد کی حمایت میں ان کی پارٹی کے چند ساتھیوں نے بھی ووٹ دیا ہے۔ ٹرمپ نتن یاہو سے مستقل ناراض نہیں رہ سکتے لیکن موجودہ حالات میں تعلق بھی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔

نتن یاہو کے ساتھ رشتہ اس وقت ٹرمپ کے گلے میں پھنسی اس ہڈی کی مانند ہے۔ جسے نہ اگلا جائے نہ نگلا جائے۔ ٹرمپ خطے میں امریکی اثر رسوخ مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں اور ایران جنگ سے باعزت فرار کا راستہ تلاش کر رہے ہیں تاہم نتن یاہو نے مشرق وسطی میں ’گریٹر اسرائیل‘ کے عزائم کی تکمیل کے لیے جنگ کا راستہ چنا ہے۔

وہ صہیونی تحریک میں اس کے بانی تھیوڈر ہرزل اور اسرائیل کے پہلے وزیراعظم ڈیوڈ بین گوریان کی طرح ایک مقام کے حصول کے خواہش مند ہیں۔ وہ اسرائیلی عوام کی نظروں میں شاید ’ہیرو‘ اور مسلم دنیا بالخصوص فلسطینیوں کے لیے مشرق وسطی کے ایک ’ولن‘ کی شناخت رکھتے ہیں۔

فی الوقت امریکہ ایران معاہدے کے لیے ٹرمپ اور نتن یاہو کے تعلقات کا خاتمہ ضروری ہے۔ جس طرح مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے امریکہ اسرائیل رشتہ کے لیے اگر طلاق ممکن نہیں تو علیحدگی لازمی ہے۔


نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


اویس توحید معروف صحافی اور لکھاری ہیں جو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ پر مہارت رکھتے ہیں۔

اویس نے گزشتہ تین دہائیوں پر محیط ایشیا میں جنگ اور تنازعات کی رپورٹنگ کی ہے اور افغانستان میں طالبان کے عروج و زوال کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی تنازع کی رپورٹنگ بھی کی ہے۔ بی بی سی ورلڈ سروس، وی او اے، اے ایف پی اور سی ایس مانیٹر کے لیے کام کیا ہے- اور پاکستان کے کئی ٹی وی چینلز کےسربراہ بھی رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *