چین: 15 لاکھ سے زائد فالورز والا کتا چوری کر کے کھا لیا گیا

سوشل میڈیا پر 15 لاکھ سے زیادہ فالوورز رکھنے والے بارڈر کولی کتے کو چوری کیا گیا، ایک ریسٹورنٹ کو بیچا گیا اور پھر کھا لیا گیا۔ یہ بات اس کے غم زدہ مالک نے بتائی ہے۔

چینی ٹریول بلاگر گو اوران کا آٹھ سال کا کتا چوتو اس وقت انٹرنیٹ سٹار بن گئے جب انہوں نے چین کے ٹک ٹاک ورژن ڈوئین پر اپنی مہمات کی ویڈیوز بنانا شروع کیں۔

اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، چوتو 11 مئی کو اس وقت لاپتہ ہوا جب مالک کے بیرون ملک دورے کے دوران گو کے والد اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو خاندانی گھر سے کتے کو الیکٹرک سکوٹر پر لے جاتے دیکھا گیا، جس کے بعد بلاگر نے اپنا سفر مختصر کیا اور اپنے پیارے پالتو جانور کی تلاش کے لیے واپس آ گیا۔

لیکن دی پوسٹ کے مطابق بلاگر کو بتایا گیا کہ ان کا کتا پہلے ہی 180 یوان، یعنی 27 ڈالر، میں ایک ریسٹورنٹ کو فروخت کیا جا چکا تھا، اسے ذبح کر کے کھا لیا گیا تھا۔

مبینہ چور نے دعویٰ کیا کہ اس نے کتے کو آوارہ سمجھ لیا تھا، لیکن گو نے کہا کہ ان کے پالتو کتے نے پٹہ اور جی پی ایس ٹریکر پہن رکھا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اس شخص نے کوئی معافی نہیں مانگی اور کہا: ’کتا مر چکا ہے، اس لیے شور مچانا بند کرو۔ میں نے قانون نہیں توڑا۔‘

گو نے چوتو کو 2018 میں اس وقت 2000 یوان، یعنی 300 ڈالر، میں خریدا تھا جب وہ تین ماہ کا پلا تھا۔ انہوں نے یہ معاملہ پولیس کو رپورٹ کیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔

جریدے ایچ کے زیرو ون کے مطابق، صوبہ ہینان کی ننگلنگ کاؤنٹی میں پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کیس نے چین میں آن لائن بڑے پیمانے پر غم و غصہ پیدا کیا ہے اور ملک کے جانوروں کی فلاح و بہبود کے قوانین پر بحث دوبارہ شروع کر دی ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’میں چوتو کی پرانی ویڈیوز دیکھتے ہوئے رو پڑا۔ اتنی روشن، زندہ روح کا انجام اتنا المناک ہوا۔ جن لوگوں نے اسے چوری کیا، مارا اور کھایا، انہیں اس کی قیمت چکانی چاہیے۔‘

ہیومن سوسائٹی انٹرنیشنل، ایچ ایس آئی، کے مطابق چین میں کتوں کے گوشت کی تجارت کے لیے ہر سال اندازا ایک کروڑ کتے مارے جاتے ہیں، جب کہ خیال کیا جاتا ہے کہ ملک کی 20 فیصد سے کم آبادی اسے کھاتی ہے۔

2016 میں ملک گیر سروے سے اشارہ ملا تھا کہ چینی شہریوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ کتوں کے گوشت کی تجارت پر مکمل پابندی ہونی چاہیے، جب کہ سروے میں شامل تقریباً 70 فیصد لوگوں نے کبھی یہ گوشت نہیں کھایا تھا، باوجود اس کے کہ تاجر اسے فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگرچہ چین کے کچھ شہروں نے کتوں اور بلیوں کا گوشت کھانے پر پابندی لگا رکھی ہے، ملک میں پالتو جانوروں کے تحفظ کا کوئی جامع قومی قانون نہیں ہے، اور پالتو جانوروں کو عام طور پر ملکیت سمجھا جاتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *