کراچی میں ڈی آئی جی ٹریفک کے حکم پر یکم جون سے لین ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائیٹیشن سسٹم (ٹریکس) کے مطابق پہلے ہی دن مجموعی طور پر 96 چالان جاری کیے گئے، جن میں بڑی بسیں، کوسٹر، ڈبل کیبن اور دیگر گاڑیاں شامل ہیں۔
ٹریکس کے انچارج ڈی ایس پی ملہیر خان کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں میں ٹریفک نظم و ضبط قائم کرنا اور سڑکوں پر حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا :’ٹریفک انفورسمنٹ کا مقصد شہریوں میں ڈسپلن قائم کرنا اور سڑکوں پر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اسی لیے ڈیجیٹل انفورسمنٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔‘
ڈی ایس پی کے مطابق شہر کی 14 کلومیٹر طویل شاہراہ فیصل کو ماڈل روڈ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جہاں لین سسٹم کا باقاعدہ نفاذ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ :’لین خلاف ورزی نظام کے نفاذ سے قبل ایک ماہ تک آگاہی مہم بھی چلائی گئی تاکہ شہریوں کو لین سسٹم اور اس کی تقسیم کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جا سکیں۔
تین لینز کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
ڈی ایس پی ملہیر خان کے مطابق شاہراہ فیصل پر تین واضح لینز مختص کی گئی ہیں :’دائیں جانب فاسٹ لین کاروں اور ڈبل کیبن گاڑیوں کے لیے، درمیانی لین بس ٹرک سمیت بڑی گاڑیوں کے لیے جبکہ بائیں جانب لین موٹر سائیکلوں کے لیے مختص ہے۔‘
انچارج ٹریکس کے مطابق جدید کیمرہ سسٹم ہر گاڑی کی لین مانیٹرنگ کرتا ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں خودکار ای چالان جاری کر دیا جاتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ :’لین خلاف ورزی پر موٹر سائیکل پر 5 ہزار روپے کا جرمانہ، کار اور ڈبل کیبن پر 10 ہزار روپے جبکہ بڑی گاڑیوں کیلئے 15 سے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیے جا رہے ہیں۔‘
نئے نظام پر شہریوں کی رائے منقسم
موٹر سائیکل چلانے والے شہری ریحان احمد نے اسے غیر عملی قرار دے دیا، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ :’کراچی میں آبادی اور ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ ہے، سڑکوں کی حالت بہتر کیے بغیر صرف چالان سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ جگہ جگہ کھڈوں کی وجہ سے گاڑیاں لین بدلنے پر مجبور ہوتی ہیں۔‘
دوسری جانب شہری فاروق احمد نے اس اقدام کو مثبت قرار دیا۔
انڈپینڈنٹ اردو کو انہوں نے بتایا کہ :’موٹر سائیکل سوار اکثر اپنی لین میں نہیں چلتے، جس سے حادثات بڑھتے ہیں۔ یہ اقدام ٹریفک نظم و ضبط بہتر کرے گا۔‘
