سنگاپور نے سکولوں کے لیے نئی تادیبی ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت دھونس جمانے (بُلیئنگ) کے قصور وار پائے جانے والے لڑکوں کو سزا کے طور پر چھڑی ماری جا سکتی ہے۔
وزارت تعلیم کے اعلان کردہ تازہ قواعد پر اس ہفتے پارلیمان میں بحث بھی ہوئی۔ ان قواعد کے تحت سکولوں کو اجازت ہو گی کہ اگر لڑکے دھونس جمانے کے قصوروار پائے جائیں تو انہیں ایک سے تین بار چھڑی ماری جا سکے۔
ان قواعد میں آن لائن دھونس جمانا بھی شامل ہے۔ وزیر تعلیم ڈیسمنڈ لی نے کہا کہ چھڑی کی سزا ’آخری راستے‘ کے طور پر دی جائے گی اور ’اگر بدسلوکی کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے باقی تمام اقدامات ناکافی ہوں۔‘
انہوں نے کہا یہ سکول طالب علم کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے سخت ضابطوں پر عمل کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر چھڑی مارنے کی منظوری پرنسپل کو دینی ہوتی ہے اور یہ سزا صرف مجاز اساتذہ ہی دے سکتے ہیں۔
’سکول طالب علم کی پختگی جیسے عوامل پر غور کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ کیا چھڑی کی سزا طالب علم کو اپنی غلطی سے سبق سیکھنے اور یہ سمجھنے میں مدد دے گی کہ اس نے جو کچھ کیا ہے وہ کتنا سنگین ہے۔‘
یہ سخت طریقہ کار طلبہ کے رویے کے بارے میں ایک سالہ جائزے کے بعد اپنایا گیا ہے اور یہ سنگاپور کے سکولوں میں دھونس جمانے کے کئی ایسے واقعات کے بعد سامنے آیا ہے جن کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہوئی اور جنہوں نے قومی سطح پر بحث چھیڑ دی۔
ڈیسمنڈ لی نے کہا کہ یہ اقدام صرف اپر پرائمری سکول کے لڑکوں، یعنی نو سے 12 سال کی عمر کے بچوں، اور اس سے بڑی عمر کے لڑکوں پر لاگو ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سنگاپور کے فوجداری طریقہ کار کے قوانین خواتین کو چھڑی مارنے کی اجازت نہیں دیتے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ سکول سزا پانے والے طالب علم کی ’فلاح اور پیش رفت‘ پر بعد میں بھی نظر رکھیں گے، جس میں مشاورت اور دیگر خدمات کی فراہمی بھی شامل ہو گی۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ دھونس جمانے کی قصوروار پائی جانے والی طالبات کو ’حراست یا معطلی، ان کے طرز عمل کے مطابق گریڈ میں تبدیلی اور سکول کی سطح پر دیگر سزائیں‘ دی جائیں گی۔
حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے سکولوں اور وسیع تر فوجداری نظام انصاف میں جسمانی سزا کے مسلسل استعمال پر سنگاپور کی مذمت کرتی رہی ہیں۔
تاہم سنگاپور کے حکام کا موقف ہے کہ چھڑی مارنا سنگین جرائم اور بدسلوکی کے خلاف ایک موثر روک تھام کا کام کرتا ہے۔
سنگاپور میں چھڑی مارنے کی سزا کا آغاز برطانوی نوآبادیاتی دور سے ہوا تھا، اگرچہ بعد میں خود برطانیہ نے جسمانی سزا ختم کر دی۔
آسٹریلیا نے بھی کئی دہائیاں پہلے سرکاری سکولوں میں چھڑی مارنے کی سزا مرحلہ وار ختم کر دی تھی، جبکہ کچھ نجی سکولوں نے یہ عمل 2000 کی دہائی کے اوائل میں ختم کیا۔
عالمی ادارہ صحت کی گذشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق ’اب اس بات کے بڑے سائنسی شواہد موجود ہیں کہ بچوں کو جسمانی سزا دینے سے نقصان کے کئی خطرات پیدا ہوتے ہیں اور اس کا کوئی فائدہ نہیں۔‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک بیان میں کہا کہ ’جسمانی سزا ایک ظالمانہ اور توہین آمیز سلوک ہے جسے بچوں کے خلاف کبھی استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
’شواہد یہ نہیں دکھاتے کہ چھڑی مارنا دھونس جمانے یا تشدد کو روکنے کا موثر ذریعہ ہے۔ اسے سنگاپور کے سکولوں اور نظام انصاف میں مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔‘
