ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ میں رات بھر جھڑپیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے اعلان کے باوجود پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

اے ایف پی کے مطابق رات گئے ہونے والی یہ جھڑپیں لبنان کے اس بیان کے بعد ہوئیں کہ ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے ’حملے دوطرفہ طور پر روکنے‘ کی امریکی تجویز قبول کر لی ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے متحارب فریقوں کو کشیدگی کم کرنے پر راضی کر لیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ دونوں فریقوں نے منگل کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات سے قبل لڑائی روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے انہیں کہا ہے کہ اسرائیل بیروت میں کوئی فوج نہیں بھیجے گا، جبکہ جو فوجی دستے پہلے ہی روانہ ہو چکے تھے انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔

 لبنان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت نے، جس میں شدید بمباری اور دو دہائیوں میں اس کی سب سے گہری زمینی دراندازی شامل ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ کی وسیع تر جنگ میں جنگ بندی کو ناکام بنانے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ایران کے سپریم لیڈر کی موت کے جواب میں حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل پر راکٹ داغ کر لبنان کو اس تنازعے میں دھکیل دیا تھا۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جائے۔


امریکہ سے معاہدے کے حتمی متن پر تہران میں بات چیت جاری: ایرانی میڈیا

دوسری جانب روئٹرز کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایک قریبی ذریعے نے منگل کو مہر نیوز کو بتایا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تنازع ختم کرنے کے مقصد سے لائے گئے مجوزہ حتمی معاہدے کا ابھی تک جواب نہیں دیا ہے، اور تہران میں حتمی متن پر بات چیت جاری ہے۔

ذریعے کا کہنا تھا کہ ایران اس تجویز کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہا ہے کیوں کہ اس کی نظر میں امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کی ایک تاریخ اور دیرینہ عدم اعتماد موجود ہے۔

ذریعے نے کہا: ’گذشتہ تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *