اسرائیل، لبنان کشیدگی میں بتدریج کمی کے لیے امریکہ نے نئی تجاویز پیش کر دیں

امریکہ نے اسرائیل اور لبنان میں کشیدگی کو بتدریج کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی تجویز کے مطابق پہلے مرحلے میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ اسرائیل پر تمام حملے روک دے گی، اور اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت میں مزید کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے گا۔

امریکی اہلکار کے مطابق اس اقدام سے بتدریج کشیدگی کم کرنے اور مؤثر جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صدر جوزف عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور اس پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری، جنہوں نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی یقین دہانی کرانے کا دعویٰ کیا، انہوں نے ذمہ داری اسرائیل پر ڈال دی کہ پہلے وہ حملے بند کرے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے دوران اپنی فوج کو لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کا حکم دیا ہے، حالانکہ چھ ہفتے سے زیادہ پہلے ایک جنگ بندی کا اعلان کیا جا چکا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تازہ پیش رفت میں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں تاریخی قلعے شقيف پر قبضہ کر لیا ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اتوار کو فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔

انہوں نے کہا ’لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تسلسل اور لبنانی علاقے پر اس کے بڑھتے ہوئے قبضے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔‘

بنان کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی اب تک کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 3,412 ہو گئی جبکہ 10,269 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت کے مطابق یہ مجموعی اعداد و شمار دو مارچ سے 31 مئی کے دوران ہونے والی اموات اور زخمیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *