شیرِ مُلک: عشق کا آخری مسافر

چترال کی وادیوں میں بعض نام ایسے ہیں جو تاریخ کی کتابوں میں کم اور لوگوں کے دلوں میں زیادہ محفوظ رہتے ہیں۔ شیرِ مُلک بھی ان ہی ناموں میں سے ایک ہیں۔

وہ کسی درس گاہ کے فارغ التحصیل نہ تھے، کسی دربار کے مورخ نہ تھے اور نہ ہی انہوں نے قلم و قرطاس کے ذریعے اپنے عہد کو محفوظ کیا، مگر ان کے دل پر عشق نے جو حروف کندہ کیے، وہ آج بھی کھوار ادب کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

شیرِ مُلک تحصیل ملکھو کے گاؤں نوگرام کے محلہ چھت میں حسن مُلک کے ہاں 1870 تا 1880 کے درمیان پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق رضاخیل قبیلے سے تھا۔ وہ رسمی تعلیم سے محروم تھے لیکن فطرت نے انہیں ایک ایسا حساس دل عطا کیا تھا جو لفظوں سے پہلے احساس کو سمجھتا تھا اور کتابوں سے پہلے زندگی کو پڑھتا تھا۔

ان کی زندگی کا اصل قصہ عشق سے شروع ہوتا ہے اور عشق ہی پر ختم ہوتا ہے۔ ان کے عشق میں مبتلا ہونے کے بارے میں دو روایات مشہور ہیں۔ پہلی روایت کسی لوک داستان کی طرح دل کش اور درد انگیز ہے۔

کہتے ہیں شیرِ مُلک یارخون کی طرف سفر کر رہے تھے۔ ایک چشمے کے کنارے ایک دوشیزہ پانی بھر رہی تھی۔ مسافر کو پیاس لگی تھی۔ اس نے پانی مانگا۔ لڑکی نے کٹورا بھر کر پیش کر دیا۔ شیرِ مُلک جب پانی پینے کے لیے جھکے تو پانی کی سطح پر ایک چہرہ لرز رہا تھا: ایسا چہرہ جس میں پہاڑی چاندنی کی نرمی، چشموں کی شفافیت اور جوانی کی تمام دل کشی سمٹ آئی تھی۔

اسی لمحے ان کے دل کی دنیا بدل گئی۔

وہ اس منظر کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں:

اوا ہارین لوڑاوا شیشہ پوشیتم نغشہ

ہزار بار غلام ہوتام ای لاکھ بار رُوموتے بارچھا

گویا پانی نہیں پی رہا تھا بلکہ آئینۂ آب میں حسن کا ایک ایسا نقش دیکھ رہا تھا، جس نے میرے وجود کی تمام سلطنتیں فتح کر لیں۔ یوں محسوس ہوا کہ اگر اس کا ساتھ مل جائے تو روم و ایران کی بادشاہت بھی ہیچ ہے اور اگر نہ ملے تو زندگی صدیوں کی غلامی سے زیادہ کرب ناک۔

شیرِ مُلک نے اس حسینہ کا سراغ لگایا، رشتہ بھیجا اور رشتہ منظور بھی ہو گیا، مگر قسمت کو شاید کچھ اور منظور تھا۔ شادی کے بعد معلوم ہوا کہ جس چہرے نے دل کو اسیر کیا تھا، اس کی بہ جائے اس کی بہن ان کے عقد میں آئی ہے۔

یہ لمحہ شاید ان کی پوری زندگی کا نقطۂ انقلاب تھا۔

اس کے بعد عشق ان کے لیے جذبہ نہیں رہا، مقدر بن گیا۔

دوسری روایت اس سے بھی زیادہ المناک ہے۔

کہا جاتا ہے کہ وہ خاتون ان کے سسرالی رشتہ داروں میں سے تھیں۔ ایک سفر کے دوران وہ اپنے شوہر کے ساتھ گھوڑے پر سوار جا رہی تھیں۔ راستے میں اتفاق سے گھوڑے کی باگیں شیرِ مُلک کے ہاتھ آگئیں۔ انہوں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو خاتون نے نقاب ہٹایا ہوا تھا۔

دو نگاہیں ملیں۔

بس ایک لمحہ۔

اور وہی لمحہ پوری زندگی پر محیط ہوگیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیرِ مُلک کے لیے یہ عشق کسی انتخاب کا نام نہ تھا، یہ تو ایک ناگہانی آفت تھی جو پہاڑی آسمان پر اچانک کوندنے والی بجلی کی طرح ان کے دل پر گری۔

وہ کہتے ہیں:

دُناؤ گُوروم بویان، تہ مئیلسو تے دوست، کیہ تہ مئیلیسوتے (ژان)

عشق امبولو مثال، کیہ وے ایواکُو درخت، کی چوکیت شُوم ہردی، نہ بیرُوؤ تے لاڑیر، نہ وارثو تے

کب وہ ساعت آئے گی جب تمہارے ساتھ بیٹھ کر دل کی بات کہہ سکوں؟ عشق تو ایک ایسے خودرَو درخت کی مانند ہے جس کی کوئی جڑ نہیں ہوتی۔ نہ یہ کسی اجازت کا پابند ہے اور نہ کسی نسبت کا محتاج۔ یہ جب آتا ہے تو دل پر اتر آتا ہے اور جب اتر آتا ہے تو پھر کوئی تدبیر کارگر نہیں رہتی۔

شاید اسی کیفیت کے لیے حالیؔ نے کہا تھا:

قیس ہو، کوہ کن ہو یا حالیؔ

عاشقی کچھ کسی کی ذات نہیں

یہ عشق رفتہ رفتہ شیرِ مُلک کے وجود کو کھاتا گیا۔ ایک زمانے کا آسودہ اور باوقار جاگیردار آہستہ آہستہ دنیا سے بے نیاز ہوتا گیا۔ پھر وہ دن آیا جب لوگ انہیں ان کے اصل نام سے کم اور ’گدیری لال‘ یعنی دیوانہ کہہ کر زیادہ پکارنے لگے۔

لیکن شیرِ مُلک نے اس نام کو رسوائی نہیں سمجھا، اپنے عشق کا تمغہ سمجھا۔

وہ کہتے ہیں:

گدیری نام متے نیسائے، تتے کیا فائدہ؟

لش کوری تان ووشکی ژینگیر، یہ عشقو قاعدہ

تمہارے عشق نے میرا نام، میری شناخت اور میرا سکون سب چھین لیا۔ لوگ مجھے دیوانہ کہتے ہیں، مگر عشق کا دستور ہی یہی ہے کہ پہلے دل کو اپنی گرفت میں لیتا ہے، پھر آدمی کو خود اس سے بے خبر کر دیتا ہے۔

اور ایک مقام پر گویا پوری دنیا کے عقل مندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

وطنہ کُھل روئے طھرار ای اوا گدیری اسوم

سُلوکان ہُش نو کوراک ہُومُورُو رویان کیہ جاشُوم

اگر عشق میں دیوانگی نہ ہو تو پھر وہ عشق کیسا؟ عقل مندوں کی دنیا میں شاید عشق کی کوئی قیمت نہ ہو، مگر محبت کے اسرار ان ہی دیوانوں پر کھلتے ہیں جو اپنا سب کچھ ہار دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

شیرِ مُلک کا کلام محض عشقیہ شاعری نہیں بلکہ ایک زخمی روح کی خود نوشت ہے۔ ان کے اشعار میں رومانویت بھی ہے، فلسفہ بھی، یاس بھی اور امید بھی۔ وہ محبوب کو صرف ایک فرد کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ حسن، آرزو اور ناممکن خواب کی علامت بنا دیتے ہیں۔

وہ محبوب کی ایک جھلک کے لیے سمندر پر پل تعمیر کرنے اور پتھروں سے تیل نکالنے کی بات کرتے ہیں۔ وہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش ایک پھول ہوتے اور محبوب کے دوپٹے سے بندھ جاتے۔ کبھی آرزو کرتے ہیں کہ محبوب کے آنگن کا ایک معصوم بلونگڑا ہوتے تاکہ اس کی قربت میسر آتی۔

یہ خواہشیں حقیقت سے زیادہ تخیل کی دنیا سے تعلق رکھتی ہیں، مگر یہی تخیل ان کی شاعری کو انفرادیت عطا کرتا ہے۔

ان کے ہاں تشبیہات کی ندرت بھی قابلِ توجہ ہے۔ ایک شعر میں محبوب کو چیتے کی پھرتی، شیر کی ہیبت، ہرن کی ادا اور انگریز کی چال ڈھال سے تشبیہ دینا محض شعری صنعت نہیں بلکہ ان کے مشاہدے کی وسعت کا ثبوت ہے۔

شیرِ مُلک کی شاعری کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی دکھ کو اجتماعی تجربہ بنا دیتے ہیں۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ شاعر اپنی نہیں، انسان کے ازلی فراق کی داستان سنا رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ان کا کلام زمانے کی گرد سے محفوظ رہا۔

شیرِ مُلک کی شاعری کا نمایاں وصف ان کی بے ساختگی اور جذبے کی سچائی ہے۔ وہ عشق کو محض محبوب تک رسائی کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک ایسی کٹھن راہ کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں رسوائی، جدائی، زمانے کی بے وفائی، رقیب کا طنز اور اپنی بے بسی سب ایک ساتھ چلتے ہیں۔ ان کے ہاں محبوب کی خوشی، چاہے وہ شاعر کے نصیب میں نہ ہو، ایک ایسی فراخ دلی کے ساتھ سامنے آتی ہے جو کھوار لوک شاعری میں کم کم دکھائی دیتی ہے۔

اسی طرح لیلیٰ و مجنوں جیسے کلاسیکی عشقیہ استعاروں کا برمحل استعمال ان کی شاعری کو مقامی روایت سے اٹھا کر وسیع ادبی روایت سے بھی جوڑ دیتا ہے۔

ان کے کلام میں تکلف سے زیادہ فطری پن، صنعت سے زیادہ احساس، اور لفظی آرائش سے زیادہ تجربے کی حرارت ملتی ہے۔ وہ کبھی خود کو خس و خاشاک سے تشبیہ دے کر اپنی بے مائیگی کا اعتراف کرتے ہیں، کبھی جان کو اللہ کی امانت قرار دے کر عشق کی اخلاقی حدود متعین کرتے ہیں اور کبھی رقیب پر طنز کے ذریعے انسانی فطرت کی ایک عام کمزوری کو شاعرانہ پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔

یہی سادگی، فکری دیانت اور جذباتی صداقت شیرِ ملک کے کلام کو محض ایک عاشق کی داستان نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے کھوار لوک ادب کے دیرپا سرمایہ میں تبدیل کر دیتی ہے۔

زندگی کے آخری ایام انہوں نے نہایت کسمپرسی میں گزرے۔

1954 کی ایک یخ بستہ رات تھی۔ چِلے کی سردی اپنے عروج پر تھی۔ برف آسمان سے نہیں، گویا موت کی خاموش چادروں کی طرح زمین پر اتر رہی تھی۔ شیرِ مُلک مہترِ چترال کے دربار سے واپس اپنے گاؤں جا رہے تھے۔ کوغذی پہنچے تو رات گہری ہو چکی تھی۔

ایک مسجد میں پناہ مانگی۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔

مگر ایک فقیر کے لیے دروازہ نہ کھلا۔

صبح جب لوگوں نے باہر قدم رکھا تو بید کے درخت کے سائے تلے ایک شخص برف میں ڈھکا بیٹھا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے سردی نے اسے ایک سفید مجسمے میں بدل دیا ہو۔

جب قریب جا کر ہلایا گیا تو گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔

شیرِ مُلک رات ہی رات اپنے طویل سفر پر روانہ ہو چکے تھے۔

خبر مہترِ چترال تک پہنچی اور پورا علاقہ سوگوار ہو گیا۔ پھر وہی فقیر، جسے رات پناہ نہ ملی تھی، مہترِ چترال کے حکم سے صرف کوغذی کے لوگوں کے کندھوں پر سزا کے طور پر پا پیادہ مگر انتہائی عزت و احترام کے ساتھ پچاس کلومیٹر دُور اپنے آبائی گاؤں نوگرام پہنچایا گیا۔ بہ صورتِ دیگر ایک گاؤں کی ذمہ داری میت کو صرف دوسرے گاؤں کے مکینوں تک پہنچانے کی ہوتی اور یوں کئی گاؤں والوں کی وساطت سے میت اپنی آخری آرام گاہ تک پہنچ جاتی۔

آج شیرِ مُلک مٹی کے نیچے سو رہے ہیں، مگر ان کی آواز اب بھی چترال کے پہاڑوں میں گونجتی ہے۔ ان کے گیت اب بھی چشموں کے شور، ہواؤں کی سرگوشیوں اور دل شکستہ انسانوں کی آہوں میں سنائی دیتے ہیں۔

بعض لوگ زندگی بھر زندہ رہ کر بھی بھلا دیے جاتے ہیں، مگر بعض لوگ ایک شکستہ دل کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو کر بھی صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔

شیرِ مُلک ان ہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *