چین نے اپنی سمندری طاقت بڑھانے، وسائل محفوظ کرنے اور علاقائی دعوؤں کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے دوران ایک ویڈیو میں ایک ایسے طیارہ بردار بحری جہاز کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس کا پہلا جوہری جہاز ہو سکتا ہے۔
پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) بحریہ کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر جاری ہونے والی اس ویڈیو میں ایسے خیالی افسروں کو دکھایا گیا ہے جن کے نام بحریہ کے تین زیر استعمال طیارہ بردار بحری جہازوں کی عکاسی کرتے ہیں یعنی لیاؤننگ، شانڈونگ، اور فوجیان۔
ویڈیو میں ’ہی جیان‘ نامی ایک 19 سالہ نوجوان کو اس گروپ میں شامل ہوتے دکھایا گیا ہے، جس سے عوامی سطح پر یہ چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ آیا یہ چوتھے جوہری طیارہ بردار بحری جہاز کی طرف اشارہ ہے۔
بحریہ کے اس نئے اہلکار کا نام مینڈارن زبان میں ’جوہری جہاز‘ کا ہم آواز ہے۔
چین میں اس وقت زیر استعمال تینوں جہاز روایتی توانائی سے چلتے ہیں اور ان کے پیننٹ نمبر بالترتیب 16، 17 اور 18 ہیں۔ نئے اہلکار کی عمر 19 سال ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ ’ہی جیان‘ بھی انہیں نمبروں کی ترتیب کا حصہ ہوگا۔
چینی فلم میں بحری اہلکاروں کی چار نسلوں کو دکھایا گیا ہے اور اس کا اختتام ایک علامتی ’ایسٹر انڈے‘ پر ہوتا ہے جو خود مختار تائیوان کے مین لینڈ چین کے ساتھ دوبارہ انضمام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
شی جن پنگ کی قیادت میں بیجنگ نے تائیوان کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کیا ہے اور جزیرے کے گرد فوجی سرگرمیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
سرکاری میڈیا گلوبل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ ’پی ایل اے بحریہ کی اشتہاری فلموں میں ایسٹر انڈہ ایک طرح کی روایت بن گیا ہے، اور اس تازہ ترین ریلیز کا اختتام علامتوں سے بھرپور ہے۔‘
ویڈیو میں ایک بحری افسر اور ان کے بیٹے شیاؤ وان کے درمیان ہونے والی گفتگو دکھائی گئی، جس میں بیٹے کا نام تائیوان کی طرف ایک اشارہ ہے۔ لڑکا ویڈیو میں کہتا ہے، ’میں ابھی گھر نہیں جانا چاہتا۔ میں تھوڑی دیر اور باہر کھیلنا چاہتا ہوں۔‘
اس کے والد جواب دیتے ہیں کہ ’شیاؤ وان، ضد مت کرو۔ ماں گھر پر تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ چلو گھر چلیں۔‘
بیجنگ ’بلیو واٹر نیوی‘ بنانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے جو اسے اپنے ساحلوں سے دور تک طاقت کا مظاہرہ کرنے کے قابل بنائے گی۔ یہ 2012 سے اس کا ایک ہدف ہے، جب صدر شی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے رہنما بنے تھے۔
ویڈیو کے ایکشن مناظر میں بحرالکاہل میں فوجی مشقیں اور حملے دکھائے گئے۔
گذشتہ سال دسمبر میں جاری ہونے والی پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین کا ہدف 2035 تک اپنی بحریہ کو نو طیارہ بردار بحری جہازوں تک بڑھانا ہے، جب کہ اس وقت اس کے تین جہاز زیر استعمال ہیں۔
امریکی جائزے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی بحریہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہندبحرالکاہل میں طیارہ بردار بحری جہازوں کے سب سے بڑے اضافے کی قیادت کرے گی، جس کا مقصد اپنے بیڑے کو تین گنا کرنا ہے۔
پینٹاگون کے تخمینے کے مطابق چین 2035 تک نو طیارہ بردار بحری جہاز میدان میں لائے گا، یعنی تقریباً ہر 20 ماہ میں ایک جہاز، جبکہ بیجنگ ملک کے ارد گرد کے پانیوں میں مزید جارحانہ ہو گیا ہے۔
چین کا چوتھا طیارہ بردار بحری جہاز، جسے وسیع پیمانے پر ٹائپ 004 کے نام سے جانا جاتا ہے، اطلاعات کے مطابق ڈالیان شپ یارڈ میں زیر تعمیر ہے۔
توقع ہے کہ یہ طیارہ بردار بحری جہاز پہلا جوہری توانائی سے چلنے والا جہاز ہوگا، جس میں ممکنہ طور پر دو ری ایکٹر نصب ہوں گے، جو بیجنگ کی بحری صلاحیتوں میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔
1945 ویب سائٹ کے مطابق توقع ہے کہ یہ جہاز ایک لاکھ 10 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار ٹن وزن کے ساتھ ایک انتہائی بڑا سپر کیریئر ہوگا، جس سے 100 سے زائد طیارے اڑان بھرنے کے قابل ہوں گے۔
توقع ہے کہ اس میں الیکٹرو میگنیٹک کیٹاپلٹس نصب ہوں گے جو جے-35 اور کے جے-600 جیسے جدید طیاروں کو لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، بالکل اسی طرح جیسے امریکی طیارہ بردار جہازوں پر ای-2 سی/ ڈی ہاک آئی استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی بحریہ کے پاس 11 طیارہ بردار جہاز موجود ہیں، جن میں ایک جدید یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ بھی شامل ہے، جو 70 سے زائد طیاروں کو لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چین کی قدرتی وسائل کی وزارت نے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں چین کی ملکیت کے دعوے والے 11 ہزار سے زائد جزیروں کے ‘تحفظ’ کے لیے مزید کوششوں پر زور دیا ہے۔
2018 کے ایک سرکاری چینی اعداد و شمار کے مطابق، ان میں سے زیادہ تر جزیرے ساحل سے 100 کلومیٹر کے اندر واقع ہیں، جن میں تقریباً 60 فیصد بحیرہ مشرقی چین، 30 فیصد کے قریب بحیرہ جنوبی چین اور باقی بحیرہ بوہائی اور زرد سمندر میں واقع ہیں۔
چین نے گذشتہ برسوں کے دوران بحیرہ جنوبی چین کے متنازع پانیوں میں زمین کی بحالی کی وسیع کوششوں کے تحت مصنوعی جزیرے، ہوائی پٹیاں اور فوجی تنصیبات تعمیر کی ہیں۔
گذشتہ ستمبر میں، بیجنگ نے فلپائن کے ساتھ طویل عرصے سے تنازع کا مرکز بنے متنازع سکاربرو شول پر اپنا دعویٰ مضبوط کرنے کے لیے اسے قومی نیچر ریزرو قرار دیا تھا۔
سی ایس آئی ایس تھنک ٹینک کے گریگوری پولنگ نے کہا کہ ’ان کے مصنوعی جزیروں پر موجود اڈوں کی سہولیات نے چینی قانون نافذ کرنے والے اداروں، بحریہ اور ملیشیا کے جہازوں کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ سال کا ہر دن چینی ساحل سے ایک ہزار ناٹیکل میل دور تک اپنے پڑوسیوں کے پانیوں میں گشت کرتے رہیں۔‘
