آٹھ گھنٹے کی نیند کے بعد بھی ہم تھکا ہوا کیوں محسوس کرتے ہیں؟

نئی تحقیق کے مطابق روزانہ کافی پینے سے کم گہری نیند آ سکتی ہے۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ کیفین دماغی سرگرمی کو کمزور کر سکتی ہے جو بحالی اور تازگی سے جڑی ہوتی ہے۔

تحقیق کا بڑھتا ہوا دائرہ ظاہر کرتا ہے کہ نیند کا معیار دورانیے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، خاص طور پر دماغ کے لیے۔

مطالعات یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ سست دماغی لہریں ’گہری نیند‘ کا ایک اہم جزو ہیں، وہ مرحلہ جو جسمانی بحالی اور درست ادراکی افعال کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق، کیفین گہری نیند پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

جرنل نیوٹرینٹس میں شائع ہونے والی تحقیق کی مصنفہ ڈوناتا کورپاس نے کہا کہ ’کیفین نیند کو کم کر سکتی ہے یا سونے کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔‘

’تاہم، یہاں تک کہ جب نیند کا دورانیہ معمول کے مطابق نظر آئے، یہ سست لہری سرگرمی کو کم کر سکتی ہے اور EEG پیٹرن کو زیادہ جاگنے والی حالت کی طرف منتقل کر سکتی ہے۔‘

اس کا مطلب ہے کہ یہاں تک کہ جب باقاعدگی سے کافی پینے والے آٹھ گھنٹے بستر پر گزارتے ہیں، ان کا دماغ مکمل طور پر دوبارہ بحال نہیں ہو پاتا۔

وروتسواف میڈیکل یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر کورپاس نے کہا کہ ’ایک شخص بغیر کسی بڑی مشکل کے سو سکتا ہے اور جاگنے کے لمحات کو یاد نہ رکھے، جبکہ دماغ گہری نیند کی کم خصوصیات ظاہر کرتا ہے۔‘

کافی کے اثرات افراد میں ان کی جینیات، میٹابولک رفتار، عمر، ذہنی دباؤ اور دائمی تھکن کی سطح کے مطابق نمایاں طور پر مختلف ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ چوکسی میں اضافہ کر سکتی ہے اور تھکن کے احساس کو کم کر سکتی ہے، بعض اوقات اس کے اثرات ایسے ہو سکتے ہیں جیسے رات کی بحالی کی قیمت پر توانائی مستعار لی جا رہی ہو۔

ڈاکٹر کورپاس نے کہا کہ ’کچھ لوگوں کے لیے، دن کے دوران استعمال ہونے والی کیفین کی کل مقدار اور یہ کہ جسم کو رات سے پہلے اسے جزو بدن بنانے کے لیے کافی وقت ملتا ہے یا نہیں، اہم ہو سکتا ہے۔

’اگر کیفین کسی شخص کو دن کے دوران کام کرنے میں مدد دیتی ہے اور ساتھ ہی رات کے وقت بحالی کے معیار کو خراب کرتی ہے، تو ایک شیطانی دائرہ بن سکتا ہے: زیادہ تھکن، زیادہ محرک کی ضرورت اور ناقص نیند۔‘

محققین نے دماغ کی برقی سرگرمی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے EEG (دماغ میں برقی سرگرمی جانچنے کا ٹیسٹ) کا استعمال کیا۔ EEG سائنسدانوں کو یہ دیکھنے کی اجازت دیتا ہے کہ نہ صرف کوئی شخص سو رہا ہے بلکہ یہ بھی کہ دماغ کیسے سو رہا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر کورپاس نے کہا کہ ’روایتی نیند کے جائزے نیند کے دورانیے اور اس کے مراحل کی پیمائش کرتے ہیں، جبکہ مقداری EEG تجزیہ زیادہ باریک تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے، جیسے سست لہری سرگرمی میں کمی۔‘

محققین نے 1980 سے 2026 کے درمیان کیے گئے 32 مطالعات کے ڈیٹا کو جمع کیا اور جانچا تاکہ کیفین کے اثر یا استعمال اور شرکا کی نیند سے متعلق نتائج کے درمیان تعلق کو سمجھا جا سکے۔

انہوں نے مسلسل پایا کہ کیفین کم فریکوئنسی والی گہری نیند کی سرگرمی، خاص طور پر سست دماغی لہروں کی سرگرمی کو دبا دیتی ہے۔

تحقیق کے مطابق: اس سے ’ہلکی، زیادہ بیدار اور زیادہ جاگتی ہوئی جیسی نیند کا EEG پروفائل پیدا ہوتا ہے۔ یہ اثرات خاص طور پر رات کے ابتدائی NREM نیند کے دوران اور نیند کی کمی کے بعد بحالی کی نیند میں زیادہ نمایاں تھے۔‘

تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ باقاعدگی سے کافی پینا نیند کے نظام کو ’ایک زیادہ تحریکی غلبے والی حالت‘ کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔‘

محققین امید کرتے ہیں کہ مزید مطالعات کیے جائیں، جن میں بڑے اور زیادہ متنوع شرکا کے نمونوں کو ترجیح دی جائے تاکہ کیفین کی وجہ سے ہونے والی EEG تبدیلیوں کے حقیقی دنیا کے عملی اثرات کو واضح کیا جا سکے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *