وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے جمعے کو کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ امن معاہدہ صرف اسی صورت میں کریں گے جب وہ ان کی تمام شرائط پر پورا اترے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’سچویشن روم کا اجلاس ختم ہو گیا ہے اور یہ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔ صدر ٹرمپ صرف ایسا معاہدہ کریں گے جو امریکہ کے لیے بہتر ہو اور ان کی طے شدہ حدود کو پورا کرتا ہو۔ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔‘
قبل ازیں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کے ساتھ ایران سے معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔
وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا تھا کہ ٹرمپ ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے فیصلے کے قریب ہیں جب کہ تہران نے اس بات پر اصرار کیا کہ مشرق وسطی کے تنازعے کے خاتمے پر ابھی تک کوئی ’حتمی معاہدہ‘ نہیں ہوا۔
ایران کے سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ نے معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ کی وضاحت کے کئی اہم پہلوؤں کو بھی مسترد کر دیا اور ٹرمپ کے ریمارکس کو ’سچ اور جھوٹ کا آمیزہ‘ قرار دیا۔
امریکی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لینے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دینے والے تنازعے پر کئی ہفتوں کے تعطل کا شکار مذاکرات کے بعد، معاہدہ ٹرمپ کی منظوری کا منتظر تھا۔
ٹرمپ نے جمعے کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں دو گھنٹے کے اجلاس میں شرکت کی لیکن وہ کسی فیصلے پر نہیں پہنچے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ میں اجلاس کا اعلان کیا تھا، جس میں ان دیرینہ مطالبات کا اعادہ کیا گیا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر راضی ہو اور جہاز رانی کے اہم راستے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جوابی ردعمل دیتے ہوئے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ ایران نے ’47 سال قبل حکم کی زبان کو خیرباد کہہ دیا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، لیکن ’ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔‘
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، قطر کے امیر کے ساتھ فون پر بات چیت میں، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’باقار فریم ورک‘ کے لیے تیار ہے۔
اپنی پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائے اور ’بغیر کسی محصول‘ کے آبی راستے کی ناکہ بندی ختم کرے جب کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی اپنی متوازی ناکہ بندی اٹھا لے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایران کے افزودہ یورینیم کو ہٹانے اور تلف کرنے پر بھی ہم آہنگی پیدا کریں گے، اور انہوں نے مزید کہا کہ ’اگلے نوٹس تک، کسی رقم کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔‘
تاہم، ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تہران مذاکرات کے اگلے مرحلے کی طرف بڑھنے سے پہلے ’منجمد ایرانی اثاثوں کے 12 ارب ڈالر کے فوری اجرا‘ کا مطالبہ کیا
آبنائے ہرمز کو بغیر محصول کے دوبارہ کھولنے کے بارے میں، ذرائع نے کہا کہ ’معاہدے کے متن میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے۔‘ جب کہ ایران کے ایٹمی مواد کو تباہ کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کا تبصرہ ’بنیادی طور پر بے بنیاد ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی کو یہ بھی بتایا کہ فی الحال ایران کے ایٹمی پروگرام پر ’کوئی مذاکرات‘ نہیں ہو رہے ہیں، کیوں کہ ایران کے اعلی سفارت کار نے اشارہ دیا کہ امریکہ مذاکرات کے حوالے سے اپنے طرز عمل کے ذریعے معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
