’وقت کا محافظ‘: کراچی کے احمد انور نے گھر کو میوزیم بنا دیا

کراچی کے علاقے پاکستان چوک کی مصروف گلیوں کے بیچ ایک ایسی دنیا آباد ہے جہاں وقت تھم سا گیا ہے۔

تنگ سیڑھیوں سے گزرتے ہوئے جب آپ سرائے کوارٹرز کی دوسری منزل تک پہنچتے ہیں، تو ایک دروازہ آپ کا استقبال کرتا ہے جس پر فارسی میں درج ہے: ’کسب کمال کن عزیز جہاں شوی۔‘

 یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ اس گھر کے مکین کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔

یہ گھر ہے احمد انور کا، جنہوں نے اپنے شوق کو جنون اور جنون کو ایک جیتا جاگتا میوزیم بنا دیا ہے۔

دروازہ کھلتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے کسی اور زمانے میں قدم رکھ دیا ہے۔ لکڑی کی چھتیں، دیواریں اور بالکونی سب ماضی کی داستانیں سناتے ہیں۔

 یہی وہ بالکونی ہے جہاں سے احمد انور نے پاکستان کے ابتدائی دنوں کی تصویریں محفوظ کیں، جب سڑکوں پر وکٹوریا گاڑیاں چلا کرتی تھیں اور شہر ایک نئی شناخت تراش رہا تھا۔

احمد انور نے انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے انٹرویو میں اپنے شوق پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ سفر آج کا نہیں بلکہ ان کے بچپن سے شروع ہوا، جب ان کے والد پرانے سکے اور مہریں جمع کیا کرتے تھے۔ ’اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے میرے پاس 70 ممالک کے قدیم سکے موجود ہیں۔‘

انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا: ’پیشے کے اعتبار سے میں ایک آرٹسٹ ہوں، مگر حقیقت میں وقت کا محافظ بھی ہوں۔ میرے لیے یہ اشیا محض کلیکشن نہیں، میری پہچان ہیں، زندگی کا حاصل ہیں۔‘

تین کمروں پر مشتمل ان کا گھر تہذیب، فن اور یادوں کا سنگم ہے۔ یہاں ڈیڑھ سو سال پرانا گراموفون بھی رکھا ہے، جو برصغیر کی نوآبادیاتی فضا کی گونج سناتا ہے۔

80 سال پرانا ریڈیو، قدیم لالٹینیں اور نایاب کیمرے بھی ہیں، جن کی ایک وسیع کلیکشن ان کے شوق کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دیواروں پر آویزاں منی ایچر پینٹنگز صرف فن پارے نہیں، بلکہ احمد انور کے اپنے ہاتھوں کی تخلیق ہیں۔ ان کے اس گھر نما میوزیم میں موجود قیمتی پتھر، نایاب میگزینز اور راجستھان و انڈیا رام پورکے قدیم سروطے سب مل کر ایک ایسی کہانی بناتے ہیں، جو سرحدوں سے ماورا ہے۔

بقول احمد انور: ’دیکھنے والوں کے لیے تو یہ محض ریڈیوگرام ہے، سامان ہے، گھڑیاں ہیں، لوگوں کے لیے یہ چیزیں بے جان ہیں مگر میرے لیے ہر چیز زندہ ہے، ہر چیز کی اپنی کہانی ہے۔ میرے لیے یہ میری زندگی ہے۔ میں نے یہ سب بڑی محبت سے، بڑے پیار سے جمع کیا ہے۔‘

کیا یہ نوادرات پاکستان میں محفوظ رہ پائیں گے؟

اس سوال پر وہ کچھ لمحے خاموشی ہوگئے، پھر انہوں نے ایک تلخ حقیقت بتائی: ’آپ کو شاید یہ سن کر حیرت ہو مگر ہمارے لیے یہ سب بیرونِ ملک بھیج دینا بہت آسان ہے۔

’میں کسی بھی ایمبیسی سے کہوں، وہ فوراً تیار ہو جائیں گےکیونکہ اتنا بڑا کلیکشن کسی کے پاس ایک جگہ پر نہیں ہوتا، لیکن مسئلہ یہ نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسے یہاں کیسے بچایا جائے؟ کیسے محفوظ رکھا جائے تاکہ آنے والے لوگ اسے دیکھ سکیں؟‘

اس موقعے پر ان کی آواز میں بے بسی صاف محسوس ہوئی۔

’میرے اپنے گھر میں مزید سامان رکھنے کی اور جو سامان پیک ہے انہیں نکالنے کی جگہ نہیں بچی۔ آج یہ حالات ہیں کہ میرے پاس سونے کی جگہ نہیں ہوتی۔ گھر کے اندر میں فرش پر سوتا ہوں۔ چاروں طرف میرے کتابیں ہوتی ہیں یا یہ سامان ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’گھر والے کہتے ہیں کہ یہ سب نکال دو، جگہ بناؤ۔ وہ پوچھتے ہیں کہ میرے بعد اس سب کا کیا ہوگا؟ اور سچ پوچھیں تو میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’یہ جو عمارت ہے، یہ ثقافتی ورثہ ہے۔ حکومت ہمارے پیروں کے نیچے سے زمین نکال رہی ہے، اس ہیریٹیج بلڈنگ کو نہیں فروخت ہونا چاہیے لیکن یہ ہیریٹیج بلڈنگ بک چکی ہے۔ اگر کل مجھے یہاں سے نکال دیا گیا تو میں کہاں جاؤں گا، اس سب کے ساتھ؟‘

وہ اپنے فن کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ’میری کچھ پینٹنگز ایسی ہیں جو دوبارہ نہیں بن سکتیں۔ مجھے لالٹینوں کا بہت شوق ہے شاید اس لیے کہ میں خود لالٹین کی روشنی میں بڑا ہوا ہوں۔ میرے پاس 60، 70 لالٹینیں ہیں، کچھ ابھی بھی پیک کر کے رکھی ہوئی ہیں۔‘

احمد انور نے بتایا کہ ’وقت گزر رہا ہے اور جو لوگ ان چیزوں کی مرمت کرتے تھے، وہ اب نہیں رہے۔ یہ چیزیں بھی آہستہ آہستہ خاموش ہو رہی ہیں۔‘

انہوں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا بھر میں ایسی کلیکشنز کو جگہ دی جاتی ہے، عجائب گھروں کی زینت بنایا جاتا ہے۔

’ترکی والے، ایران والے، جرمنی، فرانس سب نے مجھ سے رابطہ کیا جہاں جہاں میں نے اس سامان کی نمائش لگائی، تو پاکستان کی حکومت کیوں اس کی قدر نہیں جانتی۔ میں تو پاکستان میں ہی رہتا ہوں پھر بھی؟‘

آخر میں انہوں نے کہا: ’میں چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان نوادرات کو محفوظ جگہ مل جائے کیونکہ یہ وہ چیزیں ہیں جو میں چاہتا ہوں کہ آنے والی نسلیں انہیں دیکھیں اور پرانے ادوار کی جھلکیوں کو پہچانیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *