جنگیں اور ہماری منگولی فطرت

مہذب دنیا کے انسان منگولوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے انسانیت کو قتل و غارت گری اور تباہی و بربادی کے تحائف دیے لیکن کیا ہم ان سے مختلف ہیں؟

 اگر ہم لبنان، غزہ، شام، یمن، سوڈان اور جنگ سے تباہ شدہ دوسرے کئی معاشروں کا تجزیہ کریں تو ہمیں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ ہم منگولوں کے اجتماعی سزا کے فلسفے اور جنگی پالیسی پہ عمل پیرا ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ منگولوں کو خون خرابہ اور قتل غارت گری میں بڑا مزہ آتا تھا۔ وہ بستیوں کو اجاڑنے اور تہذیبوں کو مٹانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ بے دریغ قتل کرنا ان کا مشغلہ تھا۔

اس منگولی فلسفے کے تحت انسانیت نے 75 ہزار سے زیادہ خواتین، بوڑھوں، بچوں اور دوسرے شہریوں کا قتل عام غزہ میں دیکھا جب کہ یمن کا انسانی المیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہماری سفاکی منگولوں سے مماثلت رکھتی ہے۔

 سوڈان میں متحرب گروپوں کی لڑائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بربریت میں ہم منگولوں سے کوئی کم نہیں ہیں۔

اسی طرح شام میں جس طرح داعش اور دوسرے گروپوں نے انسانوں کے بے دردی سے گلے کاٹے یا انہیں اذیت دے کر جان سے مارا وہ ہماری منگولی سنگدلی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

یہ صرف حالیہ عشروں کی لڑائیاں ہی نہیں ہیں بلکہ 90 کی دہائی میں ہم نے روانڈا میں انسانوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں۔

90 کی ہی دہائی میں سابقہ یوگو سلاویہ میں ہم نے آگ و خون کی ہولی دیکھی جس میں بڑے پیمانے پر مسلمان خواتین کی عصمت دری بھی کی گئی۔

اس سے پہلے انسانیت نے افغانستان، ویت نام، لاؤس، کمبوڈیا سمیت کئی دوسرے علاقوں میں بھی اپنے ہی جیسے انسانوں کا بڑے پیمانے پہ قتل عام کیا۔

ویت نام کی جنگ میں 30 لاکھ سے 70 لاکھ کے قریب لوگ انسانی ظلم کا نشانہ بنے۔

جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کی جنگ میں 30 لاکھ کے قریب لوگ جنگ کی آگ کا ایندھن بنے جب کہ جنگ کی آگ کے شعلوں نے لاؤس اور کمبوڈیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔

یہ ساری اموات اس حقیقت کے باوجود تھیں کہ ہم دوسری عالمی جنگ میں تقریبا سات کروڑ انسانوں کو موت کی طرف دھکیل چکے تھے اور اس سے پہلے جنگ عظیم اول میں بھی ہم نے دو کروڑ سے زیادہ انسانوں کو خاک و خون میں نہلایا تھا۔

مزید پیچھے جائیں تو سترویں صدی کی 30 سالہ جنگ جس میں 30 لاکھ سے 80 لاکھ کے قریب افراد کو ہم نے اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔

اس کے علاوہ یورپ میں مسیحیت کے مختلف فرقوں نے جو ایک دوسرے کو گاجر مولی کی طرح کاٹا، ایک دوسرے کی بستیوں پہ حملے کیے یا ایک دوسرے کو زندہ جلانے کی کوشش کی وہ بھی ہماری چنگیزی فطرت کی ایک الگ داستان ہے۔

منگولوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دشمن کی ہمت توڑنے کے لیے شہروں کو تخت و تاراج کرتے تھے، دیہات کو اجاڑتے تھے اور سروں کے مینار تعمیر کرتے تھے۔

اور اگر یہ سب کچھ ناممکن ہو تو محاصرہ کر کے ان کو بھوک سے مرنے پر مجبور کرتے تھے۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو تہذیب و تمدن کے تمام دعووں کے باوجود آج کے مہذب انسان بھی تقریبا یہی کچھ کر رہے ہیں۔

ہم نے 15 صدی میں جدید دور کے ابتدا میں ہی جنوبی، وسطی اور شمالی امریکہ میں مختلف ممالک میں کروڑوں کی تعداد میں انسانوں کو موت کی وادی کی طرف دھکیلا۔

کچھ اعداد و شمار تو یہ بھی کہتے ہیں کہ تہذیب و تمدن کی اس ترقی میں پانچ کروڑ سے زیادہ مقامی لوگ بیماریوں، نسل کشی اور قتل و غارت گری کا نشانہ بنے۔

برطانوی ہندوستان، فرانس کے زیر انتظام الجزائرو دوسرے ممالک، بیلجیم کے ماتحت کانگو سمیت دنیا کے دوسرے علاقوں میں جدید مہذب انسان نے مفتوحہ اقوام کی قوت ارادی کو توڑنے کے لیے منگولوں سے بھی زیادہ ظلم و ستم کیے۔

ایسی پالیسیاں بنائیں جو بڑے پیمانے پر اموات کا سبب بنی جیسا کہ بنگال، بہار اور اڑیسہ کے قحط جس میں ساڑھے تین کروڑ کے قریب انسانوں کو موت کا سامنا کرنا پڑا۔

سامراجی ملکوں نے صرف مفتوحہ اقوام کے ساتھ یہ رویہ نہیں رکھا بلکہ جدید دور کے مہذب ممالک نے ایک دوسرے پر بھی خون آشوب جارحیت مسلط کی۔ برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے کئی علاقوں میں بمباری کرکے شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا۔

امریکہ نے جاپانیوں کی ہمت کو توڑنے کے لیے ہیروشما اور ناگا ساکی پر بم برسائے جب کہ جرمنی نے برطانیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے شہری علاقوں کو ہدف بنایا۔

ان سارے واقعات میں لاکھوں کی تعداد میں انسان جنگ کی آگ کا ایندھن بنے۔ جدید انسان شاید یہ دعوی کرے کہ وہ منگولوں کی طرح اپنے دشمن کا محاصرہ کر کے ان کو فاقوں سے مرنے پہ مجبور نہیں کرتا۔

اگر غور سے دیکھا جائے تو ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ طاقتور ملکوں کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیاں کسی بھی ملک کے شہریوں کے لیے سب سے بڑا عذاب بن کر اترتی ہیں۔

ان پابندیوں میں بعض اوقات اقوام متحدہ کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن کئی معاملات میں یہ یک طرفہ بھی ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر امریکہ کی طرف سے عراق پر لگائی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے وہاں پانچ لاکھ سے زائد بچوں کی اموات ہوئیں۔

ان اموات کا کچھ امریکی انتظامیہ کے عہدے داران نے بے شرمی سے دفاع بھی کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بالکل اسی طرح غذائی قافلوں کو حالیہ جنگ میں غزہ کی طرف جانے سے روکنے کا اسرائیلی عمل یا اسپتال و سکولوں اور پانی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عمل بھی منگولوں کے محاصرے کی پالیسی کا ہی تسلسل ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اندر کی سفاکی کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان لمحات کو یاد کریں کہ جب عقل نے مختصر وقت کے لیے ہماری شعور کو جھنجوڑ کر ہمیں اقوام متحدہ بنانے پہ مجبور کیا تھا جس میں ہم نے جنگوں سے بچنے اور طاقت کی دھمکی نہ دینے کا عہد کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ انسان کی اصل خباثت جنگوں کے دوران نظر آتی ہے۔ جنگ اس کے مادی اسباب پیدا کرتی ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس منگولی روش کو ترک کریں اور حتی المقدور کوشش کریں کہ جنگ اور طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے۔

 اور بالفرض ایسا کرنا پڑ بھی جائے تو ہر صورت میں اس اجتماعی سزا کے فلسفے سے اجتناب کرنا چاہیے جس میں عام شہری کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ہمیں منگولوں کی بربریت کو اپنا مطمع نظر نہیں بنایا جائے۔ ورنہ مستقبل کا مؤرخ ہمیں بھی چنگیز، ہلاکو اور امیر تیمور کی وراثت کا امین قرار دے گا۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *