تائیوان پر امریکہ چین تنازع ایٹمی بحران کا سبب بن سکتا ہے: تحقیق

تائیوان کی حمایت  پر بیجنگ کی جانب سے واشنگٹن کو سخت وارننگ جاری کیے جانے کے بعد، دفاع کے ایک نئے جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر امریکہ اور چین کے درمیان فوجی تنازع تیزی سے ایک ایٹمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

لندن میں واقع دفاعی تحقیق کی تنظیم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے دہانے پر ہے ’جس کا مرکز ایشیا بحرالکاہل ہے۔‘

یہ جائزہ ایشیا کی سب سے بڑی دفاعی کانفرنس، سالانہ شنگریلا ڈائیلاگ کے دوران جاری کیا گیا، جو اس ہفتے کے آخر میں سنگاپور میں ختم ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’علاقائی ریاستیں اور سٹریٹجک مفادات رکھنے والے ممالک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے بڑھا رہے ہیں جبکہ ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے والی ریاستیں طویل فاصلے تک مار کرنے والے روایتی حملے کی صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور یہ دونوں چیزیں سٹریٹجک استحکام کے لیے چیلنج ہیں۔‘

چین تائیوان کو اپنا الگ ہونے والا صوبہ سمجھتا ہے اور اس جزیرے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیتا، اگرچہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ’پرامن انضمام‘ کو ترجیح دیتا ہے۔ تائیوان کی جمہوری طور پر منتخب حکومت بیجنگ کے حاکمیت کے دعووں کو مسترد کرتی ہے۔

چین جزیرے کے ارد گرد اپنی فوجی موجودگی بڑھا کر تائیوان پر دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے، جس نے تائی پے کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔

جمعرات کو چین کی وزارت خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے تائیوان کی آزادی کی سخت مخالفت ضروری ہے۔

اس نے امریکہ پر بھی زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی باہمی مفاہمت کا احترام کرے اور اس پر عمل درآمد کرے۔

نیا جائزہ انڈو پیسفک کے خطے میں بدلتی ہوئی فوجی حکمت عملیوں اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر کوئی تنازع کس طرح آگے بڑھ سکتا ہے۔

اس میں دلیل دی گئی ہے، ’بیجنگ کے لیے تائیوان کی سٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر، چین کے ساتھ تنازع کے بڑھنے کا خطرہ ہو گا، جو ممکنہ طور پر ایٹمی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔‘

’فی الحال ایسے بہت کم عوامی شواہد موجود ہیں جن سے یہ ظاہر ہو کہ دونوں افواج ان ضروری حفاظتی اقدامات کو سمجھتی ہیں جو انہیں روک سکیں، یا جنگ کے ان اصولوں سے واقف ہیں جو دونوں فریقین کو ممکنہ طور پر ایک دوسرے کے اہم کمانڈ، کنٹرول، مواصلات، کمپیوٹرز، انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے مراکز کو نشانہ بنانے سے باز رکھیں۔‘

جائزے کے آخر میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ’اس طرح کا بڑے امریکہ چین تنازعے میں ایٹمی کشیدگی بڑھنے کا امکان بدستور منڈلاتا رہے گا۔‘

شنگریلا ڈائیلاگ 19 سے 31 مئی تک جاری رہے گا، اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ ہفتے کو اس تقریب سے خطاب کریں گے۔

چین نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا اس کے وزیر دفاع ڈونگ جون اس میں شریک ہو رہے ہیں یا نہیں۔

کانفرنس میں ہونے والی بات چیت میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ساتھ ساتھ، تائیوان کے مستقبل اور خطے کے اہم کھلاڑیوں کے ساتھ امریکی وعدوں کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کے نمایاں طور پر زیر بحث آنے کی توقع ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب رواں ماہ کے اوائل میں امریکی صدر کے اپنے ایشیائی حریف کے تاریخی دورے کے دوران، چینی رہنما شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے براہ راست تائیوان کے حوالے سے بیجنگ کی ریڈ لائنز کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں کی پہلی ہی ملاقات میں تائیوان کا معاملہ نمایاں رہا۔ شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ تائی پے کے لیے امریکی حمایت کسی تصادم یا یہاں تک کہ جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

اس ملاقات کے بعد، واشنگٹن نے تائیوان کو 14 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت معطل کر دی۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اشارے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بیجنگ کے ساتھ مستقبل کی بات چیت میں تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو ’سودے بازی کے مہرے‘ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے سینئر فیلو ڈینیل سیلسبری نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ اور شی کے درمیان سربراہی ملاقات کے دوران ایٹمی ہتھیاروں پر کوئی خاص بات چیت نہیں ہوئی اور ایٹمی محاذ پر دونوں ممالک کے درمیان صورت حال ‘کافی مشکل’ تھی۔

اس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے دوران امریکہ نے سوویت یونین کے ساتھ ہتھیاروں پر کنٹرول اور خطرات کم کرنے کے اقدامات کے بارے میں کئی بار بات چیت کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ بیجنگ کے ساتھ کوئی بھی بات چیت زیادہ پیچیدہ ہو گی کیوں کہ اس کے ایٹمی ہتھیاروں کا ایک بڑا حصہ خفیہ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ’اس وقت بات چیت کا وہ کلچر موجود نہیں ہے اس لیے ان تعلقات میں آگے بڑھنے کی گنجائش بہت کم ہے۔‘

چین کے ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ امریکہ اور روس دونوں کے مقابلے میں بہت کم ہے لیکن وہ تیزی سے اس میں اضافہ کر رہا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ کا اندازہ ہے کہ 2030 تک چین کے پاس 1000 ایٹمی ہتھیار ہوں گے۔

فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے مطابق، روس اور امریکہ کے پاس بالترتیب 4400 اور 3700 فعال ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں، جب کہ چین کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 620 ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *