ڈان 3 علیحدگی تنازع: رنویر سنگھ پر پابندی ختم

بالی وڈ فلم ورکرز یونین نے ڈان تھری پر بڑھتی ہوئی قانونی کشیدگی کے ماحول میں فلمی صنعت کے اداروں کی ثالثی کے بعد اداکار رنویر سنگھ پر عائد پابندی واپس لے لی ہے۔

فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائز (ایف ڈبلیو آئی سی ای)، جو انڈیا کی فلم انڈسٹری کی سب سے بااثر ٹریڈ تنظیموں میں سے ایک ہے، نے بدھ کو کہا کہ وہ پروڈیوسرز اور اداکاروں کی انجمنوں کی مداخلت کے بعد اداکار رنویر سنگھ کے خلاف ’عدم تعاون کی ہدایت‘ فوری طور پر واپس لے رہی ہے۔ ان اداروں نے تنازعے کا دوستانہ حل نکالنے کی کوشش کی۔

اصل ہدایت کے تحت ایف ڈبلیو آئی سی ای سے وابستہ تمام کارکنوں، جن میں ٹیکنیشنز اور سپاٹ بوائز بھی شامل تھے، کو کہا گیا تھا کہ وہ رنویر سنگھ کے ساتھ اس وقت تک کام نہ کریں جب تک وہ فلم سے اپنی علیحدگی کے معاملے پر ذاتی طور پر تنظیم کے سامنے پیش نہ ہوں۔

یہ تنازع رنویر سنگھ کے ڈان تھری سے اچانک الگ ہونے سے شروع ہوا۔ یہ ہدایت کار فرحان اختر کی ڈان فرنچائز کے ری بوٹ کی طویل عرصے سے زیر التوا تیسری فلم ہے، جسے اصل میں سکرین رائٹرز سلیم خان اور جاوید اختر نے تخلیق کیا تھا۔

1978 کی اصل فلم میں امیتابھ بچن نے مرکزی کردار ادا کیا تھا، جب کہ جاوید اختر کے 2006 اور 2011 کے ری بوٹس میں شاہ رخ خان کا کردار مرکزی تھا۔

رنویر سنگھ کو اگست 2023 میں شاہ رخ خان کے بعد نئے ڈان کے طور پر متعارف کرایا گیا اور اس منصوبے کو فرنچائز کے لیے ’ نیا دور‘ قرار دیا گیا تھا۔ 

ان فلموں کی کہانی ڈان کے گرد گھومتی ہے، جو ایک مطلوب بین الاقوامی جرائم پیشہ سرغنہ ہے، اور اس کے ہم شکل وجے کے گرد بھی، جو سڑکوں پر پرفارم کرنے والا فن کار ہے۔ پولیس اسے اس وقت انڈر ورلڈ میں داخل ہونے کے لیے بھرتی کرتی ہے جب یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈان مارا جا چکا ہے۔

فلم کے پیچھے موجود پروڈکشن ہاؤس ایکسل انٹرٹینمنٹ نے الزام لگایا ہے کہ رنویر سنگھ دسمبر 2025 میں پروڈکشن سے الگ ہو گئے، یعنی شوٹنگ شروع ہونے سے تقریبا تین ہفتے پہلے، حالاں کہ وہ ایکشن ٹریننگ، ملبوسات کی آزمائش اور سکرپٹ ریڈنگ سیشنز میں حصہ لے چکے تھے۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای نے کہا کہ پروڈیوسرز کا دعویٰ ہے کہ انہیں پری پروڈکشن اخراجات پر تقریبا 45 کروڑ انڈین روپے، یعنی 34 لاکھ 90 ہزار پاؤنڈ، کا نقصان ہوا، جن میں بیرون ملک لوکیشن کی بکنگ اور 200 سے زیادہ عملے کے ارکان سے متعلق انتظامات شامل تھے۔

رنویر سنگھ کے الگ ہونے کا وقت تنازعے کا ایک بڑا نکتہ بن گیا، کیوں کہ پروڈیوسرز نے الزام لگایا ہے کہ وہ آدتیہ دھر کی جاسوسی تھرلر فلم دھرندھر کی کامیابی کے بعد فلم سے الگ ہوئے۔ اس فلم نے دنیا بھر میں 1300 کروڑ روپے، یعنی 10 کروڑ 11 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ کمائی کی، جب کہ اس کا سیکوئل دھرندھر: دی ریونج اب تک کی دوسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی انڈین فلم بن گیا۔

ورائٹی انڈیا کے مطابق، اس تنازعے کے بعد پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا کے ذریعے بالی وڈ کے کئی بااثر اداکاروں، فلم سازوں اور پروڈیوسرز پر مشتمل کئی ثالثی اجلاس ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق ان اجلاسوں میں سلمان خان، عامر خان، رتک روشن، عالیہ بھٹ، کرن جوہر، روہت شیٹی، راج کمار ہیرانی، سدھارتھ رائے کپور، انیل کپور، آشوتوش گوواریکر اور ویاکوم 18 سٹوڈیو کے سربراہ اجیت آندھرے شامل تھے۔

جریدے کے مطابق، رنویر سنگھ نے ایک اجلاس میں کہا کہ وہ سکرپٹ سے خوش نہیں تھے، فلم کے بجٹ کو مبینہ طور پر 300 سے 350 کروڑ روپے، یعنی دو کروڑ 33 لاکھ سے دو کروڑ 72 لاکھ پاؤنڈ، سے کم کر کے تقریبا 150 کروڑ روپے، یعنی ایک کروڑ 17 لاکھ پاؤنڈ، کرنے پر بھی انہیں اعتراض تھا، اور فرحان اختر کی دیگر مصروفیات کی وجہ سے ان کی دستیابی بھی ایک مسئلہ تھی۔

بدھ کو جاری ایک بیان میں ایف ڈبلیو آئی سی ای نے کہا کہ یہ فیصلہ ‘غور و فکر، خود احتسابی اور مثبت بات چیت’ کے بعد کیا گیا۔

ورائٹی انڈیا کے مطابق تنظیم نے کہا کہ ’انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ہمیشہ اپنے متعلقہ فریقوں کے درمیان باہمی احترام، تعاون اور یکجہتی کی بنیاد پر پھلتی پھولتی رہی ہے، اور یہ ضروری ہے کہ تمام کوششیں بالآخر ان بنیادی اقدار کو برقرار رکھنے میں مدد دیں۔‘

تنظیم نے کہا کہ انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے) نے اپنی ’بروقت مداخلت، قیمتی رہنمائی اور اس معاملے کو حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں‘ کے ذریعے صورت حال کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس نے مزید کہا کہ اسے یقین دہانیاں ملی ہیں کہ ‘تنازعے کی بنیاد بننے والے خدشات کو تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر حل کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے گی’ تاکہ ایک ‘دوستانہ، منصفانہ اور باہمی طور پر فائدہ مند حل‘ نکالا جا سکے۔

یہ واپسی اس کے ایک دن بعد ہوئی جب رنویر سنگھ نے ایف ڈبلیو آئی سی ای کو ایک قانونی نوٹس بھیجا، جس میں ہدایت کو چیلنج کیا گیا اور اس معاملے پر تنظیم کے دائرہ اختیار سے اختلاف کیا گیا۔ رنویر سنگھ نے موقف اختیار کیا کہ ایف ڈبلیو آئی سی ای مناسب فورم نہیں، کیوں کہ یہ تنازعہ معاہدے سے متعلق ہے اور اسے کسی تسلیم شدہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای کے صدر بی این تیواڑی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ فیڈریشن نے قانونی نوٹس کی وجہ سے اپنا مؤقف تبدیل کیا۔ انہوں نے دی انڈین ایکسپریس کے سکرین سے کہا: ’ہماری تنظیم 70 سال پرانی ہے۔ ہم نے اپنے نام بے شمار قانونی نوٹس آتے دیکھے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان سے کیسے نمٹنا ہے۔ یہ معاملہ اس بارے میں نہیں ہے۔ یہ فلم انڈسٹری کے وسیع تر مفاد کا معاملہ ہے۔‘

ایف ڈبلیو آئی سی ای کے چیف ایڈوائزر اشوک پنڈت نے کہا کہ آئی ایم پی پی اے، پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا اور سنے اینڈ ٹی وی آرٹسٹس ایسوسی ایشن (سنٹا) کی درخواستوں کے بعد ہدایت واپس لی گئی۔

اشوک پنڈت نے بدھ کو ممبئی میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ان کی اپیل اور فلم انڈسٹری کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم رنویر سنگھ کے خلاف ہدایت فوری طور پر واپس لے رہے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اشوک پنڈت نے رنویر سنگھ اور ایکسل انٹرٹینمنٹ پر بھی زور دیا کہ وہ یہ معاملہ نجی طور پر حل کریں۔

پروڈیوسرز گلڈ آف انڈیا نے بھی ایک الگ بیان جاری کیا، جس میں ‘ٹیلنٹ، ڈائریکٹرز اور ٹیکنیشنز کی جانب سے پروڈیوسرز کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے، اکثر آخری لمحے پر، پیچھے ہٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات’ کے بارے میں خبردار کیا گیا۔

تنظیم نے کہا کہ اسے کئی پروڈکشن ہاؤسز سے باضابطہ شکایات موصول ہوئی ہیں اور ایسے تنازعات ’ساکھ کو نمایاں نقصان’ پہنچاتے ہیں اور ‘ان سیکڑوں ٹیکنیشنز اور عملے کے ارکان کے روزگار کو خطرے میں ڈالتے ہیں جو ان منصوبوں پر انحصار کرتے ہیں۔‘

سنٹا کی جنرل سیکریٹری اپاسنا سنگھ نے بھی ممبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صلح کی اپیل کی۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’فلم انڈسٹری ایک خاندان ہے۔ ہمارے گھر میں بھی بہت سے گھریلو جھگڑے ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر بار اسے بڑھا دیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *