جب ہی ٹنگبو کو 2003 میں ہواوے کی چپ ڈیولپمنٹ کی ذمہ داری دی گئی تو اس نوجوان انجینیئر کو سالانہ 400 ملین ڈالر کا بجٹ اور ایک ایسا مشن سونپا گیا جو بعد میں انہیں چین کی سب سے اہم ٹیکنالوجی کوششوں کے مرکز میں لے آیا۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے بعد ہی ٹنگبو، جنہیں چینی ٹیکنالوجی حلقوں میں اکثر ہواوے کی ’چپ کوئین‘ کہا جاتا ہے، کمپنی کی سب سے اہم ایگزیکیٹوز میں شامل ہیں اور امریکی پابندیوں کے باوجود چین کی خود کفالت پر مبنی سیمی کنڈکٹر صنعت کی علامت بن چکی ہیں۔
وہ ہواوے کے سیمی کنڈکٹر بزنس کی صدر اور سائنس دان کمیٹی کی ڈائریکٹر ہیں۔
وہ ہواوے کے 17 رکنی بورڈ کی صرف دو خواتین میں سے ایک ہیں۔ دوسری منگ وانژو ہیں جو کمپنی کے بانی رن ژینگفی کی بیٹی اور ہواوے کی روٹیشنل چیئر وومن ہیں۔
ان کی تازہ ترین عوامی شرکت پیر کو ہوئی، جب انہوں نے شنگھائی میں IEEE انٹرنیشنل سمپوزیم آن سرکٹس اینڈ سسٹمز میں ’نیا سیمی کنڈکٹر راستہ: عملی تجربہ‘ کے عنوان سے اہم خطاب کیا۔
خطاب نے انہیں اس عالمی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے جو ’مورز لا‘ کے بعد کے دور سے متعلق ہے۔
دہائیوں تک چِپ ٹیکنالوجی کی ترقی اس اصول پر چلتی رہی کہ ایک ہی چِپ پر زیادہ سے زیادہ ٹرانزسٹرز کو چھوٹا کر کے سمایا جائے، جس سے کمپیوٹرز تیز، سستے اور زیادہ توانائی مؤثر بنتے رہے۔ اسے ’مورز لا‘ کہا جاتا ہے۔
لیکن اب جب یہ حدیں اپنی طبیعی اور لیثوگرافک حدود کے قریب پہنچ رہی ہیں تو صنعت کو نئی راہیں تلاش کرنا پڑ رہی ہیں۔
ہواوے کے لیے یہ چیلنج بہت پہلے اور زیادہ سخت انداز میں سامنے آیا۔ 2019 میں امریکی پابندیوں نے کمپنی کو اہم غیر ملکی چِپ ٹیکنالوجی اور جدید ترین مینوفیکچرنگ سے محروم کر دیا، جس سے اس کے سمارٹ فونز سے لے کر ٹیلی کمیونیکیشن آلات تک خطرے میں پڑ گئے۔
بعد میں امریکی پابندیوں نے ہواوے کے کئی مقامی شراکت داروں اور حریفوں کو بھی اسی مشکل میں ڈال دیا، جس سے ’مورز لا کے بعد‘ والی ٹیکنالوجیز کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
ٹنگبو نے پیر کو ’ٹاﺅ سکیلنگ لا‘ متعارف کروایا، جو ہواوے کے مطابق چِپ ڈیولپمنٹ کے لیے ایک ایسا اصول ہے جو مورز لا کی کمزوری کے بعد رہنمائی فراہم کرے گا۔
ہواوے کے مطابق ان کی ٹیم گذشتہ چھ سال سے اس اصول پر کام کر رہی ہے اور اس طریقہ کار پر مبنی 381 چِپس بڑے پیمانے پر تیار کی جا چکی ہیں۔
یہ اصول اس بات پر زور دیتا ہے کہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو ٹرانزسٹرز کو مزید چھوٹا کرنے کی بجائے مختلف ڈیوائسز، سرکٹس، چِپس اور کمپیوٹنگ سسٹمز کے درمیان ٹرانسمیشن سپیڈ بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
30 سالہ ہواوے کیریئر
ہی ٹنگبو کا کیریئر بڑی حد تک ہواوے کے عالمی عروج، امریکی پابندیوں کے بعد مشکلات اور پھر چین کی ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی کوششوں سے جڑا ہوا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
1969 میں جنوبی صوبے ہنان کے شہر چانگشا میں پیدا ہونے والی ٹنگبو نے 1996 میں ہواوے میں بطور انجینیئر شمولیت اختیار کی۔
انہوں نے سیمی کنڈکٹر فزکس اور کمیونیکیشن انجینیئرنگ میں بیچلرز کی ڈگری اور بیجنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز سے ماسٹرز کیا۔
2004 میں کمپنی نے باقاعدہ طور پر HiSilicon قائم کیا، جو اس کا چِپ ڈیزائن یونٹ تھا اور جس کی تعمیر میں ہی ٹنگبو نے ایک چھوٹے اندرونی شعبے سے اسے دنیا کی بڑی سیمی کنڈکٹر تنظیموں میں تبدیل کرنے تک اہم کردار ادا کیا۔
ان کی قیادت میں ہواوے نے سسٹم آن چِپ ڈیزائن، آپٹو الیکٹرانکس اور ایڈوانسڈ پیکیجنگ جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کی۔
یہ پورٹ فولیو بعد میں سمارٹ فونز، مصنوعی ذہانت، جنرل پرپز پروسیسرز، ٹیلی کمیونیکیشن، نیٹ ورکنگ اور کنزیومر الیکٹرانکس تک پھیل گیا، جس نے 2025 میں ہواوے کی 880.9 ارب یوآن (تقریباً 130 ارب ڈالر) آمدنی میں اہم کردار ادا کیا۔
پابندیوں کے بعد ٹنگبو ہواوے کی اندرونی بقا کی کوششوں سے گہری طور پر منسلک ہو گئیں۔
2019 میں HiSilicon کے ملازمین کے نام ایک مشہور خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ یہ یونٹ ’ہواوے اور پورے ملک کے لیے ایک بیک اپ لائف لائن بنا رہا ہے۔‘
