نرسنگ کا عالمی دن: میرا دن تب بنتا ہے جب کسی کی جان بچاتی ہوں، سنیتا عرفان

ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں راتیں اکثر لمبی ہو جاتی ہیں۔ مشینوں کی مسلسل آوازیں، دواؤں کی مہک، بےچینی میں ڈوبے تیماردار اور زندگی سے جڑی امیدیں یہ وہ دنیا ہے جہاں نرسیں خاموشی سے اپنے حصے کی جنگ لڑتی ہیں۔

دنیا بھر میں 12 مئی کو منایا جانے والا نرسنگ کا عالمی دن بھی دراصل انہی لوگوں کو یاد کرنے کا دن ہے جو اکثر ہسپتالوں میں سب سے زیادہ موجود ہوتے ہیں، مگر سب سے کم دکھائی دیتے ہیں۔

مریض کے بستر کے قریب کھڑی وہ شخصیت جو ڈاکٹر کے جانے کے بعد بھی وہیں رہتی ہے۔ جو انجیکشن لگانے سے پہلے خوف کم کرتی ہے۔ جو تیمار داروں کے سوال سنتی ہے اور بعض اوقات مشین پر ابھرتی ایک معمولی تبدیلی دیکھ کر آنے والے خطرے کو بھانپ لیتی ہے۔

ڈاکٹر اکثر علاج کا چہرہ سمجھے جاتے ہیں، لیکن مریض کے بستر کے قریب سب سے زیادہ وقت گزارنے والی شخصیت عموماً ایک نرس ہی ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف دوا دیتی ہے بلکہ تکلیف کو محسوس کرتی، گھبراہٹ کو کم کرتی اور کئی مرتبہ ایسی تبدیلی بھی بھانپ لیتی ہے جو زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتی ہے۔

کراچی کےآغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں گذشتہ 13 برس سے خدمات انجام دینے والی سنیتا عرفان بھی ایسی ہی نرسوں میں شامل ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا دن بن جاتا ہے جب میں کسی مریض کی زندگی محفوظ بنانے میں کامیاب ہوتی ہوں اور اس کے اہلِ خانہ دعائیں دیتے ہیں۔‘

نرس سنیتا عرفان نے انڈپینڈنٹ اردو سے نرسنگ کے عالمی دن کے موقع پر گفتگو میں کہا کہ نرسنگ صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ مسلسل ذہنی، جذباتی اور جسمانی ذمہ داری کا نام ہے۔ مجھے شروع سے ہی انسانی خدمت اور مدد کرنے کا جذبہ موجود تھا، اسی لیے نرسنگ کے شعبے کا انتخاب کیا۔

تاہم اس شعبے میں آنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ نرسنگ صرف بیڈ سائیڈ کیئر تک محدود نہیں۔

’لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ نرس کا کام صرف مریض کو دوا دینا یا بنیادی نگہداشت کرنا ہے، جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ مختلف ہے۔ نرس کا کام صرف دیکھ بھال نہیں بلکہ اس سے بہت آگے ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’ایک نرس مریض کی جسمانی کیفیت کے ساتھ ساتھ اس کی ذہنی حالت اور اہلِ خانہ کی پریشانی کو بھی سنبھالتی ہے۔ کئی مرتبہ مریض اتنا کمزور ہوتا ہے کہ اپنی تکلیف یا ضرورت واضح نہیں کر پاتا، ایسے میں نرس اس کی آواز بنتی ہے۔ اسی ذمہ داری کو طبی دنیا میں ’پیشنٹ ایڈووکیسی‘ کہا جاتا ہے، یعنی مریض کے حق میں کھڑا ہونا۔‘

سنیتا عرفان کے مطابق: ’ایک اچھی نرس صرف ہدایات پر عمل نہیں کرتی بلکہ مریض کے بہتر علاج کے لیے ڈاکٹرز اور دیگر طبی ماہرین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی ہے۔‘

وہ ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ڈیوٹی کے دوران انہوں نے ایک مریض کے کارڈیک مانیٹر پر دل کی دھڑکن میں غیر معمولی تبدیلی محسوس کی۔ انہوں نے فوراً ریپڈ ریسپانس ٹیم کو طلب کیا اور بروقت کارروائی کے باعث مریض کی حالت بگڑنے سے بچ گئی۔

سنیتا عرفان کہتی ہیں کہ ایسے لمحے انہیں یاد دلاتے ہیں کہ نرسنگ محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایسی ذمہ داری ہے جہاں چند سیکنڈ کی توجہ نہ صرف زندگی بچا سکتی ہے بلکہ بیماری کی پیچیدگی کم کر کے ہسپتال میں قیام کا دورانیہ اور علاج پر آنے والے اخراجات بھی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

نرس سنیتا عرفان نے 2026 کے عالمی نرسنگ تھیم “Our Nurses, Our Heroes Empowered Nurses Save Lives” پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیغام دراصل اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ تربیت یافتہ، باصلاحیت اور تجربہ کار نرسیں صرف معاون عملہ نہیں بلکہ انسانی جانیں بچانے میں صفِ اول کا کردار ادا کرتی ہیں۔

سنیتا عرفان کا کہنا تھا کہ نرسیں ہر روز خاموشی سے انسانیت کی خدمت انجام دیتی ہیں۔ عالمی یومِ نرسز منانے کا مقصد بھی عوام میں نرسنگ کے کردار اور اہمیت کو اجاگر کرنا اور نرسوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

’کووڈ-19 نے نرسوں کی ناگزیر اہمیت کو نمایاں کیا ہے‘

ڈاکٹر سلیمہ والانی Aga Khan University School of Nursing and Midwifery کی ڈین ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے نرسنگ کے عالمی دن کے موقع پر بات کی اور کہا کہ ’گذشتہ چار سے پانچ برسوں میں نرسنگ کے شعبے کو وہ پہچان ملی ہے جو پہلے اتنی نمایاں نہیں تھی۔

’کووڈ-19 کی وبا نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ نرسوں کے بغیر پاکستان میں صحت کے نظام تک مؤثر رسائی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔‘

 وہ کہتی ہیں کہ ’اسی تجربے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ نرسنگ ایک باقاعدہ اور پروفیشنل فیلڈ ہے جس میں ترقی اور کامیابی کے واضح مواقع موجود ہیں۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ اگرچہ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے میں مردوں کی تعداد اب بھی کم ہے اور اندازاً 10 سے 12 فیصد کے درمیان ہے، تاہم یہ شرح آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ جس کی ایک وجہ بہتر روزگار کے مواقع اور نسبتاً زیادہ جاب سکیورٹی ہے۔

ڈاکٹر سلیمہ والانی کے مطابق: ’نرسنگ کے شعبے کو درپیش بنیادی مسائل میں سرمایہ کاری کی کمی، سرکاری سطح پر نرسنگ کے ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت، اور نرسوں کو قیادت کے زیادہ مواقع فراہم کرنا شامل ہیں۔ تنخواہوں اور سروس سٹرکچر میں بہتری بھی ناگزیر ہے تاکہ یہ پیشہ مزید مضبوط ہو سکے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ اگرچہ کچھ اداروں، خصوصاً آغا خان یونیورسٹی ہسپتال سے منسلک نظام میں نرسوں کو بہتر سہولتیں اور فیصلہ سازی میں حصہ لینے کے مواقع حاصل ہیں، مگر پاکستان بھر میں اس ماڈل کو وسیع سطح پر اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ نرسنگ کے شعبے کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنایا جا سکے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *