نیٹو فورسز نے لندن کے ایک ٹیوب سٹیشن کا کنٹرول سنبھال لیا ہے تاکہ اسے زیرِ زمین ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کیا جا سکے، جہاں وہ اتحادی افواج پر حملے کی صورت میں روس کے خلاف ’ڈیپ سٹرائیک‘ آپریشنز کی مشق کر رہے ہیں۔
جنگی تیاریوں میں اضافے کے سلسلے میں، برطانیہ کی قیادت میں نیٹو کے الائیڈ ریپڈ ری ایکشن کور (اے آر آر سی) نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو چیئرنگ کراس سٹیشن کے ایک غیر استعمال شدہ پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا ہے۔
آپریشن آرکیڈ سٹرائیک کے تحت فوجی اہلکار نیٹو کی اس صلاحیت کی جانچ کر رہے ہیں کہ وہ الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے روسی مواصلاتی نظام کو جام کر سکے اور کریملن کے ڈرونز کو مار گرائے، یہ سب ایک فرضی روسی حملے کی صورت میں کیا جا رہا ہے جس میں بالٹک ملک پر حملے کا تصور شامل ہے۔
دفاعی ذرائع نے کہا کہ برطانیہ کے پاس صرف اتنے ڈرونز ہیں جو ایک ہفتے کی لڑائی کے لیے کافی ہیں، جبکہ یومیہ ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یوکرین میں یہ تعداد روزانہ ہزاروں میں ہے، جہاں مسلسل جنگ جاری ہے اور یورپ کی دفاعی صنعتوں سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس سٹریٹجک خطرے کا مقابلہ کریں۔
ٹیوب پلیٹ فارم سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو لینڈ کمانڈ کے سربراہ امریکی جنرل کرسٹوفر ڈونوہیو نے اتحاد کو ایک واضح انتباہ دیا کہ نیٹو کے پاس ممکنہ روسی حملے کی تیاری کے لیے بہت کم وقت ہے۔
انہوں نے کہا: ’2030 تک مشن کے لیے تیار ہونا کوئی نعرہ نہیں بلکہ وہ کام ہے جو ہمیں کرنا ہوگا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ روایتی متحرک ہونے اور نقل و حرکت کے طریقے اب نیٹو کا یقینی برتری کا ذریعہ نہیں رہے اور گہرائی میں تحفظ کی کمی کو ہمارے خلاف استعمال کیا جائے گا۔
برطانوی الائیڈ ریپڈ ری ایکشن کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل مائیک ایلوس نے کہا کہ یہ مشق ضروری ہے تاکہ نیٹو کی ’ریکونیسنس سٹرائیک‘ کی صلاحیت کو آزمایا جا سکے یعنی دشمن کی فوج کو تلاش کرنا اور اسے تباہ کرنا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہر منظرنامے میں روس کو دو اہم برتریاں حاصل ہیں: پہلی یہ کہ وہ اپنے حملے کے مقام پر طاقت کو جمع کر سکتے ہیں، جبکہ نیٹو کو ہر جگہ ہر وقت دفاع کرنا ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو اس کا آغاز روس کرے گا، جس سے اسے ابتدائی برتری حاصل ہوگی۔‘
انہوں نے کہا: ’آج کی تعیناتی ایک مشق ہے۔۔ ہم یہ صرف مہارت کے لیے نہیں بلکہ اس لیے بھی کر رہے ہیں کہ مخالف دیکھ رہا ہے اور اسے معلوم ہو کہ ہم تیار ہیں۔‘
یہ مناظر دوسری عالمی جنگ کی یاد دلاتے ہیں، جب لندن کے زیرِ زمین نظام کو شہریوں نے ہٹلر کے بموں سے بچنے کے لیے استعمال کیا تھا۔
جنگ کے دوران لندن ٹیوب میں برطانوی فوجیوں کی موجودگی کی تصاویر کا عوامی طور پر دکھایا جانا ایک سوچا سمجھا اور عملی اقدام ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دفاعی تیاریوں کے معاملے میں شمالی اور بالٹک یورپی ممالک خصوصاً پولینڈ کے مقابلے میں برطانیہ پیچھے رہ گیا ہے۔
یہ ہائی پروفائل مشق اسی ہفتے ہوئی جب ولادی میر پوتن نے بیلاروس میں اپنے جنگی کھیلوں کے دوران زمین، سمندر اور فضا میں جوہری مشقیں کیں۔
یہ واقعہ اس کے چند روز بعد پیش آیا جب برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے روسی طیاروں کی تصاویر جاری کیں جو بحیرہ اسود کے اوپر ایک رائل ایئر فورس کے طیارے کے صرف 20 فٹ کے فاصلے پر پرواز کر رہے تھے، اور ڈونلڈ ٹرمپ کی یورپ میں امریکی فوجی تعیناتی کے حوالے سے بدلتی ہوئی رائے سامنے آئی۔
جوبلی لائن کے ایک غیر استعمال شدہ پلیٹ فارم پر گورکھا انجینیئرز نے نیٹو کے الائیڈ ریپڈ ری ایکشن کور کے لیے ایک کمانڈ سینٹر قائم کیا، جو انتہائی حالات میں ایک لاکھ فوجیوں کی تعیناتی کی نگرانی کر سکتا ہے۔
اس مشق کا سامان رات کے وقت خصوصی ٹرانسپورٹرز کے ذریعے لندن انڈرگراؤنڈ میں لایا گیا اور فوجیوں نے اسے اتارا۔
اسی دوران برطانوی اور دیگر نیٹو افواج ایسٹونیا میں ’آپریشن سپرنگ سٹورم‘ کے تحت بالٹک ریاستوں پر روسی حملے کے دفاع کی مشق بھی کر رہی تھیں۔
پوتن کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں اور جدید جنگ میں ڈرونز کے استعمال میں صرف یوکرین ہی روس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔
نیٹو ہیڈکوارٹر کو ایک شہری مقام پر منتقل کرنا کمانڈ سسٹم کی بقا اور ہنگامی حالات میں کام کرنے کی صلاحیت کا امتحان ہے۔
جنرل ڈونوہیو نے کہا: ’ڈرونز نے میدانِ جنگ کو افقی اور عمودی دونوں سمتوں میں پھیلا دیا ہے۔ کم لاگت کے بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں اور ون وے اٹیک ڈرونز اب ہر کمانڈر کو غیر معمولی نگرانی اور درست حملے کی صلاحیت دیتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ اس جدید جنگی دور میں نیٹو کم لاگت جدید ہتھیاروں کی ترقی میں پیچھے ہے۔
یوکرین نے بڑے پیمانے پر ڈرون ہتھیاروں کی پیداوار میں تیزی دکھائی ہے، جبکہ نیٹو ممالک کو وہی صلاحیت حاصل کرنے میں دہائیاں لگ گئی ہیں۔
روس نے بھی تیزی سے خود کو ڈھالا ہے اور فائبر آپٹک ڈرونز کے استعمال کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ خارکیف کی سڑکیں مفلوج ہو گئی ہیں، کیونکہ یہ ڈرونز اب شہر کے اندر تک پہنچ سکتے ہیں۔
روسی ڈرون پائلٹس خرسون کی سڑکوں پر شہریوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کی ویڈیوز بھی شیئر کرتے رہے ہیں۔
نیٹو کے سپریم الائیڈ کمانڈر یورپ جنرل الیکسس جی گرینکیوچ نے کہا کہ اگر ہم دشمن سے تیزی سے سبق نہیں سیکھتے اور اسے نافذ نہیں کرتے تو ہماری دفاعی حکمت عملی خطرے میں پڑ جائے گی۔
برطانیہ نے الائیڈ ریپڈ ری ایکشن کور کو دو ڈویژنز دینے کا عزم ظاہر کیا ہے اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ جی ڈی پی کا 2.5 فیصد دفاع پر خرچ کر رہی ہے، یعنی 79.8 ارب پاؤنڈ، تاہم اس میں پنشن اور انٹیلی جنس جیسے غیر فوجی اخراجات بھی شامل ہیں۔
سابق وزیرِ سکیورٹی ٹام ٹگینڈہٹ نے کہا ہے کہ حکومت کا دفاعی اخراجات 3 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ حقیقت نہیں بلکہ دکھاوا ہے اور برطانیہ کی عسکری صلاحیت کم ہو رہی ہے۔
اسی دوران برطانیہ کی سٹریٹجک ڈیفنس ریویو کے مصنفین لارڈ جارج رابرٹسن اور ڈاکٹر فیونا ہل نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک روسی خطرات کے مقابلے میں ’غیر تیار اور غیر محفوظ‘ ہے۔
حکومت نے دفاعی سرمایہ کاری کے منصوبے کی اشاعت بھی آٹھ ماہ تک مؤخر کر دی ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق وزارتِ دفاع کو جدید آلات کی اپ گریڈ کے لیے 28 ارب پاؤنڈ کی کمی کا سامنا ہے۔
