نجی سکول مالکان کے مطابق حکومت سال میں اتنی چھٹیاں دیتی ہے کہ تعلیمی سال 240 دن کی بجائے 90 سے 120 دن تک محدود ہو چکا ہے، جس سے نہ صرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ والدین بھی بچوں کی تعلیم کے حوالے سے پریشان ہیں۔
پاکستان اور پنجاب میں موسم خراب ہو، کوئی وبا آئے یا توانائی کا بحران ہو، سب سے پہلے تعلیمی ادارے بند کیے جاتے ہیں۔
اس بار بھی پنجاب میں 22 مئی سے تین ماہ کے لیے موسم گرما کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سموگ اور حالیہ توانائی بحران کے دوران بھی تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے۔
آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن (اے پی پی ایس ایف) نے چھٹیوں میں کمی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس پر عدالت نے رواں ہفتے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔
اے پی پی ایس ایف کے صدر کاشف مرزا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’ہماری درخواست چھٹیوں میں کمی کے لیے ہے کیونکہ تعلیمی سال کے دوران 365 دنوں میں تعلیمی ادارے صرف 90 سے 120 دن تک کھلے رہ گئے ہیں۔‘
ترجمان محکمہ تعلیم نورالہدی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’موسم کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے تین ماہ کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن برقرار ہے۔ تاہم، اگر عدالت اس حوالے سے کوئی حکم دے گی تو اس پر عمل کیا جائے گا۔‘
زیادہ چھٹیوں سے تعلیمی نقصان
اے پی پی ایس ایف کے صدر کاشف مرزا کے بقول، ’حکومت نے پہلے سموگ، پھر توانائی بحران کے دوران چھٹیوں کا اعلان کیا۔ اب گرمیوں کی چھٹیوں کا دورانیہ دو ماہ سے بڑھا کر تین ماہ کر دیا گیا ہے۔ 90 دن تعلیمی اداروں کی بندش آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 14، 17، 18، 25، 25 اے، 37 (بی) اور 227 کی خلاف ورزی ہے۔
امریکہ، انگلینڈ سمیت بڑے ممالک میں تعلیمی سال 230 دن کا ہوتا ہے۔ تین ماہ تعلیمی ادارے بند کرنے سے طلبہ کی پڑھائی شدید متاثر ہو گی۔ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔
موسم گرما کی تعطیلات چھ سے آٹھ ہفتے ہونی چاہئیں۔ حکومتی نوٹیفکیشن اقوام متحدہ کے بچوں کے عالمی حقوق کے کنونشن، پائیدار ترقی کے ہدف اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں کے برخلاف ہے۔‘
بقول کاشف، ’آرٹیکل 25 اے 5 سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، جو ان کا بنیادی آئینی حق ہے۔ آرٹیکل 37 (بی) ریاست کو ناخواندگی دور کرنے کا پابند کرتا ہے۔ 14 ہفتوں کی تعلیمی بندش براہ راست ان ضمانتوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ گرمی کا انتظام نہیں بلکہ تعلیمی تباہی ہے۔
حکومت کو پابند کیا جائے کہ عالمی معیار کے مطابق کم از کم 200 سے 240 دنوں کے تعلیمی کیلنڈر پر عملدرآمد کیا جائے۔ ایسے ملک میں جہاں 33 فیصد بچے پہلے ہی سکولوں سے باہر ہیں، مسلسل چھٹیاں سیکھنے کے عمل کو مزید نقصان اور ڈراپ آؤٹ کی شرح میں اضافہ کا باعث بن رہی ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ چھٹیاں 20 جون سے شروع کر کے دو ماہ کی دی جائیں۔‘
ترجمان محکمہ تعلیم پنجاب کے بقول، ’ہر بار چھٹیوں کے موقع پر نجی سکول مالکان کو ایسے ہی بیان بازی کا شوق ہوتا ہے۔ حکومت موسمی اثرات سے بچوں کو بچاتے ہوئے معیاری تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔‘
تعلیمی صورت حال اور والدین کے مسائل
ڈومیسٹک انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) 2024-25 کے مطابق پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے دو کروڑ 80 لاکھ بچے اب بھی تعلیم سے محروم اور سکولوں سے باہر ہیں۔ صرف پنجاب میں 51 فیصد بچے سکولوں میں نہیں جاتے۔ صوبے میں خواندگی کی شرح مردوں کے لیے 68 فیصد اور خواتین کے لیے 52.8 فیصد ہے۔ پاکستان کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد ہے اور عالمی تعلیمی معیار میں 193 ممالک میں 156 ویں نمبر پر ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لاہور کے علاقے اسلام پورہ کے رہائشی صادق حسین نے بتایا کہ وہ رکشہ چلا کر اپنے تین بچوں اور بیوی کو پال رہے ہیں۔ سب سے بڑی بیٹی نویں، بیٹا ساتویں اور دوسری بیٹی پانچویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔ تینوں بچے قریبی پرائیویٹ سکول میں پڑھتے ہیں۔ بچوں کی ماہانہ فیس تین ہزار سے پانچ ہزار روپے تک ہے۔ بڑی مشکل سے پیٹ کاٹ کر ان کی فیس اور کتابوں کا خرچہ پورا کرتا ہوں، لیکن آئے روز چھٹیوں کی وجہ سے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔‘
بقول صادق: ’سکول کی فیس ہر ماہ وصول کی جاتی ہے۔ چھٹیاں ہوں یا سکول کھلے ہوں، فیس میں ناغہ نہیں ہوتا، جبکہ مہینے میں کئی کئی چھٹیاں دے دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں الگ ہیں، مگر فیس پہلے جمع کرانی ہوتی ہے۔ جب بچے پڑھنے نہیں جائیں گے تو فیس کیوں لی جاتی ہے؟‘
بچوں کو تعلیمی اداروں میں ملنے والے تعلیمی معیار کا یہ حال ہے کہ ٹیوشن پڑھانا بھی الگ سے والدین کی ذمہ داری بن چکا ہے۔ بقول صادق، ’جب مسلسل چھٹیاں دی جائیں گی تو بچے امتحان کی تیاری کے لیے الگ سے ٹیوشن پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سکولوں میں بھیجنے کی بجائے بچوں کو کوئی ہنر سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے بھی سوچ لیا ہے کہ بچے کو میٹرک تک پڑھا کر ورکشاپ میں گاڑیوں کا کام سکھاؤں گا تاکہ وہ نوکری کے پیچھے خوار ہونے کی بجائے اپنا روزگار کما سکے۔‘
حکومت پنجاب سرکاری سکولوں کی نجکاری کر کے انہیں نجی شعبے کے تحت چلانے کی حکمت عملی پر بھی عمل کر رہی ہے۔ کئی سکول نجی شعبے کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید دینے پر کام جاری ہے۔
