تربوز کے حیران کن طبی فوائد دریافت

ایک نئی تحقیق میں تربوز اور اس کے رس کے کئی غیر متوقع طبی فوائد سامنے آئے ہیں۔

سائنسی جریدے ’نیوٹرینٹس‘ میں شائع ہونے والی متعدد تحقیقی رپورٹس سے پتہ چلا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے یہ پھل کھاتے ہیں، ان کی خوراک میں وٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ، جب کہ چینی اور سیر شدہ چربی کم ہوتی ہے۔

پانی کی وافر مقدار کی وجہ سے طویل عرصے سے گرمیوں کے اس پسندیدہ پھل کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تربوز کا رس خون کی شریانوں کے افعال کو بہتر بنانے اور دل کی صحت کو برقرار رکھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

یہ بات لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی کے ایک پلیسیبو کنٹرولڈ کلینیکل ٹرائل کی بنیاد پر کہی گئی ہے، جس میں 18 صحت مند نوجوانوں نے دو ہفتوں تک روزانہ تربوز کا رس پیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محققین نے نائٹرک آکسائیڈ پیدا کرنے والے تربوز کے دو مرکبات یعنی ایل-سٹرولین اور ایل-ارجینائن پر توجہ مرکوز کی، جو خون کی شریانوں کو پرسکون کرنے اور پھیلانے میں مدد دیتے ہیں، جو صحت مند خون کی گردش اور قلبی افعال کی ایک اہم خصوصیت ہے۔

انہیں معلوم ہوا کہ تربوز کے رس نے ہائپر گلیسیمیا (گلوکوز کی زیادتی کا دورانیہ، جس کا تعلق اکثر ذیابیطس سے ہوتا ہے) کے دوران شریانوں کے افعال کو بہتر کیا اور دل کی دھڑکن کے اتار چڑھاؤ کو بھی متاثر کیا۔

لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی کے سکول آف نیوٹریشن اینڈ فوڈ سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر جیک لوسو نے کہا: ’ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ تجربے کا حصہ بننے والے افراد (18 صحت مند نوجوان مرد اور خواتین) کی تعداد کم تھی اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن یہ تحقیق کارڈیو میٹابولک صحت کے لیے تربوز کے باقاعدہ استعمال کی حمایت کرنے والے موجودہ شواہد میں اضافہ کرتی ہے۔‘

سرخ تربوز خاص طور پر کھائے جانے چاہییں کیوں کہ ان میں اینٹی آکسیڈنٹ لائیکوپین کی سب سے زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔

یہ جسم میں ’فری ریڈیکلز‘ کے خلاف لڑنے میں خاص طور پر موثر پایا گیا ہے، جو انتہائی متحرک مالیکیولز ہوتے ہیں اور قبل از وقت بڑھاپے، کینسر اور ڈیمنشیا کا سبب بن سکتے ہیں۔

لائیکوپین قدرتی طور پر پایا جانے والا ایک پگمنٹ بھی ہے جو ٹماٹر جیسے کئی دیگر پھلوں اور سبزیوں کو ان کا سرخ رنگ دیتا ہے۔

ڈاکٹر لوسو کا مزید کہنا تھا کہ ’تربوز اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامن سی اور لائیکوپین کا ایک بہترین ذریعہ ہے اور یہ سب آکسیڈیٹیو تناؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور دل کی بیماریوں سے بچاؤ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘

نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامینیشن سروے کے ڈیٹا کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ باقاعدگی سے تربوز کھانے والے افراد نے غذائی فائبر، میگنیشیم، پوٹاشیم، وٹامن سی، وٹامن اے اور لائیکوپین کی وافر مقدار استعمال کی۔

دو کپ تربوز میں صرف 80 کیلوریز ہوتی ہیں، اس کے باوجود یہ وٹامن سی کی روزانہ تجویز کردہ مقدار کا 25 فیصد اور وٹامن بی چھ کا آٹھ فیصد فراہم کرتا ہے۔

یہ حقیقت کہ یہ پھل تقریباً 92 فیصد پانی پر مشتمل ہے، اسے گرم موسم کے دوران یا ورزش کے بعد جسم میں پانی مناسب مقدار برقرار رکھنے کا آسان طریقہ بناتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *