اسلام آباد کی مقامی عدالت نے منگل کو ملزم عمر حیات کو ثنا یوسف قتل کیس میں سزائے موت سنا دی ہے۔
گذشتہ برس دو جون کو اسلام آباد کی رہائشی 17 سالہ سوشل میڈیا سٹار ثنا یوسف کو سیکٹر جی 13 میں واقع ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے بتایا تھا کہ کیس کے مرکزی ملزم عمر حیات کو 20 گھنٹے میں پنجاب کے شہر فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے آج کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنایا اور ملزم کو سزائے موت سنائی۔
عدالت نے محفوظ فیصلے میں ملزم کو ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 سال قید، گھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت 10 سال قید کی سزا جبکہ 20 لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔
اس کیس کی 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور چالان میں 31 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی جبکہ مجموعی طور پر 27 گواہان نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی نے واقعے کے چشم دید گواہان کے طور پر بیان ریکارڈ کروائے۔
عدالت نے 20 ستمبر کو ملزم پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ 25 ستمبر کو استغاثہ کے پہلے گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔
ملزم کیسے پکڑا گیا؟
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اسلام آباد جواد طارق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ مقتولہ کے پاس دو موبائل فون تھے، جن میں سے ایک ملزم اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے مشتبہ افراد کی فہرست بنائی، جو ثنا کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ’مشتبہ افراد کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس سے ڈھونڈا گیا اور ان کی تصاویر نکالی گئیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ڈی آئی جی کے مطابق ہمارے پاس ملزم کی کافی سی سی ٹی وی فوٹیجز تھیں، جس پر ہم نے کام کیا، کہاں یہ شخص گیا یا بیٹھا یا کہاں سے نکلا۔ ان تصاویر کو فوٹیجز کے ساتھ میچ کرنا شروع کیا اور اندازہ لگایا کہ یہ ملزم ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا: ’ہم اس لیے اندازے پر چل رہے تھے کیونکہ اس (ملزم) نے فوٹیجز میں ماسک پہنا ہوا تھا۔ جائے وقوع سے بھاگتے ہوئے اس نے ماسک پہن لیا تھا۔
’ہم نے دو سے تین (مشکوک) افراد کو فائنل کیا، ان میں سے اس پر زیادہ شک گیا کیونکہ اس کا (گھر) شہر سے باہر تھا۔
’اس کے بعد اس کا موبائل نمبر ڈھونڈا اور اسے ٹریک کیا اور پتہ ملنے پر ٹیم فیصل آباد روانہ کر دی۔ اس وقت تک ہمارا اندازہ تھا کہ یہی مطلوبہ شخص ہو گا۔‘
ڈی آئی جی کے مطابق دیگر مشکوک افراد پر وقت کے ساتھ ساتھ شک کم ہوتا چلا گیا۔
’ہم نے یقین کرنا شروع کر دیا کہ غالباً یہی شخص ہمارا ہدف ہے، جو بعد میں وہی شخص نکلا۔‘
ڈی آئی جی جواد طارق کے مطابق ملزم کو پکڑنے کے لیے سوشل میڈیا اور سیف سٹی کیمرے استعمال کیے گئے۔
