پنجاب میں 43 ہزار سرکاری آسامیاں ختم کیوں کی گئیں؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سرکاری محکموں میں 43 ہزار سے زائد آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں جن میں 10 ہزار آسامیاں محکمہ زراعت کی تھیں۔
صوبائی حکومت کے اس فیصلے پر پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تنظیم گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس سراپا احتجاج ہے کہ اس فیصلے نہ صرف محکموں کی کارکردگی متاثر ہو گی بلکہ عوام کے مسائل کے حل میں تاخیر ہو گی۔
تاہم پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بعد اب کام کی نوعیت بدل گئی ہے اور جو آسامیاں ختم کی گئی ہیں وہ انتظامی نوعیت کی نہیں تھیں اس لیے حکام کے مطابق سرکاری محکموں کی کارکردگی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ترجمان محکمہ خزانہ پنجاب امبر جبین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پنجاب میں سکیل ایک سے 16 تک کی 43ہزار سے زائد وہ آسامیاں ختم کی گئی ہیں جو ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے خالی پڑی تھیں۔

’ان خالی آسامیوں کے باوجود محکموں کی کارکردگی میں فرق نہیں پڑ رہا تھا  یا کام کی نوعیت تبدیل ہو چکی تھی۔ یہ اقدام کفایت شعاری مہم کے تحت اٹھایا گیا لیکن ضرورت کے مطابق متبادل پوسٹوں پر بھرتیاں جاری ہیں۔ لہذا بے روزگاری میں اضافے کا تاثر ٹھیک نہیں۔‘
پنجاب کے سرکاری ملازمین کی تنظیم گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے مرکزی چیئرمین خالد سنگھیڑا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’حکومت نے محکمہ تعلیم، محکمہ صحت سمیت کئی محکمے ٹھیکے پر دے دیے ہیں۔ لہٰذا اب آسامیوں پر بھرتیوں کی بجائے انہیں ختم کرنے کا مقصد جو محکمے رہ گئے انہیں بھی ٹھیکیداروں کے حوالے کرنا ہے۔‘

ختم کی گئی آسامیاں
محکمہ خزانہ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے آٹھ محکموں اور ان کے ذیلی اداروں میں 43 ہزار  332 سے زائد خالی آسامیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی۔ تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے بجٹ اور اخراجات میں ان تبدیلیوں کو فوری نافذ کریں تاکہ آئندہ بجٹ میں ختم شدہ اسامیوں کے لیے فنڈز مختص نہ کیے جائیں۔

محکمہ خزانہ پنجاب کے احکامات کے مطابق مذکورہ آسامیاں گریڈ ایک سے 16 تک کی ہیں جو یکم جولائی 2024 سے خالی تھیں۔ ان میں سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی 30 ہزار سے زائد، محکمہ زراعت اور اس کے ذیلی شعبوں کی 11 ہزار 399، محکمہ ہاؤسنگ کی 727، محکمہ سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کی 561، محکمہ سپیشل ایجوکیشن کی 266 اور محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے مختلف ونگز کی 222 اسامیاں ختم کی گئی ہیں۔

ختم ہونے والی آسامیوں میں بیلدار، چوکیدار، خاکروب، مالی اور لیبر سمیت نچلے درجے کے عملے کے ساتھ ساتھ جونیئر کلرک، فیلڈ اسسٹنٹ، ڈرائیور اور دیگر تکنیکی و انتظامی شامل ہیں۔ محکمہ ہاؤسنگ میں 727 خالی مستقل اسامیوں کا خاتمہ کیا گیا، جس کا اطلاق صوبہ بھر کی مختلف ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اور ذیلی اداروں پر ہوگا۔ مختلف اضلاع اور محکموں میں اسسٹنٹ، آڈیٹر، سب انجینئر، کلرک، سروئیر اور دیگر کیڈرز کی اسامیاں بھی ختم کی گئی ہیں۔ محکمہ پبلک پراسیکیوشن کے 5 ونگز میں 222، محکمہ زکوٰۃ و عشر میں 92 اور محکمہ لیبر میں 65 خالی اسامیوں کو ختم کیا گیا ہے۔
آسامیاں ختم کرنے کے اثرات
خالد سنگھیڑا کے بقول:’پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کے مسائل حل نہیں کیے البتہ 43ہزار سے زائد آسامیاں ختم کر کے بے روزگاری میں اضافہ ضرور کیا ہے۔ پہلے ہی 12کروڑ آبادی کے سب سے زیادہ بجٹ رکھنے والے صوبے میں بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے اس اقدام سے اس مین مذید اضافہ ہوجائے گا۔ 

’حکمرانوں کو کوئی بڑے عہدے پر بیٹھا افسر خزانے پر بوجھ نہیں لگتا اسی لیے انہیں مراعات دے کر چھوٹے ملازمین کے چولہے ٹھنڈے کیے جارہے ہیں۔‘
بقول خالد سنگھیڑا ’ایسے بہت سے محکمے ہیں جن میں افسران موجود ہیں لیکن کوئی بہتری نہیں آرہی۔ جس طرھ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ میں افسرون کی پوری ٹیم تعینات سیکرٹریٹ کے اخراجات الگ ہیں۔ مگر یہاں کوئی کام نہیں ہوتا۔

’ قانونی طور پر ہر کام اب بھی لاہور کے دفاتر سے ہی ہوتا ہے۔ یہ سیکرٹریٹ صرف ڈاک خانے کا کام کرتا ہے۔ اسی طرح سی سی ڈی بنا کر جرائم پر قابو پایا جارہا ہے لیکن بڑے عہدوں پر بیٹھے پولیس افسران صرف مراعات انجوائے کر رہے ہیں۔ ہر محکمے کے ساتھ اتھارٹی بنا کر افسران کو ایڈجسٹ کیا جارہا ہے۔‘

کسان اتحاد کے سربراہ خالد کھوکھر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’محکمہ زراعت سے 11 ہزار ملازمین نکالنے کی بجائے ہمارے لیے بہتری میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ اس لیے ہماری طرف سے محکمہ زراعت اور محکمہ خوراک کتم ہی کر دیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ویسے بھی حکومت نے ہر کام تو نجی کمپنیوں کے حوالے کردیا ہے۔ گندم خریداری بھی محکمہ خوراک یا زراعت کی بجائے 11 نجی کمپنیاں کر رہی ہیں۔ حکومت اک دعوی ہے مڈل مین کا کردار ختم کردیا حالانکہ قانونی طور پر چند کمپنیوں پر مشتمل زیادہ پریشان کن مڈل مین کردار بنا دیا گیا ہے۔‘

امبر جبین کے مطابق: ’ڈیجیٹلائزیشن کے اس دور میں کئی سروسز آن لائن ہوچکی ہیں اس لیے اب افراد کا کام کے لحاظ سے کردار تبدیل ہوتا جارہا ہے۔ 
’جس طرح ٹائپ رایئٹر کی ضرورت نہیں اب آن لائن دستاویزی کام ہوتا ہے لہذا ان کی جگہ آئی ٹی کے ماہر تعینات کیے جارہے ہیں۔ خالی آسامیاں ختم کرنے کا مقصد ملازمین کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ نیچر آف جاب کی تبدیلی ہے۔ جتنے لوگوں کو نوکریاں مل رہی ہیں وہ ان شعبوں میں ماہر ہیں جن پر کام کی ضرورت ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *