پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے صنعتی شہر فیصل آباد کے صنعت کاروں نے کچھ دنوں سے روزانہ آٹھ سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی شکایت کی ہے، جس کی وجہ سے کارخانوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
فیصل آباد پاور لومز ایسوسی ایشن کے عہدیدار خاور علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ایک تو بجلی مہنگی ہے دوسری طرف کچھ دنوں سے آٹھ سے 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے کاروبار شدید متاثر کر دیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اندرون اور بیرون ملک سے ملنے والے آرڈرز پورئ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
’اس سے کارخانہ داروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔‘
ترجمان لیسکو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بجلی سپلائی متاثر ہونے سے شارٹ فال میں فرق آیا ہے اور اسی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔
تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ یہ عارضی شارٹ فال ہے اور جیسے ہی بجلی کی پیداوار اور ترسیل معمول پر آتی ہے لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جائے گی۔
دوسری طرف ترجمان پاور ڈویژن نے پیک آورز میں روزانہ سوا دو گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شام 5 سے رات ایک بجے تک روزانہ سوا 2 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ اس اقدام سے مہنگے ایندھن کے کم استعمال سے بجلی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو روکا جا سکے گا۔
کچھ دنوں سے پورے پنجاب میں لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جس سے شہری علاقے چھ سے آٹھ اور دیہاتوں میں روزانہ 10، 10 گھنٹے بجلی کے نہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی جنگ کے اثرات پاکستان میں بجلی کی پیداروار پت پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔
تیل اور گیس سپلائی کے سمندری راستے آبنائے ہرمز بند ہونے سے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی ان دنوں توانائی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
پہلے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اب گرمی کی شدت بڑھتے ہی گیس کی سپلائی اور تیل مہنگا ہونے پر مختلف رپورٹس کے مطابق بجلی کا شارٹ فال 2000 میگا واٹ سے تجاوز کر گیا ہے۔
پاکستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے مختلف ادوار میں بجلی کی لوڈشیڈنگ معمول رہی ہے۔ لیکن گذشتہ کچھ سالوں سے اس میں خاطر خواہ کمی آئی لیکن بجلی قیمت نے شہریوں کو پریشان ضرور کر رکھا ہے۔
لیسکو نے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ عالمی گیس اور پیٹرولیم بحران کے باعث بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے۔
’لہذا طلب اور رسد کے فرق کو متوازن رکھنے کے لیے لوڈ مینجمنٹ کے تحت لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔‘
پاکستان میں بجلی کے ذرائع
سابق چیف ایگزیکٹو لیسکو مجاہد پرویز چٹھہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پاکستان میں 17 فیصد تک بجلی کی پیداور آر ایل این جی درآمدی گیس سے ہوتی ہے، جبکہ تیل سے بھی 12 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تیل مہنگا ہونے اور گیس کی سپلائی بند ہونے سے پیداوار بھی کم ہو گئی ہے۔
’جس سے پاکستان کی کل پیداوار کے مقابلے میں مجموعی طور پر 2000 میگا وواٹ سے زیادہ کا شارٹ فال دکھائی دے رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ان دنوں مجموعی طلب 22000 میگا وواٹ تک ہے جبکہ سسٹم سے صرف 20 ہزار میگا واٹ کے قریب بجلی دستیاب ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس شارٹ فال کو تمام شہروں میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور اسی لحاظ سے لوڈ شیڈنگ کرنا بھی مجبوری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مجاہد چٹھہ کے بقول، ’پاکستان میں 27 فیصد پانی سے بنائی جانے والی بجلی ہے، جبکہ کوئلے سے 18، قدرتی گیس سے 8.6، اور آر ایل این جی سے 17 فیصد بجلی پیدا کی جاتی ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان تیل سے 12 فیصد، نیوکلیئر سے 9، ہوا سے 4.6، شمسی توانائی سے 1.6 بجلی حاصل کرتا ہے، جبکہ
نیٹ میٹرنگ کے ذریعے سسٹم میں آنے والی بجلی 12 ہزار میگا وواٹ بجلی الگ ہے۔ حکومت نے 2030 تک قابل تجدید ذرائع سولر، ونڈ، ہائیڈرو سے 60 فیصد بجلی پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہوا ہے جس سے گیس و تیل جیسے مہنگے ذرائع پر انحصار کم ہو سکے گا۔
پاکستان میں بجلی کے انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسز (آئی پی پیز) کے ساتھ ماضی کے معاہدوں کے تحت بجلی کی سولر صارفین سے خریداری بھی چیلنج بنی ہوئی ہے۔
بقول مجاہد چٹھہ’اس وقت دنیا میں سب سے سستی بجلی سولر سے پیدا ہوتی ہے لیکن ہم جب تک آئی پی پیز سے چھٹکارا حاصل نہیں کر لیتے اور کوئلہ، گیس، تیل سے چلنے والے پلانٹس پر انحصار کی بجائے سولر اور ونڈ انرجی کی طرف نہیں جاتے مسائل برقرار رہیں گے۔
’اگر ہم ان سستے ذرائع کو استعمال کریں تو ڈیمز بنانے کی بھی ضرورت نہ رہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے دوسری بڑی ترسیلی نظام ہے جو بہت کمزور ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سالانہ ہزاروں میگا وواٹ بجلی ضائع ہو جاتی ہے۔
’ہمارے نظام میں اتنی صلاحیت نہیں کہ اگر بجلی پوری بن بھی رہی ہے تو بلا تعطل نظام میں شامل کر سکیں۔
’اگر ہم زیادہ بجلی سولر صارفین سے خریدیں تو اس کے لیے انفراسٹکچر کی بھی بڑے پیمانے پر ضرورت نہیں اور سرکاری اخراجات بھی انتہائی کم ہو سکتے ہیں۔ لیکن جو نظام موجود ہے اسے فوری غیر فعال کرنا بھی ممکن نہیں۔‘
