ٹرمپ نے امریکی صدی کے خاتمے پر مہر ثبت کر دی

ایران، خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کی خوفناک صورت حال کے عالمی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایشیا بھر میں کارخانے بند ہو رہے ہیں، فلپائن جیسی حکومتیں پہلے ہی قومی ایمرجنسی کا اعلان کر چکی ہیں، اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے عوامی سطح پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ رات کو سو نہیں پا رہے، اس سب سے 28 فروری کو شروع ہونے والے واقعات کی سنگینی واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ برطانیہ کا ردِ عمل ’ہماری ایک نسل کی پہچان بنے گا۔‘

معاشی جھٹکے غیر مساوی نقصان پہنچاتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ سب سے زیادہ غریب طبقہ ہی متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ معیشتیں بھی، جو عالمی سپلائی چینز اور اپنے قابو سے باہر حالات پر انحصار کرتی ہیں۔ لیکن وہ ملک جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی اشیا پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، چاہے وہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ہو، خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، کھاد یا ایلومینیم، وہ خود کو توانائی کی قلت، کم زرعی پیداوار اور ایسے مشکل مستقبل کے سامنے خود کو بےبس پا رہے ہیں جس کا سال کے آغاز میں کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

افریقہ اور ایشیا کے ممالک اس بات کو بخوبی سمجھ چکے ہیں کہ امریکہ دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کم متاثر ہو گا، اور اس کی وجہ ان کی دولت یا آنے والے مشکل وقت کو سہنے کی صلاحیت نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ امریکہ تیل، گیس یا کسی اور چیز کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار نہیں کرتا۔ عالمی منڈیوں میں درد تو ہر کوئی محسوس کرتا ہے، لیکن امریکی کاروبار اور شہری اسے دوسروں کے مقابلے میں کم محسوس کریں گے۔

28 فروری کو ایران پر حملے کا فیصلہ وائٹ ہاؤس میں کیے گئے فیصلوں پر مبنی تھا۔ چھ ہفتے قبل، عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے، اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کے لیے یہ ضرورت کی نہیں بلکہ پسند کی جنگ ہے۔ اس وجہ سے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے ان اثرات کو کم کرنے میں مدد کریں جو اب آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یقیناً امریکی مذاکرات کار حالات کو اس طرح نہیں دیکھتے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد جاتے ہوئے کہا، ’ہم مذاکرات کے منتظر ہیں۔‘

انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ ایران سے ’نیک نیتی‘ کے ساتھ مذاکراتی میز پر آنے کی توقع رکھتا ہے، اور خبردار کیا کہ اگر انہوں نے ’ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی‘ تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ یہ سب ایک کھیل کی طرح لگتا ہے۔ لیکن دنیا کی دو تہائی آبادی کے لیے یہ کچھ بھی ہو، کھیل ہرگز نہیں ہے جو سپلائی کے جھٹکوں کا شکار ہو چکی ہے۔

ٹرمپ نے بہت پہلے ہی جوشیلے پن اور غیر محتاط گفتگو کی وجہ سے شہرت حاصل کر لی تھی۔ لیکن ایک ایسا شخص جسے بڑے پیمانے پر تعلقاتِ عامہ کا ماہر سمجھا جاتا ہے، جو نہ صرف خبروں کے رخ کو موڑنے بلکہ ان پر حاوی ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس کے حالیہ بیانات نے دنیا بھر میں امریکہ کے تصور کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے مارچ کے آخر میں کہا تھا، ’ہم اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران ان (ایران) پر انتہائی زوردار حملہ کرنے والے ہیں۔‘ ’ہم انہیں پتھر کے زمانے میں واپس لے جائیں گے، جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘

یہ ایسی بات ہے جس کی تشریح نہ صرف نسل کشی بلکہ نسلی تعصب کے رنگ میں کی گئی ہے، جس میں ایرانیوں کو تاریخ کے قدیم ترین اور شاندار ورثے کے وارث سمجھنے کے بجائے پسماندہ اور غیر مہذب قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے منگل کو مزید آگے بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب فنا ہو جائے گی، جسے کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا۔‘

نائب صدر وینس نے ہنگری سے، جہاں وہ وکٹر اوربان کی انتخابی مہم میں مدد کر رہے تھے، اپنی رائے شامل کی: ’مجھے امید ہے کہ وہ صحیح جواب دیں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانیوں کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ ’ہمارے ترکش میں ایسے ہتھیار بھی موجود ہیں جنہیں اب تک ہم نے استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔‘

یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ ان دونوں کا کیا مطلب تھا: اگر ایران شرائط پر راضی نہ ہوا تو امریکہ 1945 کے بعد پہلی بار جنگ میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرے گا۔ وہ شخص جس نے یہ ہولناک فیصلہ کیا تھا، اس نے یہ امید کی تھی کہ اس سے وہ عالمی جنگ ختم ہو جائے گی جس میں کروڑوں جانیں ضائع ہوئی تھیں، بشمول لاکھوں امریکی فوجی۔

نو ماہ بعد ٹرومین نے قوم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے امریکیوں کو درپیش ’پختہ عہد‘ کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ’بھوکے بچوں کی پکار کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے. یقیناً ہم ان لاکھوں انسانوں سے منہ نہیں موڑیں گے جو صرف روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں… ہم امریکی نہیں ہوں گے اگر ہم اپنی تقابلی فراوانی کو مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ بانٹنا نہیں چاہیں گے. مجھے یقین ہے کہ میں ہر امریکی کی طرف سے بات کر رہا ہوں جب میں کہتا ہوں کہ امریکہ دنیا کی نصف آبادی کے قحط کو دور کرنے کے لیے اپنی طاقت میں سب کچھ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔‘

یا پھر جے ایف کے تھے، جن کے مرکز (کینیڈی سینٹر) پر اب ٹرمپ کا نام ان کے ساتھ کندہ ہے، جنہوں نے اپنے افتتاحی خطاب میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ دنیا کے ان لوگوں کے لیے ’بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی بدحالی کی زنجیریں توڑنے‘ میں مدد کرے گا جو خوراک یا امید سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو ایسا ووٹ یا شکریہ حاصل کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ’اس لیے کہ یہ صحیح ہے۔‘

20ویں صدی میں امریکہ نے اسے کس حد تک حاصل کیا، یہ ایک ایسا سوال ہے جو مورخین پوچھنا پسند کرتے ہیں اور اس پر بحث کرتے ہیں۔ لیکن جس بات پر بحث نہیں ہو سکتی وہ یہ ہے کہ امریکی رہنماؤں نے دنیا بھر میں امریکہ کا ایک ایسا تصور بنانے میں مدد کی جو پُرکشش، ہمدردانہ، کھلا اور فیاضانہ تھا۔

ایران کے بحران کا آنے والے سالوں میں کیا رخ ہو گا، اس کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔ ہم سب کو یقیناً ایک ایسے دیرپا تصفیے کی امید کرنی چاہیے جو جلد طے پا جائے۔ لیکن یہ ایک عہد کے خاتمے جیسا محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر جب اسے نیٹو کی مسلسل اور کھلم کھلا توہین کے ساتھ دیکھا جائے۔

’پہلے امریکہ‘ کا مطلب ’امریکہ الون‘ (امریکہ تنہا) ہے۔ یہ حالیہ ماضی کے مقابلے میں بالکل ایک مختلف امریکہ محسوس ہوتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *