بریکنگ نیوز کوئی خبر نہیں ہوتی

اسلام آباد حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نہایت اہم سفارتی مذاکرات کی میزبانی کر رہا تھا۔ سفارت کار آئے، دروازے بند ہوئے، بیانات کم آئے، اور خاموشی، سوچی سمجھی، حکمت عملی کے تحت اختیار کی گئی خاموشی راہداریوں میں پھیل گئی۔

دوسرے لفظوں میں، یہ سنجیدہ صحافت کے لیے ایک بہترین موقع تھا۔ اور ظاہر ہے، ایسے ہی موقع پر کچھ اور ہی رونما ہونا تھا۔ سوشل جرنلزم اپنی پوری توانائی، تخلیقی صلاحیت، اور کہیں کہیں ذائقہ دار انداز کے ساتھ میدان میں آ گیا۔

سب سے پہلے ایک سادہ حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ سنجیدہ صحافت صبر، تصدیق اور احتیاط پر قائم ہوتی ہے۔ یہ سمجھتی ہے کہ حساس سفارتی عمل میں خاموشی خلا نہیں بلکہ ایک پیغام ہوتی ہے۔

بعض اوقات ’کوئی خبر نہیں‘ ہی اصل خبر ہوتی ہے۔ مگر اس دور میں جہاں ہر چیز فوری توجہ اور وائرل ہونے کی طلب گار ہو، خاموشی ایک ناقابل برداشت چیز بن جاتی ہے۔ نہ یہ ٹرینڈ کرتی ہے، نہ وائرل ہوتی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ ایئر ٹائم نہیں بھرتی۔

اور پھر سوشل جرنلزم میدان میں آتی ہے۔

جب اندر کمرۂ مذاکرات میں خاموشی تھی، باہر ایک اور کانفرنس جاری تھی۔ مائیکروفونز، موبائل فونز، اور کچھ نہ کچھ ہر وقت کہنے کی بے چینی کے ساتھ۔ جب کوئی سرکاری بیان نہیں ملا، تو غیر سرکاری بیانات کی کمی بھی پوری کر دی گئی۔

’ذرائع‘ اس پورے عمل کے سب سے مصروف کردار بن گئے ۔ ہر وقت بولتے ہوئے، خود سے تضاد کرتے ہوئے، اور حقیقت میں کہیں بھی موجود نہ ہوتے ہوئے۔

ہر چند گھنٹوں بعد ایک نئی ’بریکنگ نیوز‘ سامنے آتی۔ معاہدہ ہونے والا ہے۔ معاہدہ ناکام ہو گیا ہے۔ بڑی پیش رفت ہو گئی ہے۔

وفود ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں نہیں ہیں۔ ہر خبر ایک ہی اعتماد، ایک ہی سنسنی اور ایک ہی غیر مصدقہ بنیاد کے ساتھ پیش کی گئی۔

ناظرین کے لیے یہ سفارتی مذاکرات سے زیادہ ایک ڈرامہ سیریز بن گیا، جہاں کہانی ہر قسط میں بدل جاتی تھی۔ اور کبھی کبھی ایک ہی قسط کے اندر بھی تبدیلی نظر آئی۔

دوسری طرف بین الاقوامی صحافی، جو شاید اب بھی کچھ پرانے اصولوں کے قائل ہیں، ایک عجیب کام کرتے نظر آئے یعنی صرف انتظار۔

وہ تصدیق کرتے، دوبارہ تصدیق کرتے، اور اکثر بہت کم رپورٹ کرتے۔ ان کی زبان محتاط تھی، ان کی رفتار دھیمی تھی، اور ان کی ٹائم لائنز۔ حیرت انگیز طور پر پرسکون۔ کوئی انہیں پیشہ ور بھی کہہ سکتا ہے؟ یہ کیا بات ہوئی کہ ہر 30 منٹ کے بعد بھی کوئی بیپرنہیں۔

مگر جہاں بین الاقوامی میڈیا نے احتیاط کو ترجیح دی، وہاں مقامی کوریج نے تخلیقی راستہ اختیار کیا۔

اگر خبر نہیں ہے تو خبر کی تعریف کو وسیع کر دیں۔ اور یوں تاریخ کی شاید سب سے تفصیلی مہمان نوازی کی رپورٹنگ شروع ہو گئی۔ کھانے قومی دلچسپی کا موضوع بن گئے۔ صحافیوں کو پیش کیے گئے پکوانوں کی اقسام کا تجزیہ اس سنجیدگی سے کیا گیا جیسے یہ کوئی پالیسی دستاویز ہو۔ چائے کے وقفے کو مذاکرات سے زیادہ کوریج ملی۔ ایک موقع پر تو یوں لگا کہ اگر امن معاہدہ نہ بھی ہوا، تو کم از کم ایک مکمل فوڈ ولاگ ضرور تیار ہو جائے گا۔

یہ تبدیلی، مواد سے تماشے کی طرف ، سنجیدہ صحافت اور سوشل جرنلزم کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو واضح کرتی ہے۔

سنجیدہ صحافت مہارتوں پر قائم ہوتی ہے۔  تحقیق، تصدیق، سیاق و سباق کی سمجھ، اور سب سے بڑھ کر ادارتی بصیرت۔

جبکہ سوشل جرنلزم رفتار، نظر آنے اور مقبولیت پر چلتی ہے۔ یہ یہ نہیں پوچھتی کہ ’کیا یہ سچ ہے؟‘ بلکہ یہ پوچھتی ہے ’کیا یہ وائرل ہوگا؟‘

اسلام آباد مذاکرات کے دوران یہ فرق کھل کر سامنے آیا۔ اردو اور انگلش دونوں میڈیا کے کئی صحافی چند بنیادی مہارتوں سے محروم دکھائی دیے۔

مثال کے طور پر تصدیق کی صلاحیت کہیں پیچھے رہ گئی۔ مستند تجزیے اور قیاس آرائی میں فرق مٹتا نظر آیا۔ اور سب سے اہم، سفارتی عمل کی پیچیدگی اور طوالت کو سمجھنے کی صلاحیت کمزور دکھائی دی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاید سب سے بڑی کمی صبر کی تھی۔ سنجیدہ صحافت کا تقاضا ہوتا ہے کہ بعض اوقات انتظار کیا جائے، خاموش رہا جائے، اور صرف تب بات کی جائے جب معلومات مستند ہوں۔ مگر ڈیجیٹل دور میں انتظار گویا غائب ہو جانے کے مترادف ہے۔ اس لیے خاموشی کے خطرے سے بچنے کے لیے شور کو ترجیح دی گئی۔

پھر آتا ہے ذمہ داری کا سوال۔ صحافت صرف جگہ بھرنے کا نام نہیں بلکہ عوام کو درست معلومات فراہم کرنے کی امانت ہے۔

جب افواہوں کو خبر بنا دیا جائے، یا غیر اہم چیزوں کو اصل مسئلے پر ترجیح دی جائے، تو یہ امانت متاثر ہوتی ہے۔ اور بین الاقوامی سفارتکاری جیسے حساس معاملات میں، غلط معلومات محض غلطی نہیں بلکہ نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔

یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ ہر کوئی اس دوڑ کا حصہ نہیں تھا۔ کچھ صحافیوں نے واقعی پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھا، قیاس آرائیوں سے گریز کیا، اور اپنی ساکھ کو ترجیح دی۔ مگر بدقسمتی سے سنجیدگی اکثر شور میں دب جاتی ہے۔

اسلام آباد کے یہ مذاکرات صرف سفارتی نہیں بلکہ صحافتی آئینہ بھی ثابت ہوئے۔ انہوں نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ کیا ہم حقیقت رپورٹ کر رہے ہیں یا صرف اس کا تماشا پیش کر رہے ہیں؟

آخر وقت تک میں، شاید اس پورے واقعے کی سب سے درست ’بریکنگ نیوز‘ یہ ہوتی ’مذاکرات جاری ہیں، کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘ نہ اس میں سنسنی ہے، نہ ڈراما، اور یقیناً یہ وائرل بھی نہیں ہوتی۔ مگر یہ سچ ہوتی۔ اور کبھی صحافت کا مقصد یہی ہوا کرتا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *