وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد آج رات 12 بجے سے پیٹرول 366 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 385 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہو گا۔
قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا: ’اس وقت ڈیزل 520 روپے فی لیٹر ہے، وہ آج رات کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی، جس سے زرعی شعبے میں آسانی ہو گی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی آئے گی۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’پیٹرول کی قیمت میں آج مزید 12 روپے کمی کا اعلان کرتا ہوں، جس کے بعد قیمت آج رات 12 بجے سے 378 سے کم ہو کر 366 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔‘
وزیراعظم نے یہ خطاب ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں امن مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور تہران کے جوابی حملوں کے باعث خطے کی صورت حال کشیدہ تھی اور ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا، جس کے باعث بحری جہازوں کی آمدورفت معطل ہوئی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا اور حکومت نے ملک میں دو بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم رواں ہفتے امریکہ اور ایران میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی اور اب اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل گذشتہ جمعے (3 اپریل) کو بھی وزیراعظم پیٹرول پر عائد لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 378 روپے ہو گئی تھی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا: ’جب سے یہ قیامت خیز مہنگائی کا طوفان آیا ہے، میں نے وعدہ کیا تھا کہ جونہی عالمی منڈی میں تیل کی قمتیں گریں گی، میں وہ فائدہ فی الفور آپ تک پہنچاؤں گا۔‘
انہوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’آج منڈی مں تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی ہوئی ہے، مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ پچھلے چند ہفتوں میں آپ تک اس قیامت خیز مہنگائی کو روکنے کے لیے اپنے وسائل سے جو 129 ارب روپے خرچ کیے تھے، ان خراجات کو کم کرنے کے لیے اب جو تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے، اس کا کچھ حصہ آپ کو پہنچایا جائے اور کچھ حصہ روک کر 129 ارب روپے کے اخراجات میں کمی لانے کے لیے استعمال کیا جائے۔‘
بقول وزیراعظم: ’میں نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر یہ تجویز مسترد کردی ہے، جب قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھی اور مہنگائی کا بوجھ آپ پر آناً فاناً آ پڑا، میں نے اس بات کا خود مشاہد کیا کہ آپ نے کتنے صبرو تحمل اور برداشت کے ساتھ مہنگائی ک بوجھ برداشت کیا۔‘
انہوں نے کہا: ’میں اسے اپنی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ قیمتوں میں کم کا ایک ایک روپیہ آپ کے قدموں میں نچھاور کیا جائے۔‘
