ایل پی جی بحران: انڈیا میں قبرستان میں چھپائے گئے 400 سے زیادہ سلینڈر برآمد

انڈیا میں ایک حکومتی عہدیدار نے جمعرات کو بتایا ہے کہ انڈین پولیس نے اس ہفتے حیدرآباد شہر کے ایک قبرستان میں چھپائے گئے کھانا پکانے والی گیس کے 414 سلینڈر قبضے میں لے لیے۔

پولیس نے ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی قلت کے دوران گیس سلینڈروں کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے کی کوشش میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے باعث سمندر کے راستے گیس کی ترسیل متاثر ہونے اور فراہمی میں قلت پیدا ہونے کے بعد، حکام نے مائع پیٹرولیم گیس کے سلینڈروں کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔

دنیا میں ایل پی جی کا دوسرا بڑا درآمد کنندہ انڈیا اپنی تقریباً 60 فیصد طلب بیرون ملک سے خریداری کے ذریعے پوری کرتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ مشرق وسطیٰ سے منگوایا جاتا ہے۔

پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت کی ایک اعلیٰ عہدیدار سجاتہ شرما نے مشرق وسطیٰ کے بحران پر معمول کی بریفنگ میں بتایا: ’صرف کل ہی، تقریباً 2600 چھاپے مارے گئے اور قریباً 700 سلینڈر قبضے میں لیے گئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس کے علاوہ، حال ہی میں حیدرآباد میں ایک قبرستان کے اندر ایک ہی جگہ سے تقریباً 400 سلینڈر ملے ہیں۔ وہاں 10 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور اس میں ملوث ڈسٹری بیوٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس نے بتایا کہ ملزم قبرستان سے کمرشل اور گھریلو دونوں طرح کے سلینڈر موجودہ مارکیٹ کی قیمت سے تقریباً تین گنا زیادہ پر فروخت کر رہے تھے۔ ایک کمرشل سلینڈر جس کی قیمت تقریباً 2100 انڈین روپے (22 ڈالر) ہے، اسے 6000 روپے تک میں فروخت کیا گیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ قبضے میں لیے گئے سلینڈروں اور ملزموں کے زیر استعمال کچھ گاڑیوں کی کل مالیت تقریباً 22 لاکھ روپے تھی۔ روئٹرز فوری طور پر ملزمان یا ان کے نمائندوں سے رابطہ نہیں کر سکا۔

سجاتہ شرما نے کہا: ’گھریلو صارفین کو قدرتی گیس کی فراہمی 100 فیصد یقینی ہے۔ جہاں تک ایل پی جی کی فراہمی کا تعلق ہے، تو بین الاقوامی سطح پر عدم استحکام کے باوجود قیمتیں مستحکم رہی ہیں اور گھریلو ایل پی جی سلینڈروں کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔‘

ایل پی جی کی فراہمی پر دباؤ کو کم کرنے کے لیے، انڈیا مٹی کے تیل، کوئلے اور بائیو گیس جیسے متبادل ذرائع کے استعمال کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ گھروں کے لیے پائپ کے ذریعے قدرتی گیس کی فراہمی کے عمل کو بھی تیز کیا جا رہا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *