صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے حل کے لیے ’بہت مثبت بات چیت‘ جاری ہے۔
تاہم بات چیت کے باوجود انہوں نے اعلان کیا کہ امریکی افواج جلد ہی آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے ان کی مدد اور رہنمائی شروع کریں گی۔
اس سے پہلے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا تھا کہ تہران نے ’جنگ کے خاتمے پر مرکوز‘ 14 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے اور واشنگٹن نے اس کا جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا ’مجھے مکمل علم ہے کہ میرے نمائندے ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت کر رہے ہیں اور یہ بات چیت سب کے لیے بہت مثبت نتیجہ لا سکتی ہے۔‘
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے جن میں ایران کے سپریم لیڈر جان سے گئے تھے۔ تہران نے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیلی اہداف پر حملے کیے تھے۔
آٹھ اپریل کو امریکہ اور ایران میں جنگ بندی نافذ ہوئی جس کے بعد اسلام آباد میں براہ راست امن مذاکرات کا ایک دور بھی ہو چکا ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان ڈیڈلاک برقرار ہے۔
جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، جس سے عالمی معیشت کے لیے تیل، گیس اور کھاد کی بڑی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر جوابی ناکہ بندی لگا رکھی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ’دنیا بھر کے ممالک‘ نے اس اہم آبی راستے اور خلیج سے نکلنے کے لیے امریکی مدد کی درخواست کی ہے۔
ان کے مطابق ’ایران، مشرق وسطیٰ اور امریکہ کی بہتری کے لیے ہم نے ان ممالک سے کہا ہے کہ ہم ان کے جہازوں کو پابندی والے آبی راستوں سے بحفاظت باہر نکالیں گے تاکہ وہ آزادانہ اور مکمل طور پر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔‘
انہوں نے کہا ’یہ عمل، پروجیکٹ فریڈم، پیر کی صبح مشرق وسطیٰ کے وقت کے مطابق شروع ہوگا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے اسے یہ کہتے ہوئے ’انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام‘ قرار دیا کہ پھنسے ہوئے بہت سے جہازوں میں ’خوراک اور عملے کی صحت اور صفائی برقرار رکھنے کے لیے ضروری تمام اشیا کی کمی‘ ہوتی جا رہی ہے۔
ٹرمپ نے اس مشن کی عملی تفصیلات بہت کم بتائیں، لیکن آبنائے ہرمز کے تنگ حصے سے جہازوں کی رہنمائی کا آپریشن امریکی اہلکاروں کو ایرانی فورسز کے بہت قریب لا سکتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر کہا کہ پیر سے اس کی فورسز پروجیکٹ فریڈم پر کام شروع کریں گی، جس میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد فضائی و بحری جہاز، متعدد ڈومینز میں کام کرنے والے بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز اور 15,000 اہلکار شامل ہوں گے۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے بیان میں کہا ’اس دفاعی مشن کے لیے ہماری سپورٹ خطے کی سکیورٹی اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے جب کہ ہم بحری ناکہ بندی بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔‘
میرین انٹیلیجنس فرم اے ایکس ایس میرین کے مطابق 29 اپریل تک خلیج میں 900 سے زیادہ تجارتی جہاز موجود تھے، جب کہ تنازعے کے آغاز پر یہ تعداد 1,100 سے زیادہ تھی۔
