لاہور کی عدالت نے گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر 100 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر آٹھ سال بعد فیصلہ سنا دیا ہے۔
لاہور کے ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کے خلاف دعوے کو ڈگری کر دیا۔ عدالت نے میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
یہ مقدمہ گزشتہ آٹھ سال سے زیرِ سماعت تھا، جس کے دوران مجموعی طور پر نو ججز تبدیل ہوئے جبکہ 283 پیشیوں میں 20 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔
لاہور کی سیشن عدالت نے معروف گلوکار علی ظفر کی جانب سے گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف دائر ہتکِ عزت کے دعوے پر آٹھ سال سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ محض ایک دیوانی تنازع نہیں بلکہ پاکستان میں ہراسانی، سوشل میڈیا اور آزادی اظہار سے جڑے قانونی و سماجی معاملات کا مرکزی کیس بنا رہا ہے۔ جس کی گونج مقامی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک سنائی دیتی رہی۔
اپریل 2018 میں میشا شفیع کی جانب سے سوشل میڈیا پر علی ظفر کے خلاف لگائے گئے ہراسانی کے الزامات نے اس تنازع کو جنم دیا۔ اس کے ردعمل میں علی ظفر نے لاہور کی سیشن عدالت میں ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ الزامات سے ان کی شہرت اور کیریئر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
میشا شفیع نے ہراسانی کے الزامات کے ازالے کے لیے وفاقی محتسب برائے ہراسانی سے رجوع کیا۔ تاہم محتسب عدالت نے یہ کیس دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا۔ اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ لیکن وہاں بھی محتسب کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔
بعد ازاں معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان تک پہنچا۔ جہاں عدالتِ عظمیٰ نے بھی اس موقف کی توثیق کی کہ موجودہ قانون کے تحت اس نوعیت کے تعلق پر ہراسانی کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ ہراسانی ایک سنجیدہ معاملہ ہےلیکن اس کے لیے مناسب قانونی فورم اور شواہد ضروری ہیں۔
لاہور کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج آصٖف حیات باجوہ کی عدالت میں دائر ہتکِ عزت کیس میں علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی تھے۔ انہوں نے مالی اور ساکھ کے نقصان کا ازالہ طلب کیا۔ جبکہ میشا شفیع کی جانب سے وکیل کے ذریعےموقف اپنایا گیا کہ ان کا بیان ذاتی تجربے پر مبنی تھا۔
اسے اظہارِ رائے اور عوامی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
عدالت میں گواہان کے بیانات، جرح اور دستاویزی شواہد پیش کیے گئے جس کے بعد حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
قانونی و سماجی اہمیت
یہ کیس کئی حوالوں سے سنگ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس میں ہراسانی کے قوانین کی حدود واضح ہوئیں۔ سوشل میڈیا کے بیانات کی قانونی حیثیت زیرِ بحث آئی۔ پہلی بار ہتکِ عزت اور آزادی اظہار کے درمیان توازن پر بحث ہوئی۔
جب یہ معاملہ عدالت میں پہنچا تو سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر می ٹو جیسی مہم کو بھی تقویت ملی۔ اس دوران خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے میشا شفیع کا ساتھ دیا جبکہ بعض صارفین گلوکار علی ظفر کی حمایت میں بات کرتے دکھائی دیے۔
گلوکار علی ظفر کے سو کروڑ (ایک ارب) روپے ہتک عزت دعوی کے جواب میں میشا شفیع نے بھی 2019 میں علی ظفر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ہتک عزت کا دو ارب روپے کا دعویٰ دائر کیا تھا جسے فروری 2020 میں مسترد کر دیا گیا تھا۔
میشا شفیع کی قانونی ٹیم کی رکن نگہت داد کے مطابق اس کیس کو سیشن کورٹ نے اس لیے مسترد کیا تھا کیونکہ علی ظفر کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کی جانب سے پہلے دائر کردہ مقدمہ اور یہ کیس ایک ہی نوعیت کا ہے۔ لہذا پہلے والے مقدمے کا فیصلہ ہونے تک قانونی طور پر اس کی سماعت نہیں ہوسکتی۔
نگہت داد کے مطابق میشا شفیع کی جانب سے علی ظفر پر ہتکِ عزت کا دعوی اس لیے کیا گیا کیونکہ جب میشا نے علی کے خلاف ہراساں کیے جانے پر قانونی راستہ اختیار کیا تو انہوں نے مختلف انٹرویوز اور اپنے بیانات میں میشا کے خلاف باتیں کیں جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا۔ دیگر الزامات کے علاوہ علی نے میشا پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ یہ سب اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ وہ کینیڈا کی شہریت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
میشا شفیع نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’اس طرح کھل کر بات کرنا آسان نہیں ہے، لیکن خاموش رہنا اور بھی زیادہ مشکل ہے۔ میرا ضمیر مجھے اب مزید اس کی اجازت نہیں دیتا۔ میری ہی صنعت میں میرے ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی نے مجھے ایک سے زیادہ بار جنسی طور پر ہراساں کیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ سب تب نہیں ہوا جب میں چھوٹی تھی یا صنعت میں نئی تھی۔ یہ میرے ایک پراعتماد، کامیاب اور چپ نہ رہنے والی عورت ہونے کے باوجود ہوا۔ یہ میرے ساتھ دو بچوں کی ماں ہونے کے باوجود ہوا۔’
اس ضمن میں پہلا مقدمہ علی ظفر کی جانب سے 2018 میں لاہور کی سیشن عدالت میں میشا کے خلاف ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دعویٰ دائر کیا تھا۔
میشا شفیع کی جانب سے سیشن عدالت اور محتسب کے بعد یہی درخواست گورنر پنجاب کے پاس دی اور اسے وہاں سے بھی مسترد کر دیا گیا۔
میشا نے محتسب اور گورنر کی جانب سے اپنی شکایت کو مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ میں کام کرنے کی جگہ پر ہراساں کرنے کے خلاف پنجاب پروٹیکشن برائے خواتین ایکٹ2012 کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد اکتوبر 2019 میں ان کی اپیل کو وہاں سے اس بنیاد پر خارج کر دیا گیا کہ میشا شفیع اور کمپنی کے مابین معاہدہ خدمات کی فراہمی کے لیے کیا گیا تھا اور اس کی ایک شق کے مطابق فریقین کے درمیان تعلقات کو ملازمت تصور نہیں کیا جا سکتا۔
اس کے بعد میشا کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں کی گئی یہ اپیل بھی خارج کر دی گئی۔
علی ظفر نے 2018 میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کے پاس بھی میشا کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ بہت سارے سوشل میڈیا اکاونٹ ان کے خلاف دھمکیاں اور بدنامی پر مبنی مواد پوسٹ کر رہے ہیں۔
اس تحریری شکایت کے ساتھ ثبوت کے طور پر کچھ ایکس اور فیس بک اکاونٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق تقریباً آٹھ برس سے جاری یہ تنازع اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ تاہم اس کے اثرات پاکستان کے قانونی، سماجی اور ثقافتی منظرنامے پر دیرپا رہیں گے۔
یہ کیس اس بات کی ایک اہم مثال بن چکا ہے کہ کس طرح ایک سوشل میڈیا بیان پورے قانونی نظام کو متحرک کر سکتا ہےاور نچلی عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔
