امریکہ و اسرائیل کی ایران پر مسلط جنگ امسال پاکستان کی سیاحت کے رنگ دھندلے کرنے والی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی اور پاکستان فوج کا عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن بھی سیاحت کی سرد بازاری کا سبب بن سکتا ہے۔
ملک کے سرد پہاڑی علاقوں کا رخ کرنے والے سیاح مہنگے تیل کے سبب سفری اخراجات میں اضافے کی وجہ سے گھر بیٹھنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں بے تحاشا اضافہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد میں کمی کا سبب بنتا ہے۔
گذشتہ ہفتے گزرنے والی عید کی چھٹیوں کے دوران بھی ہل سٹیشن ویران نظر آئے حالانکہ انہی دنوں کچھ علاقوں میں برف باری بھی ہوئی۔
معمول کے برعکس اس بار ناران کے ہوٹل مالکان و ٹھیکے داروں نے بھی ترئین و آرائش پر پیسہ خرچ کرنے سے ہاتھ روک رکھا ہے۔
اپریل کے پہلے ہفتے میں ہمیشہ برف باری سے بند ہو چکی پہاڑی گزر گاہیں کھولنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جو مئی کے آخر تک مکمل ہوتا ہے۔
میدانی علاقوں کو پاکستان کی شمالی وادیوں گلگت و سکردو سے ملانے والی عظیم بلندی، درہ بابو سر ٹاپ بھی جون کے پہلے ہفتے کھول دیا جاتا ہے۔
برزل ٹاپ ، درہ خنجراب اور درہ شیندور کی طرف بھی ابھی تک برفیلی خاموشی کا راج ہے۔
سوشل میڈیا صارفین ابھی تک جنگ جنگ کھیل رہے ہیں اس لیے سیاحوں نے نانگا پربت، راکا پوشی، مشہ بروم، کے ٹو، کنکورڈیا، گوپس اور شمشال کی تصویریں پوسٹ کرنا شروع نہیں کیں۔
حالانکہ مارچ کے وسط میں سیاحت کا بازار سوشل میڈیا پر گرم ہوتا ہے اور مئی کے آخر تک لوگ بل کھاتی سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔
افغانستان کی پاکستان کے ساتھ 2679 کلومیٹر طویل سرحد سے ملحق علاقے ضلع چترال، دروش اور وادئ کیلاش اس بار سیاحوں کے لیے کم کشش کا باعث ہوں گے جس سے ضلع چترال کے قرب میں واقع ترچ میر ایسی خوبصورت چوٹی اور درہ شیندور پر شائد ویرانی رہے۔
مردان تا مینگورہ شہر اور سوات کی پوری وادی پہلے جیسی کشش سے خالی ہوں گی۔ تیمرہ گرہ سے کمراٹ تک بھی یہی صورتحال ہو سکتی ہے۔
افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان کے شہر زیارت میں بھی ویرانی ہے، یہ شہر تو سیاحت کا مرکز تھا۔ وادی نیلم تا شونٹر ویلی تک انڈین جارحیت کے خدشات کے سبب سیاحوں کی کم توجہ حاصل کر سکتی ہے۔
وادئ بمبوریت، رمبور، بریر، گرم چشمہ، برموغلاشٹ جیسے پرکشش علاقوں کی سیاحت افغانی منافقت کی بھینٹ چڑھ سکتی ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سیاحت کے لیے انسان کی مادی آسودگی کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون بھی لازمی جزو ہے۔
امسال ہمسایہ ممالک میں جنگی صورت حال نے کچھ تو مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے اور کچھ احساس عدم تحفظ بھی گھر سے نکلنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
جنگ کے ماحول میں جہاں دیگر کاروبار برباد ہوتے ہیں وہاں سیاحت بھی تباہ ہو جاتی ہے۔
اپریل کے وسط تک بھی اگر عالمی امن قائم ہو گیا تو پاکستان میں سیاحت پررونق تو ہوگی مگر اس سال عروج نہیں ملے گا۔
پاکستان وہ خوش نصیب ملک ہے جہاں ایک ہی وقت میں چار موسم اور دریاؤں کا خود کفیل نظام موجود ہے۔
دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ پاکستان میں موجود ہیں۔
ان پر پڑنے والی برف جہاں دریاؤں کا رزق بنتی ہے وہاں ان سے کئی جھیلیں اور چراگاہیں آباد ہوتی ہیں، مگر کسی ہمسایہ ملک کے جنگی حالات ہمارا سب کچھ برباد کر دیتے ہیں۔
امن قائم ہو تو پاکستان دنیا کے بڑے سیاحتی ممالک میں سے ایک ہے۔
نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
