سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے 26 مارچ کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’کراچی سے گزشتہ 24 دنوں کے دوران ہونے والی ترسیلات تقریباً پورے سال کے برابر ہو چکی ہیں۔‘ اسے انہوں نے شہر کی معاشی بحالی کی علامت قرار دیا۔
ان کے مطابق خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث وہاں ترسیل کی لاگت اور رسک پریمیم کراچی کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیوں کا رخ کراچی کی جانب مڑ رہا ہے۔
یہ ٹویٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں غیر یقینی صورت حال، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور علاقائی تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، عالمی سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہیں۔
اس تناظر میں یہ جاننا اہم ہو جاتا ہے کہ آیا واقعی کراچی پورٹ ٹرسٹ پر سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے یا یہ تاثر زمینی حقائق سے مختلف ہے، کیونکہ اس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، لاجسٹکس سیکٹر اور برآمدات پر پڑ سکتا ہے۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان شارق فاروقی نے انڈپینڈنٹ اردو سے 26 مارچ کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ: ’کراچی پورٹ ٹرسٹ کے مطابق کراچی پورٹ پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 165,476 میٹرک ٹن کارگو ہینڈل کیا گیا۔
’اعداد و شمار کے مطابق اس میں 41,209 میٹرک ٹن برآمدی (ایکسپورٹ) جبکہ 124,267 میٹرک ٹن درآمدی (امپورٹ) کارگو شامل ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درآمدات کا حجم زیادہ رہا۔‘
پورٹ حکام کے مطابق ’اس دوران سات جہاز کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوئے، جن میں کنٹینر شپ، ٹینکر اور بلک کارگو بردار جہاز شامل تھے، جبکہ چھ جہاز اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔‘
کارگو کی اقسام میں کنٹینرائزڈ کارگو سب سے نمایاں رہا، جس کی مقدار 110,040 میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ کلنکر، سیمنٹ، چاول، کھاد اور مائع کارگو بھی ہینڈل کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ دو روز کے دوران مزید متعدد کنٹینر بردار اور دیگر جہازوں کی آمد متوقع ہے، جس سے پورٹ پر تجارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
مزید برآں، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے دوران کراچی پورٹ پر آنے والے جہازوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جب اس کا موازنہ گذشتہ ماہ اور گذشتہ سال کے اسی عرصے سے کیا جائے۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف اقسام کے ویسلز، خاص طور پر کنٹینر شپ اور ٹینکرز کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، جو تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
کارگو کی اقسام میں بھی تنوع دیکھا گیا، جن میں سیمنٹ، کلنکر، چاول، کیمیکلز اور آئل مصنوعات شامل ہیں، جو صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔
لاجسٹکس شعبے کا مختلف مؤقف
تاہم زمینی سطح پر کام کرنے والے لاجسٹکس شعبے کے نمائندگان اس تصویر کو اتنا واضح اور یکطرفہ نہیں سمجھتے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین امداد حسین نقوی کے مطابق: ’ترسیلات یا لاجسٹکس سروسز میں کوئی غیر معمولی تیزی دکھائی نہیں دے رہی۔‘
ان کے بقول ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی بندش کے باعث نہ صرف افغان تجارت بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے لاجسٹکس سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
اسی طرح آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شعیب اشرف نے بھی اس تاثر کو محدود قرار دیا۔
ان کے مطابق ’ایکسپورٹرز اور کلیئرنگ ایجنٹس سے ہونے والی بات چیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بندرگاہ پر بڑی مقدار میں مال، خصوصاً ریفر کنٹینرز، رکا ہوا ہے۔‘
اس صورت حال کے باعث برآمد کنندگان کو ڈیمرج کی مد میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ یورپ اور امریکہ کے لیے بھیجی جانے والی اشیا، جن میں گوشت، انڈے اور سبزیاں شامل ہیں، تاخیر کا شکار ہیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں: عارضی بہتری یا مستقل تبدیلی؟
دوسری جانب ماہرِ معاشیات شہریار بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے اپنے تجزیے میں کہا کہ ’اس صورت حال کو ایک عارضی مگر اہم معاشی موقع قرار دیتے ہیں۔‘
ان کے مطابق خطے میں جنگی نوعیت کی صورت حال کے باعث سرمایہ کاری میں کمی، کاروباری سرگرمیوں میں سست روی اور آبادی کی نقل مکانی جیسے عوامل پیدا ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں کچھ تجارتی دباؤ پاکستان کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی بندرگاہوں پر کنٹینرز کی ہینڈلنگ میں حالیہ اضافہ اسی تبدیلی کا نتیجہ ہے، جہاں معمول سے زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
تاہم وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی مستقل رجحان نہیں بلکہ ایک قلیل مدتی تبدیلی یا ’شارٹ ٹرم شفٹ‘ ہے، جو صرف اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک مڈل ایسٹ میں غیر یقینی صورت حال قائم ہے۔
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے وہ ماضی کی مثال دیتے ہیں کہ ’جب انڈیا میں چاول کی سپلائی متاثر ہوئی تھی تو پاکستان کی رائس ایکسپورٹ میں نمایاں اضافہ ہوا، لیکن جیسے ہی انڈیا دوبارہ مارکیٹ میں آیا تو پاکستان کا حصہ کم ہو گیا۔‘
ان کے مطابق موجودہ صورت حال بھی اسی نوعیت کی ہے، یعنی حالات معمول پر آتے ہی تجارتی بہاؤ اپنی اصل سمت اختیار کر لے گا۔
شہریار بٹ کے مطابق اس دوران پاکستان کے لاجسٹکس اور شپنگ کے شعبے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، بندرگاہی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور کارپوریٹ سیکٹر کو وقتی سہارا ملے گا۔ وہ یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی آمدنی میں اضافے کے باعث ترسیلاتِ زر میں بہتری آ رہی ہے، جو معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ ’ان عارضی فوائد کے باوجود پاکستان کو اپنے اندرونی مالی مسائل سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔‘
ان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس اہداف کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ جاری معاملات معیشت پر دباؤ ڈالے ہوئے ہیں۔
اسی تناظر میں مالیاتی تجزیہ کار عتیق الرحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت پورٹ ٹرانس شپمنٹ کے حوالے سے خاصی مصروفیت کا سامنا کر رہا ہے، تاہم اس موقع سے مؤثر فائدہ اٹھانے کے لیے بندرگاہوں کی ترقی ناگزیر ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق ملک کو اپنی لاجسٹکس سپورٹ سروسز اور سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانا ہوگا تاکہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پورٹ چارجز میں کچھ رعایت دی گئی ہے اور عید کے دوران بھی آپریشنز جاری رکھے گئے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنے تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا۔
عتیق الرحمٰن کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرے تاکہ بندرگاہوں اور میری ٹائم سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور انہیں عالمی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔
مجموعی طور پر کراچی پورٹ پر سرگرمیوں میں حالیہ اضافہ ایک مثبت اشارہ ضرور ہے، تاہم ماہرین اسے مستقل معاشی بحالی کے بجائے زیادہ تر ایک عارضی رجحان قرار دیتے ہیں۔
خطے میں کشیدگی اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے وقتی طور پر پاکستان کو فائدہ پہنچایا ہے، لیکن اس موقع سے دیرپا فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک اپنی بندرگاہی سہولیات، لاجسٹکس نظام اور برآمدی صلاحیت کو مضبوط بنائے۔ بصورت دیگر، حالات معمول پر آتے ہی تجارتی بہاؤ دوبارہ اپنی پرانی سمت اختیار کر سکتا ہے۔

