سوامی نارائن مندر میں ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی کچھی مہیشوری لیگ کی جانب سے 14 جوڑوں کی سموں وِواہ (اجتماعی شادی) کرائی گئی، جہاں مہنگائی اور بڑھتے اخراجات کے باعث شادی نہ کر پانے والے خاندانوں نے سکھ کا سانس لیا۔
اجتماعی شادی کرنے والے جوڑوں میں پونم اور لچھمن بھی شامل تھے، جو گزشتہ دو سے تین برس سے مالی مشکلات کے باعث شادی نہیں کر پا رہے تھے۔
دولہا لچھمن کے والد مٹھو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ مہنگائی کے دور میں شادی بہت مہنگی ہو گئی ہے۔ ہم اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے، اسی لیے اجتماعی شادی کا سہارا لینا پڑا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’میں نے بیٹے کا نام اس لیے سموں وِواہ میں لکھوایا کہ سامنے لڑکی والے بھی غریب ہیں اور ہم بھی غریب تھے، اس لیے شادی نہیں ہو پا رہی تھی۔ اسی لیے آج اجتماعی شادی میں بیٹے کی شادی کروا رہا ہوں۔‘
مٹھو کہتے ہیں: ’صرف شادی کی تقریب ہی نہیں بلکہ لڑکی کو سونا اور دیگر ضروری سامان دینا بھی والدین کے لیے بڑا بوجھ بن چکا ہے۔‘
دولہا لچھمن نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’لڑکی کو سونا سمیت دوسری چیزیں بھی دینی پڑتی ہیں، جس پر تین سے چار لاکھ روپے تک خرچ آ جاتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
راج کی دلہن پونم نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’میں اپنی شادی پر بہت خوش ہوں۔‘
تقریب کی منتظم برمیلا نے انڈپینڈنٹ اردو سے کہا کہ کراچی کی ہندو برادری میں کئی خاندان ایسے ہیں جہاں مالی مشکلات کے باعث لڑکیوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں۔
برمیلا نے کہا کہ ’بہت سی لڑکیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے کنواری بیٹھی رہتی ہیں، جبکہ بعض اوقات رشتے بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ایسے خاندانوں کی مدد کی جائے تاکہ بچیوں کی شادیاں ممکن ہو سکیں۔‘
منتظمین کے مطابق اجتماعی شادیوں کا مقصد نہ صرف غریب خاندانوں کا مالی بوجھ کم کرنا ہے بلکہ معاشرے میں سادگی سے شادیوں کو فروغ دینا بھی ہے۔
