یوکرینی صدر کا سعودی عرب کا اچانک دورہ، محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کے درمیان جمعرات کو جدہ میں اہم ملاقات ہوئی ہے۔

یوکرین کے صدر نے سعودی عرب کا اچانک دورہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک یوکرین کی فضائی دفاعی ٹیکنالوجی میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق زیلنسکی نے جدہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور یوکرین بحران پر بات کی۔

ملاقات سے قبل زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ ’سعودی عرب پہنچ گیا ہوں، اہم ملاقاتیں شیڈول ہیں۔ ہم حمایت کو سراہتے ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں جو سکیورٹی یقینی بنانے میں ہمارے ساتھ ہیں۔‘

عرب نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ’سکیورٹی تعاون، بالخصوص فضائی دفاع‘ سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط متوقع تھے۔

کیف خلیجی ممالک کو روسی ڈرونز مار گرانے کے اپنے تجربے سے فائدہ پہنچانا چاہتا ہے، کیونکہ ان ممالک کو بھی انہی ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کا سامنا ہے جو روس یوکرین کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زیلنسکی کے مطابق جنگ کے آغاز (28 فروری) سے اب تک 200 سے زائد یوکرینی اینٹی ڈرون ماہرین مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات کیے جا چکے ہیں۔

یوکرین سستے ڈرون انٹرسیپٹرز، الیکٹرانک جیمنگ آلات اور اینٹی ایئر کرافٹ گنز کے امتزاج کو شاہد ڈرونز کے خلاف مؤثر دفاعی نظام کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

یوکرین نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ وہ اپنے انٹرسیپٹرز کے بدلے خلیجی ممالک سے مہنگے فضائی دفاعی میزائل حاصل کرے، کیونکہ اسے روسی میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کی زیادہ ضرورت ہے۔

گذشتہ سال سعودی عرب نے امریکی حکام کی میزبانی بھی کی تھی، جہاں یوکرین اور روسی وفود کے ساتھ الگ الگ مذاکرات ہوئے تھے تاکہ 2022 میں روس کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *