گھر میں خود سے کھانا پکانا بزرگ افراد میں ڈیمنشیا کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے، ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔
عمر رسیدہ افراد اکثر وقت کے ساتھ منجمد کھانوں اور مائیکروویو میں تیار ہونے والے کھانوں پر زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں، خاص طور پر اگر انہیں کسی قسم کی ذہنی کمزوری کا سامنا ہو۔
تاہم جاپان میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بزرگ افراد کے لیے کھانا تیار کرنا نہ صرف جسمانی سرگرمی کا ایک اہم ذریعہ ہے بلکہ یہ ذہنی طور پر بھی ایک محرک کا کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ عمل ڈیمنشیا کے خطرے کو 30 فیصد تک کم کر سکتا ہے جبکہ ایسے افراد جو کھانا پکانے میں کم مہارت رکھتے ہیں، ان میں یہ خطرہ 70 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
محققین نے کہا ’جیسے جیسے لوگ زیادہ بار کھانا پکاتے ہیں، ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہوتا جاتا ہے، اور کھانا پکانے کے فوائد خاص طور پر ان افراد میں زیادہ نمایاں ہیں جن کی باورچی خانے کی مہارت کم ہوتی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ایسا ماحول پیدا کرنا جہاں لوگ بڑھاپے میں بھی کھانا پکا سکیں، ڈیمنشیا کی روک تھام کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔‘
یہ تحقیق جرنل آف ایپیڈیمیالوجی اینڈ کمیونٹی ہیلتھ میں شائع ہوئی، جس میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 10 ہزار 978 افراد کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا گیا۔ ان افراد کی ذہنی صحت کو 2022 تک چھ سال کے عرصے میں جاپان جیرونٹولوجیکل ایویلیوایشن سٹڈی کے تحت مانیٹر کیا گیا۔
شرکا سے سوالناموں کے ذریعے یہ معلوم کیا گیا کہ وہ گھر میں کتنی بار شروع سے کھانا پکاتے ہیں، جبکہ ان کی باورچی خانے کی مہارت کو سات عوامل کی بنیاد پر جانچا گیا، جن میں پھل اور سبزیوں کو چھیلنے کی صلاحیت بھی شامل تھی۔
تقریباً نصف شرکا ہفتے میں کم از کم پانچ بار کھانا پکاتے تھے جبکہ ایک چوتھائی سے زیادہ افراد ایسا نہیں کرتے تھے۔ خواتین اور تجربہ کار باورچی مردوں اور کم تجربہ رکھنے والوں کے مقابلے میں گھر میں زیادہ کھانا پکاتے تھے۔
فالو اپ کے دوران ایک ہزار 195 افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی، 870 افراد کا انتقال ہوا جبکہ مزید 157 افراد ڈیمنشیا کی تشخیص سے پہلے کہیں اور منتقل ہو گئے۔
اعدادوشمار کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ گھر میں زیادہ کھانا پکانے کا تعلق مردوں اور خواتین دونوں میں ڈیمنشیا کے کم خطرے سے ہے۔
جو مرد ہفتے میں کم از کم ایک بار گھر میں کھانا پکاتے تھے، ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ ان افراد کے مقابلے میں 23 فیصد کم تھا جو ہفتے میں ایک بار سے بھی کم کھانا پکاتے تھے۔ اسی طرح خواتین میں یہ کمی 27 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
مزید برآں جن افراد کی کھانا پکانے کی مہارت کم تھی، ان کے لیے ہفتے میں کم از کم ایک بار گھر میں کھانا پکانا ڈیمنشیا کے خطرے میں 67 فیصد کمی سے منسلک پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے افراد کے لیے کھانا پکانا ایک نیا تجربہ ہوتا ہے، جو ذہنی طور پر زیادہ تحریک پیدا کرتا ہے۔
محققین نے کہا کہ کھانا تیار کرنا ’ذہنی تحرک کے مواقع فراہم کرتا ہے کیونکہ اس میں متعدد مراحل پر مشتمل پیچیدہ عمل شامل ہوتا ہے‘، جیسے منصوبہ بندی، اشیا کی خریداری، کھانا تیار کرنا اور پیش کرنا۔
برطانیہ میں اندازاً 9 لاکھ 82 ہزار سے 10 لاکھ افراد ڈیمنشیا کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اور توقع ہے کہ عمر رسیدہ آبادی میں اضافے کے باعث یہ تعداد 2040 تک 14 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم متحرک رہنا، متوازن غذا لینا اور سماجی طور پر جڑے رہنا دماغی صحت کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
لوفبرو یونیورسٹی کی حیاتیاتی نفسیات کی پروفیسر ایِف ہوگروورسٹ نے کہا ’کھانا پکانا ایک پیچیدہ سرگرمی ہے جس میں سفر کرنا، پیسوں کا لین دین، تنظیم سازی اور خریداری کے لیے یادداشت کا استعمال شامل ہوتا ہے۔‘
انہوں نے وضاحت کی کہ ماضی کی تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ ڈیمنشیا کی تشخیص سے چند سال پہلے وزن میں کمی ہو سکتی ہے ’کیونکہ لوگ کھانا کھانا بھول جاتے ہیں یا پھر ان میں کھانا پکانے کی مہارت باقی نہیں رہتی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’زیادہ تر بازار سے منگوائے گئے کھانے چکنائی اور نمک سے بھرپور ہوتے ہیں، اس لیے گھر میں تازہ اجزا کے ساتھ تیار کیا گیا کھانا مجموعی صحت کے لیے بہتر ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔‘
