2022 سے اب تک: تحریک انصاف کے لانگ مارچ کی کہانی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چار اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان نے سیاسی ایوانوں میں ہلچل پیدا کر رکھی ہے اور شہر اقتدار کی سڑکوں پر تاحال کنٹینرز  کا راج ہے۔

ایک طرف مارچ کے دن قریب آتے جا رہے ہیں، وہیں آج پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات بھی ہونے جا رہے ہیں۔

اس سیاسی ملاقات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن یہاں ان سطور میں ہم پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کو دیے گئے ’ٹف ٹائم‘ اور اب تک کے احتجاجوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

اپریل 2022 میں پاکستان کی سیاست میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا، جب سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی حکومت تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ختم ہوئی، جس نے ایک نئی سیاسی کشمکش کو جنم دیا جو آج تک جاری ہے۔

اس وقت سے سڑکوں پر احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنوں کا ایک بظاہر نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔

اور صرف ایک ماہ بعد یعنی مئی 2022 کو پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب ’آزادی‘ کے نام سے پہلے مارچ کا اعلان کیا۔

22  مئی کو مظاہرین ریڈ زون تک پہنچے، پولیس سے جھڑپیں ہوئیں اور بالآخر عمران خان نے مارچ ختم کرتے ہوئے حکومت کو چھ دن میں اسمبلیاں تحلیل کرکے عام انتخابات کروانے کا الٹی میٹم دے دیا۔

لیکن یہ صرف عارضی تعطل تھا۔

اکتوبر 2022 میں پی ٹی آئی ایک بار پھر سڑکوں پر تھی۔ لاہور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع ہوا، جس کا مقصد حکومت پر دباؤ اور فوری انتخابات کا مطالبہ تھا۔

لیکن 3 نومبر کو وزیرآباد میں عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ نے پورے مارچ کا رخ بدل دیا۔ عمران خان زخمی ہوئے اور مارچ عارضی طور پر رک گیا۔

پھر آیا 9 مئی 2023، جب عمران خان کی گرفتاری کے بعد مختلف شہروں میں غیر معمولی احتجاج شروع ہو گئے۔

کئی مقامات پر سرکاری اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا، جس کے بعد ملک بھر میں تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگلا سال یعنی 2024 بھی احتجاج سے خالی نہ رہا۔

فروری کے عام انتخابات کے بعد پی ٹی آئی نے مبینہ انتخابی دھاندلی اور اپنے مینڈیٹ سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے مختلف شہروں میں احتجاج کیے۔

ستمبر اور اکتوبر 2024 میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

اکتوبر میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف بھی احتجاج کیا گیا لیکن سب کی نظریں پھر نومبر پر جا ٹھہریں۔

نومبر 2024 میں پی ٹی آئی نے ایک بار پھر اسلام آباد کا رخ کیا۔

اس بار خطرناک نعرہ تھا: ’ڈو اور ڈائے۔‘ جبکہ مطالبات میں عمران خان کی رہائی، 26ویں آئینی ترمیم کی مخالفت اور دیگر سیاسی مطالبات شامل تھے۔

قافلے خیبر پختونخوا کے اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اسلام آباد پہنچے، جہاں سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں اور اچانک احتجاج ختم ہوگیا۔

اور اب تقریباً دو سال بعد پی ٹی آئی نے پھر احتجاج کی کال دی۔ پہلے اس کی تاریخ 27 ستمبر تھی، جسے بعدازاں چار اکتوبر تک کے لیے موخر کر دیا گیا۔

پی ٹی آئی کے مطابق اس بار مطالبات میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عمران خان سمیت زیرِحراست پارٹی رہنماؤں کی رہائی شامل ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک بھر میں ہوگا۔

دوسری جانب حکومت نے ان مارچز کا ہر بار زیادہ سختی سے جواب دیا ہے۔

یعنی 2022 سے شروع ہونے والا احتجاجی سفر، 2026 میں ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ چار اکتوبر کو کتنے لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں؟

اصل سوال یہ ہے کہ کیا چار اکتوبر بھی پی ٹی آئی کے احتجاجی سلسلے کی ایک اور کڑی ثابت ہوگا؟ اور اس بار وہ کچھ حاصل کر پائے گی یا نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *