انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اگلی سماعت (پانچ نومبر) پر عدالت میں طلب کر لیا ہے، جبکہ فرح حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں پیر کو ہونی والی سماعت میں جج طاہر عباس سپرا نے عمران اور دیگر کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اگلی پیشی پر فزیکلی یا بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش کیا جائے۔
عدالت کا یہ حکم ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے گذشتہ روز یعنی چار اکتوبر کو لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے جس میں پی ٹی آئی کے بنیادی مطالبات میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ شامل ہے۔
عدالت نے سابق وفاقی وزرا فرح حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
عدالت نے سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم اور پی ٹی آئی کے رکن پنجاب اسمبلی حسن خان نیازی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کے الزام میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔
73 سالہ عمران خان کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے 100 سے زائد قانونی مقدمات کا سامنا ہے، جن میں رشوت، ریاستی راز افشا کرنے اور سرکاری تحائف غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
ان کی زیادہ تر سزائیں ختم یا معطل ہو چکی ہیں، جبکہ عمران خان نے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا الزام ہے کہ یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اور انہیں قید تہنائی اور مناسب علاج کے بغیر قید میں رکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ عمران کو ’سزا کے طور پر قید تنہائی، ظلم یا محرومی‘ کا سامنا ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے بیان میں کہا گیا: ’ان کی قید مجاز عدالتوں کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بعد سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں ہوئی ہے اور انہیں پاکستانی قوانین کے تحت دستیاب تمام قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔‘
