راولپنڈی میں حنا جاوید کے بے رحمانہ قتل کیس میں ان کے شوہر اور گھریلو ملازم کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ ان کے شوہر کے حوالے سے پتہ چلا کہ وہ ماضی میں ملک کی ایک نامور جامعہ سے منسلک رہ چکے ہیں۔
کئی لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی جامعہ نے ایسے شخص کو ملازمت کیوں دی اور ملازمت کے دوران اس میں کسی خطرناک رویے کی موجودگی کو کیوں نہیں پہچانا یا اس ملازمت کے دوران اس کی تربیت کیوں نہیں کی۔
یہ کیس ابھی زیرِ سماعت ہے اور ملزم پر جرم تاحال ثابت نہیں ہوا۔ تاہم، یہ سوال ضرور غور طلب ہے کہ جامعات سمیت کوئی بھی ادارہ کسی شخص کو ملازمت دیتے وقت یہ اندازہ کیسے لگا سکتا ہے کہ آیا وہ مستقبل میں دوسروں کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا کسی ادارے پر اپنے عملے کی اخلاقی تربیت اور پیشہ ورانہ رویوں کی نگرانی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ اور ایسے کسی واقعے کی صورت میں ادارے کو کس حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟
ہر ادارے کی طرح جامعات بھی تعیناتی کرتے ہوئے ایسے انسانی وسائل کی تلاش کرتی ہیں جو ادارے کو مزید آگے بڑھانے میں مدد فراہم کر سکیں۔ جو جامعہ کے لیے نئے پراجیکٹس لائیں، اس کی تحقیقی پروفائل کو مضبوط کریں، رینکنگ بہتر بنانے میں معاون ہوں اور صنعت و اکیڈمیا میں نئے روابط قائم کروائیں۔
اس کے علاوہ ایپلیکیشن فارم کے آخر میں ان سے چند عمومی سوالات ضرور پوچھے جاتے ہیں۔ مثلاً، کیا کبھی آپ کو کسی ادارے سے ہراسانی کی شکایت کی وجہ سے ملازمت سے نکالا گیا ہے؟ کیا آپ کسی قانونی مقدمے میں مطلوب ہیں یا ماضی میں کسی مقدمے میں مطلوب رہے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی قانون کی خلاف ورزی کی ہے؟
ان سوالات کا مقصد بس ادارے کو قانونی یا انتظامی ذمہ داری سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ امیدوار ان سوالات کے جوابات دینے کے بعد ایک بیان سے اتفاق کرتا ہے کہ اس کی فراہم کردہ معلومات درست ہیں اور اگر بعد میں یہ معلومات غلط ثابت ہوں تو اس کی ذمہ داری امیدوار پر عائد ہوگی۔
اس سے آگے ہماری جامعات عموماً کسی امیدوار کی شخصیت، طبیعت، خیالات اور نظریات کو جاننے کی کوشش نہیں کرتیں۔ اگرچہ ملازمت ملنے کے بعد وقت کے ساتھ سب کا کچا چٹھا سامنے آ جاتا ہے، تاہم اکیڈمک پروفائل، روابط اور ادارے کے لیے لائے جانے والے پراجیکٹس اور گرانٹس کے سامنے بہت سے مسائل نظرانداز یا پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔
جامعات سمیت ہر ادارے کا یہ ہی حال ہے۔ تاہم، یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا ادارے پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ہماری ثقافت، روایات، تہذیب، رسم و رواج، ادب، درسی و غیر درسی نصاب، روزمرہ میل جول، قوانین، ان قوانین کا اطلاق کرنے والے ادارے اور افراد، حکومت، ادارے اور میڈیا—یہ سب مل کر ایسے سماجی ماحول کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں جو اس تشدد کے لیے راہ ہموار کرتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایسے واقعات ہمیں یہ ضرور سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم اپنی اپنی سطح پر کیا تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ہمیں وہ سوچ عملی شکل میں ڈھالنی چاہیے اور حقیقی تبدیلی کی طرف بڑھنا چاہیے، اس سے پہلے کہ تشدد ہمارے گھروں تک پہنچے۔
جامعات اور دیگر اداروں کو اس حوالے سے اپنے کردار پر غور کرنا چاہیے۔ انہیں اپنا ہائرنگ پراسس بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عملے کے لیے ایسے باقاعدہ جائزے یا تربیتی پروگرام متعارف کروانے چاہییے جو ان کے رویوں اور خیالات میں موجود ممکنہ مسائل کی نشاندہی میں مدد دے سکیں۔ اس کے ساتھ عملے کو ذہنی مسائل، پریشانی، دباؤ اور دیگر مشکلات سے نمٹنے کے لیے مناسب معاونت اور مدد بھی فراہم کی جانی چاہیے۔
ساتھ ہی ساتھ ہماری حکومت کو خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق قوانین کے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی پیدا کرنے پر کام کرنا چاہیے۔ ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیے کہ قانون کی خلاف ورزی کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔
انفرادی سطح پر ہمیں اپنی خاموشی ختم کرنا ہوگی۔ خواتین کے حوالے سے کوئی لطیفہ سنیں تو ہنسنے کی بجائے بولیں، اسے غلط کہیں اور مشورہ دیں کہ ایسے بہتر لطیفے سنائے جائیں جن میں کسی کی تضحیک نہ ہو۔ کوئی پالیسی بن رہی ہو تو اس میں خواتین کو شامل کرنے کی بات کریں اور اسے خواتین کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ کوئی کسی عورت سے بدتمیزی کرے تو اسے ’ان کا ذاتی معاملہ‘ سمجھ کر ایک طرف ہونے کی بجائے اسے روکیں۔
اس طرح کی روک ٹوک کو روزمرہ رویے کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ سب کو معلوم ہو کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی تضحیک، توہین یا ان کے ساتھ بدسلوکی کی گنجائش نہیں ہے۔
اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے معاملات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے فوری حل کرنا چاہیے۔ ایسے مقدمات کی مؤثر اور بروقت تفتیش ہونی چاہیے اور انہیں قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے۔ جب قانون بلاامتیاز نافذ ہوگا اور لوگوں کو معلوم ہوگا کہ انہیں ایسا جرم کرنے کے بعد معافی نہیں ملے گی، تب ہم اپنے اردگرد تبدیلی آتے ہوئے دیکھیں گے ورنہ آج حنا ہے، کل کوئی اور تھی اور کل کوئی اور ہوگی۔

