ہلکی پھلکی گپ شپ انسانی صحت کے لیے فائدہ مند: تحقیق

ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ کسی دوسرے انسان سے گفتگو کرنے کو انسان کے لیے سب سے زیادہ خوش کن مشغلوں میں سے ایک تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن ہم بظاہر بور کرنے والے موضوعات پر ہونے والی ’عام سی گپ شپ‘ کی ہمیں محظوظ اور پرجوش کرنے کی صلاحیت کو ہمیشہ کم تر سمجھتے ہیں۔

کوئنٹن ٹرانٹینو کی فلم پلپ فکشن کا وہ مشہور سین ہی لے لیں، جس میں کرائے کے دو قاتل اپنے کسی کام سے جا رہے ہوتے ہیں، اور جان ٹراولٹا اور سیموئیل ایل جیکسن کی طرف سے ادا کیے گئے یہ کردار یورپ اور امریکہ میں میکڈونلڈز کے مینیو کے فرق کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں۔

’کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ پیرس میں پنیر والے برگر کو کیا کہتے ہیں؟‘

تحقیق کرنے والی ٹیم نے بتایا کہ اس سوال و جواب کا بظاہر عام سا موضوع یہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح ’عام موضوعات پر ہونے والی گفتگو غیر متوقع طور پر دلچسپ ہو سکتی ہے‘ اور یہ سین آگے چل کر ایک ثقافتی پہچان بن گیا۔

محققین کا کہنا تھا کہ مزید یہ کہ اس طرح کی ہلکی پھلکی بات چیت دراصل ہمارے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، جو ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہے۔

یونیورسٹی آف مشی گن کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ اور جرنل آف پرسنلٹی اینڈ سوشل سائیکالوجی میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ، الزبتھ ٹرن (ایم اے) نے کہا، ’ہم عموماً یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اگر کوئی موضوع اکتا دینے والا لگے تو اس صورت میں گفتگو بھی بورنگ ہو گی۔ لیکن حقیقت میں لوگوں کا تجربہ ایسا نہیں ہوتا۔‘

ٹیم نے مجموعی طور پر 1800 شرکا پر مشتمل نو تجربات کیے اور محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ لوگوں نے ہمیشہ اس بات کا کم اندازہ لگایا کہ ان موضوعات پر گفتگو کتنی دلچسپ اور پرلطف ہو گی جنہیں وہ ’اکتا دینے والی‘ سمجھتے تھے۔

ان تجربات میں شرکا سے یہ پیش گوئی کرنے کا کہا گیا تھا کہ ان کے خیال میں وہ ان مخصوص موضوعات پر گفتگو کر کے کتنا لطف اندوز ہوں گے جنہیں انہوں نے بورنگ قرار دیا تھا۔

تحقیقی ٹیم نے مشاہدہ کیا کہ گفتگو کا موضوع اور یہ بات کہ آیا بات چیت کرنے والے پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے، اس بات میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں کہ آیا لوگوں کے خیال میں کوئی گفتگو دلچسپ ہو سکتی ہے۔

محققین کہتے ہیں کہ ’لوگ نہ صرف اس بات کا کم اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ اجنبیوں سے بات کر کے کتنا لطف اندوز ہوں گے، بلکہ وہ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ موضوع ان کی سوچ سے کم اہمیت رکھتا ہے۔‘

انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگوں کو گفتگو کے بارے میں اپنے رویوں کو بدلنے پر غور کرنا چاہیے، اور اس بارے میں زیادہ فکر مند ہونے کی بجائے کہ آیا وہ موضوع میں دلچسپی لیں گے یا نہیں، خود سے یہ پوچھنا چاہیے کہ ‘میں کیا سیکھ سکتا ہوں؟‘

محققین نے کہا کہ ایک بار جب لوگ بات کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو بات چیت بذات خود موضوع سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔

الزبتھ ٹرن نے کہا، ’جو چیز واقعی لطف پیدا کرتی ہے وہ آپس کی گفتگو میں شمولیت ہے۔ اپنی بات سنے جانے کا احساس، ایک دوسرے کو جواب دینا، اور کسی کی زندگی کے بارے میں غیر متوقع تفصیلات جاننا ایک عام سے موضوع کو بھی بامعنی بنا سکتا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹیم نے کہا کہ ان کے نتائج اس لیے اہم ہیں کیوں کہ ہمارے سماجی روابط ذہنی اور جسمانی صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مضبوط باہمی تعلقات بہتر صحت اور تنہائی کے کم خطرے سے جڑے ہیں۔

ٹیم نے کہا کہ ’اگر لوگ گفتگو سے گریز کرتے ہیں کیوں کہ انہیں ان کے بورنگ ہونے کی توقع ہوتی ہے، تو وہ دوسروں سے جڑنے کے آسان مواقع گنوا سکتے ہیں۔‘

الزبتھ ٹرن کے بقول: ’اگر ہم کافی مشین پر کسی ساتھی سے، لفٹ میں کسی پڑوسی سے، یا کسی تقریب میں کسی اجنبی سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں، تو ہو سکتا ہے ہم روابط کے چھوٹے چھوٹے لمحات گنوا رہے ہوں۔‘

’یہاں تک کہ روزمرہ کی زندگی کے بارے میں ایک مختصر سی بات چیت بھی ہماری توقع سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *