فلم ’میرا لیاری‘ کی کاسٹ کا کہنا ہے کہ اس فلم کے ذریعے لیاری کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کراچی کا علاقے لیاری پر بننے والی یہ فلم آٹھ مئی کو بڑی سکرین پر ریلیز کر دی گئی ہے۔ لیاری کو برسوں تک جرائم، گینگ وار اور تشدد کی خبروں کے ذریعے پہچانا گیا تاہم فلم کی کاسٹ کے مطابق یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ لیاری کے خواب دیکھنے والے نوجوانوں، فٹبال سے محبت کرنے والی لڑکیوں، مہمان نواز لوگوں اور زندہ ثقافت کی عکاسی ہے۔
فلم کی اداکارہ عائشہ عمر نے کہا کہ فلم کو کسی منفی پروجیکٹ سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک سپورٹس اور خواتین کے خوابوں پر مبنی کہانی ہے۔
ان کے مطابق فلم کی تیاری کے دوران مقامی افراد اور کوچز نے رہنمائی کی تاکہ زبان، لہجہ اور اندازِ گفتگو حقیقت کے قریب رہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے عائشہ عمر نے بتایا کہ وہ فلم میں ایک فٹبال کوچ کا کردار ادا کر رہی ہیں جو بیرونِ شہر تعلیم حاصل کرنے کے بعد واپس لیاری آتی ہے تاکہ لڑکیوں کو کھیلنے کے مواقع فراہم کر سکے۔
مرکزی کردار ادا کرنے والی دنا نیر مبین نے کہا کہ ’لیاری کو صرف جرائم سے نہیں، اس کے خواب دیکھنے والے بچوں سے پہچانا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے بتایا کہ سکرپٹ پڑھتے ہی انہیں لیاری کی اصل تصویر اور خواتین کو بااختیار بنانے والی کہانی نے اپنی طرف کھینچ لیا۔
دنا نیر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیاری جانے سے پہلے ان کے ذہن میں بھی خوف تھا لیکن وہاں پہنچنے کے بعد محبت کرنے والے لوگ، اپنائیت سے بھرپور گلیاں اور مہمان نوازی نے ان کا تاثر بدل دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لیاری کی لڑکیوں کا منفرد انداز، خاص طور پر باریک چوٹیوں والے ہیئر سٹائل، انہیں بہت متاثر کر گئے اور انہوں نے اپنے کردار میں یہ رنگ شامل کیے تاکہ سب کچھ حقیقی لگے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دنا نیر نے فٹبال کے سینز کے دوران لگنے والی چوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہیمسٹرنگ انجری اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا، لیکن یہی محنت فلم کی جان ہے۔ ان کے مطابق سب سے دلچسپ سین لڑکوں سے لڑائی کا تھا، جو ایک مشکل ’ون ٹیک‘ شوٹ تھا۔
دنا نیر نے لیاری کے مسائل پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ وہاں کے بچوں میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے مگر سہولیات کی کمی ہے۔ نہ اچھے گراؤنڈز ہیں، نہ مناسب کوچنگ، نہ کٹس اور نہ جوتے۔
انہوں نے سندھ حکومت سے اپیل کی کہ ان بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ یہ پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
ماڈل ٹرینیٹ لوکاس نے اس فلم کے ذریعے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کراچی میں پلی بڑھی ہیں اور فلم کے ذریعے لیاری کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق ’میرا لیاری‘ عوام کو اس علاقے کو الگ نظر سے دیکھنے کا موقع دے گی۔
فلم کی پروڈکشن وقار حسن رضوی اور ثانیہ سہیل نے کی ہے جبکہ ہدایت کاری ابوعلیحہ نے دی ہے۔ کاسٹ میں عائشہ عمر اور دنا نیر مبین کے ساتھ ساتھ نئیر اعجاز، سمیعہ ممتاز اور عدنان شاہ ٹیپو جیسے نامور اداکار بھی شامل ہیں۔
