ہرنائی: کوئلہ کان میں گیس دھماکہ، چار کان کن جان سے گئے، پانچ زخمی

بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں واقع پی ایم ڈی سی کوئلہ کان میں اتوار کو زہریلی گیس بھرنے سے دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں چار کان کن جان سے گئے جبکہ پانچ زخمی ہو گئے۔

چیف انسپکٹر مائنز محمد عاطف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور چار کان کنوں کی لاشیں اور پانچ زخمی کان سے نکال لیے گئے ہیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے شاہرگ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے انہیں مزید علاج کے لیے کوئٹہ ریفر کر دیا گیا، جبکہ جان سے جانے والے کان کنوں کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

ہرنائی ہسپتال کے ڈاکٹر عبید کے مطابق جان سے جانے والوں میں عبید اللہ، خیال محمد، خیال زادہ اور زاہد علی شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والوں میں گل زمان، عاقل زادہ، سعید اللہ، نور بچہ اور نور عالم کے نام بتائے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق تمام کان کنوں کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا۔

چیف انسپکٹر مائنز محمد عاطف نے بتایا کہ دھماکہ زہریلی گیس بھرنے کے باعث ہوا جس سے کان کا ایک حصہ بیٹھ گیا۔ ان کے مطابق واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم کان میں کام کرنے والے دیگر مزدوروں کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد سرکاری سطح پر کوئی ریسکیو ٹیم موقع پر موجود نہیں تھی، اور مزدوروں اور مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمی اور جان سے جانے والے ساتھیوں کو کان سے باہر نکالا۔

واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے بلوچستان کے صوبائی وزیر خوراک حاجی نورمحمد خان دمڑ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اپنے تعزیتی بیان میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ’اس سانحے سے وہ خود بھی غمزدہ ہیں‘ اور جان سے جانے والے کان کنوں کے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی۔

صوبائی وزیر نے ضلعی انتظامیہ اور مائنز ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو ہدایت کی کہ کوئلہ کانوں میں حادثات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے، اور کہا کہ ’قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘

رواں سال اگست میں کوئٹہ کے علاقے سورینج کی کوئلہ کان میں زہریلی گیس کے دھماکے کے نتیجے میں 36 کان کن جان سے گئے تھے، جن میں سے اکثریت کا تعلق ضلع شانگلہ سے تھا۔ اس سے قبل جون میں ہرنائی کے علاقے خوست میں کان بیٹھ جانے کے واقعے میں دو کان کن جان سے گئے تھے۔

کان کنی سے وابستہ مزدور تنظیمیں طویل عرصے سے بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور ریسکیو سہولیات کے فقدان کی نشاندہی کرتی رہی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *