کراچی کی پرانی عمارتوں میں کئی دہائیوں سے آباد خاندانوں کے لیے گھر صرف رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ان کی یادیں، روزگار، بچوں کی تعلیم اور سماجی زندگی سے جڑا ایک پورا نظام ہے۔
لیکن شہر میں موجود سیکڑوں مخدوش عمارتوں کے حوالے سے حالیہ سرکاری اعداد و شمار نے ان خاندانوں کے مستقبل پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
پپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے 28 جولائی کو ہونے والے اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع میں 741 خطرناک اور مخدوش عمارتیں موجود ہیں۔
ان میں سے 588 عمارتیں کراچی میں ہیں، جبکہ کراچی کی خطرناک عمارتوں میں 444 تاریخی ورثے کا حصہ ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 59 خطرناک عمارتوں کو مکینوں سے خالی کروانے اور 39 عمارتوں کو منہدم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
حیدرآباد میں 80 اور سکھر میں 50 عمارتوں کو بھی خطرناک قرار دیا گیا ہے جبکہ دیگر اضلاع میں بھی ایسی عمارتوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
’میں کہاں جاؤں گا؟‘
کراچی کے علاقے صدر ایمپریس مارکیٹ کے سامنے 90 سالا تاریخی عمارت میں تقریباً 50 سے 60 سال سے رہائش پذیر گل شازیب کے لیے یہ اعداد و شمار ایک عملی مسئلہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد بھی اسی عمارت میں رہتے تھے اور بعد میں وہ خود بھی وہیں مقیم رہے۔
ان کے مطابق اچانک متعلقہ حکام کی جانب سے انہیں گھر خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے۔
’اچانک اے سی اور بلڈنگ اتھارٹی والے آئے اور مجھے نوٹس پکڑا دیا کہ تین دن میں اپنا گھر خالی کر دوں۔ میں نے کہا سر، میں کہاں جاؤں گا؟ میں تو 50، 60 سال سے یہاں رہ رہا ہوں۔‘
گل شاہزیب کے مطابق ان کا خاندان بڑا ہے اور گھر میں خواتین اور بچے بھی رہتے ہیں۔
’ہمارا بہت بڑا خاندان ہے۔ ہمارے گھر کی عورتیں گھر سے نہیں نکلتیں۔ میں اتنے لوگوں کو لے کر کہاں جاؤں؟‘
وہ کہتے ہیں کہ وہ عمارت پر قبضہ کر کے نہیں بیٹھے بلکہ ان کے پاس مکان سے متعلق دستاویزات موجود ہیں۔
’میں نے اپنا مکان لیا ہے، پیسے دیے ہیں، کاغذات میرے پاس ہیں۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کہیں گھر خالی کرو، اسے سیل کریں گے اور ڈیمالش کریں گے؟‘
گل شاہزیب کے مطابق اگر انہیں گھر سے نکالا گیا تو خواتین اور بچوں سمیت ان کے خاندان کے 20 سے 25 افراد متاثر ہوں گے۔
ان کے بقول جب انہوں نے متبادل رہائش کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملا کہ ’روڈ پر بیٹھ جاؤ۔‘
’میں نے کہا روڈ پر تو آپ بچوں کو چھوڑ سکتے ہو، میں کیسے روڈ پر بیٹھ سکتا ہوں؟ اپنا گھر چھوڑ کر سڑک پر بیٹھ جاؤں؟‘
خطرناک عمارت کا فیصلہ کیسے ہوتا ہے؟
ڈائریکٹر جنرل محکمہ نوادرات و آثار قدیمہ سندھ عبدالفتح شیخ کے مطابق کسی تاریخی ورثے کی عمارت کو خطرناک قرار دینے سے متعلق بنیادی تکنیکی ذمہ داری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایس بی سی اے کے پاس تکنیکی ماہرین اور انجینیئرز پر مشتمل کمیٹی موجود ہے جو عمارت کا جائزہ لیتی ہے۔
’جب ہمارے پاس یہ آتا ہے کہ عمارت خطرناک ہے تو ہم اپنی ٹیکنیکل کمیٹی کے سامنے اسے رکھتے ہیں اور پھر اسے توثیق کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایس بی سی اے کی ذمہ داری ہے۔‘
عبدالفتح شیخ کے مطابق محکمہ نوادرات و آثار قدیمہ کے پاس خود کسی عمارت کو منہدم کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے تاریخی ورثے میں شامل تقریباً 95 فیصد عمارتیں نجی ملکیت ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایس بی سی اے کی تکنیکی کمیٹی کی سفارش محکمہ نوادرات و آثار قدیمہ کے سامنے آنے کے بعد اسے متعلقہ کمیٹیوں میں زیرِ بحث لایا جاتا ہے اور ایڈوائزری کمیٹی کی منظوری کے بعد سفارشات ایس بی سی اے کو بھیجی جاتی ہیں۔
’ہر خستہ حال عمارت کو خالی کروانا ضروری نہیں‘
اربن ریسورس سینٹر کے جوائنٹ ڈائریکٹر زاہد فاروق کا کہنا ہے کہ کسی پرانی عمارت کو خستہ حال قرار دینے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اسے مرمت کر کے محفوظ بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم ہند سے قبل تعمیر ہونے والی کئی عمارتوں کی تعمیر کا معیار اچھا تھا اور ان کی عمر بھی طویل ہے۔
’کچھ عمارتیں واقعی خستہ حال ہوتی ہیں، لیکن کچھ کی حالت ایسی نہیں ہوتی کہ ان کو خالی کروایا جائے۔ ان کی مرمت کر کے مکینوں کی رہائش کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔‘
زاہد فاروق کے مطابق بعض پرانی عمارتیں مکینوں اور حکومتی اداروں کی غفلت کے باعث خستہ حال ہوئی ہیں۔
انہوں نے کراچی کے اولڈ سٹی ایریا میں موجود عمارتوں کے حوالے سے کہا کہ بعض بلڈرز کی دلچسپی ان عمارتوں کو گرا کر ان کی جگہ بلند عمارتیں تعمیر کرنے میں ہو سکتی ہے۔
’بلڈر چاہتا ہے کہ اولڈ سٹی ایریا ایک اہم مقام ہے، وہاں موجود پرانی عمارتیں گرائی جائیں اور ان کی جگہ ہائی رائز عمارتیں کھڑی کی جائیں۔‘
تاہم ان کے مطابق کئی دہائیوں سے ایک علاقے میں رہنے والے افراد کے لیے گھر سے بے دخلی کا مطلب صرف رہائش تبدیل کرنا نہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ان کا کاروبار قریب ہے، نماز پڑھنے کی جگہ قریب ہے، بچوں کی تعلیم کی جگہ قریب ہے اور گھر کی خواتین کے کام کرنے کی جگہ قریب ہے۔‘
زاہد فاروق کا کہنا تھا کہ کسی شہری کا کسی علاقے سے تعلق صرف رہائش تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کے معاشی، سماجی اور تعلیمی پہلو بھی ہوتے ہیں۔
تاریخی ورثہ اور مکینوں کا سوال
کراچی میں خطرناک قرار دی گئی 588 عمارتوں میں سے 444 کا تاریخی ورثے کا حصہ ہونا شہر کے قدیم فنِ تعمیر کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان عمارتوں میں رہنے والے خاندانوں کے مستقبل کا سوال بھی اٹھاتا ہے۔
حکام کے مطابق خطرناک عمارتوں کے بارے میں فیصلہ تکنیکی طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے، جبکہ تاریخی عمارتوں کے معاملے میں محکمہ نوادرات و آثار قدیمہ کا کردار بھی شامل ہوتا ہے۔
دوسری جانب گل شاہزیب کی تاریخی عمارت کو خالی کروانے کے معاملے پر ان کے وکیل عمران گجر نے سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا ہے۔
عمران گجر کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو کسی عمارت کو ازخود مخدوش یا خطرناک قرار دے کر اسے خالی کروانے کا نوٹس جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی بلڈنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ریگولیشنز 2002 کے تحت کسی عمارت کو خطرناک قرار دینے یا اسے منہدم کرنے سے متعلق ایک باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔
ان کے مطابق کسی عمارت کی مخدوش حالت کا جائزہ لینے کے لیے ’ٹیکنیکل کمیٹی آن ڈینجرس بلڈنگ‘ تشکیل دی جاتی ہے، جس میں مختلف متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔
عمران گجر کے مطابق کمیٹی میں پاکستان انجینیئرنگ کونسل کا کم از کم 15 سالہ تجربہ رکھنے والا انجینیئر، پاکستان کونسل آف آرکیٹیکٹس اینڈ ٹاؤن پلانرز کا نمائندہ، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کا چیف انجینیئر، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا سپرنٹنڈنٹ انجینیئر اور محکمہ نوادرات و آثار قدیمہ کا نمائندہ شامل ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’عمارت کو خطرناک قرار دینے یا گرانے کا فیصلہ صرف ایک ادارہ اپنی طرف سے نہیں کر سکتا، اس کے لیے متعلقہ اداروں پر مشتمل ٹیکنیکل کمیٹی کا جائزہ اور فیصلہ ضروری ہے۔‘
