بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب پاکستان کوسٹ گارڈز کی ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ 15 زخمی ہو گئے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) گوادر عطا الرحمٰن خان ترین نے بتایا کہ بارود سے بھرا ایک ٹرک خودکش حملہ آور نے گوادر کے علاقے جیوانی سے تقریباً 10 کلومیٹر دور پانوان چیک پوسٹ سے ٹکرا دیا۔
ایس ایس پی عطا الرحمٰن کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو بھیجی جانے والی تفصیلات کے مطابق جان سے جانے والوں میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے نائیک یاسر اور پاکستان آرمی کی 32 پنجاب رجمنٹ کے حوالدار عدنان اور سپاہی مغفور شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت چیک پوسٹ پر پاکستان آرمی اور پاکستان کوسٹ گارڈز کے مجموعی طور پر 18 اہلکار تعینات تھے۔ حملے میں پاکستان آرمی کے دو اہلکار اور پاکستان کوسٹ گارڈز کا ایک اہلکار جان سے گیا، جبکہ 15 اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجید بریگیڈ‘ نے اس کارروائی کو انجام دیا۔
یہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں بلوچستان میں بی ایل اے کی جانب سے دوسرا خودکش حملہ ہے۔
مئی میں کوئٹہ میں ایک شٹل ٹرین پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیے گئے اسی نوعیت کے حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد جان سے گئے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایس ایس پی عطا الرحمٰن ترین کے مطابق دھماکے کے فوری بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ حملے میں سہولت کاری کرنے والوں کی تلاش کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
گوادر پاکستان کے لیے سٹریٹجک لحاظ سے اہم شہر ہے، جہاں واقع گہرے سمندر کی بندرگاہ کو حکومت علاقائی تجارت اور چین، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو ملانے والے توانائی کے راستوں کے لیے اہم قرار دیتی ہے۔
یہ بندرگاہ تقریباً 60 ارب ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کا بھی اہم حصہ ہے۔
بلوچ علیحدگی پسند گروہ وفاقی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کے وسائل ملک کے دیگر حصوں کی ترقی پر خرچ کرتی ہے، تاہم پاکستانی حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں مقامی آبادی کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے۔
