لاہور پولیس کے مطابق جمعرات کی رات بادامی باغ اور نواں کوٹ میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر کے تین اہلکاروں کو قتل اور دو کو زخمی کرنے والے ملزمان ریحان بٹ اور اس کے والد فیاض بٹ کو جمعے کو شیخوپورہ میں ایک مکان میں کارروائی کے دوران مار دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان نے گرفتاری کے لیے پہنچنے والی پولیس پر فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی کی گئی۔
پولیس کے مطابق ریحان بٹ اور اس کے والد فیاض بٹ لاہور میں پولیس اہلکاروں پر حملوں کے بعد ایک ساتھی کے ہمراہ شیخوپورہ فرار ہو گئے تھے، جہاں وہ ایک شہری کے گھر میں اہل خانہ کو یرغمال بنا کر چھپے ہوئے تھے۔
ڈی آئی جی آپریشن لاہور پولیس فیصل کامران نے بتایا کہ ’ریحان بٹ کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے تھا اور پولیس اہلکار جمعرات کی شام اسے گرفتار کرنے کے لیے بادامی باغ گئے تھے جہاں اس نے دو ساتھیوں سمیت پولیس پر فائرنگ کر دی۔‘
ان کے مطابق ’اس فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار مارے گئے جبکہ کچھ دیر بعد ملزمان نے نواں کوٹ میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا، جس میں ایک اہلکار جان سے گیا اور دو زخمی ہوئے۔‘
فیصل کامران نے بتایا کہ ’ریحان بٹ کا بھائی فیضان بٹ بھی پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا اور وہ 2024 میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔‘
پولیس کے مطابق لاہور میں حملوں کے بعد ملزمان کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر لاہور اور شیخوپورہ پولیس نے مشترکہ کارروائی کی۔
شیخوپورہ کے شریف پورہ میں ایک مکان کا گھیراؤ کرنے پر اندر موجود ملزمان نے تین اطراف سے فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے کارروائی کی اور فائرنگ رکنے کے بعد مکان سے ریحان بٹ اور فیاض بٹ کی لاشیں ملیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شیخوپورہ پولیس کے ترجمان محمد یونس نے انڈپینڈنٹ اردو بتایا کہ ’لاہور میں پولیس پر حملوں کے بعد ریحان بٹ، اس کے والد فیاض بٹ اور ایک ساتھی فرار ہو کر ایک مکان میں چھپ گئے تھے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اطلاع ملنے پر لاہور اور شیخوپورہ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مکان کا گھیراؤ کیا، جس کے دوران ملزمان نے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔‘
محمد یونس کے مطابق ’فائرنگ رکنے کے بعد پولیس نے مکان میں داخل ہو کر دونوں ملزمان کو مردہ پایا جبکہ ان کا ایک ساتھی فرار ہو گیا۔‘
انہوں نے کہا، ’ریحان بٹ اور فیاض بٹ مارے گئے جبکہ ایک ساتھی فرار ہو گیا، اس کی تلاش بھی جاری ہے۔‘
پولیس ملزمان کے ٹھکانے تک کیسے پہنچی؟
شیخوپورہ کے تھانہ صدر مریدکے میں درج مقدمے کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب پولیس کو مخبر نے اطلاع دی کہ شریف پورہ میں تین مسلح افراد اسلحے کے زور پر عبدالحفیظ نامی شہری کے گھر میں داخل ہوئے اور اس کی بیوی اور بچوں کو ایک کمرے میں بند کر کے یرغمال بنا لیا۔
پولیس کے مطابق جمعے کی صبح اطلاع ملنے پر پولیس نے مکان کا گھیراؤ کیا اور لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اندر موجود افراد کو خود کو پولیس کے حوالے کرنے کی ہدایت کی۔
مقدمے کے مطابق پولیس کی وارننگ کے جواب میں ملزمان نے سنگین نتائج اور جانی نقصان کی دھمکی دی اور کچھ ہی دیر بعد گھر کے اندر سے تین اطراف سے پولیس پر شدید فائرنگ شروع کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے خود کو محفوظ کرتے ہوئے محصور ملزمان کو خوف زدہ کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
مقدمے کے مطابق فائرنگ رکنے کے بعد پولیس نے دوبارہ ملزمان کو خود کو حوالے کرنے کی وارننگ دی، تاہم کوئی جواب نہ ملنے پر اہلکار مکان کے اندر داخل ہوئے۔
پولیس کے مطابق مکان کے صحن میں دو افراد مردہ حالت میں ملے جن کی شناخت فیاض بٹ اور ریحان بٹ کے طور پر ہوئی۔
مقدمے کے مطابق فیاض بٹ کے پاس نائن ایم ایم پستول موجود تھا جسے ان لوڈ کرنے پر تین گولیاں برآمد ہوئیں، جبکہ ریحان بٹ کے پاس کلاشنکوف موجود تھی جس میں سات گولیاں تھیں۔
اس کے قریب ایک شاپر میں دو ہینڈ گرنیڈ بھی ملے جبکہ صحن میں کلاشنکوف کی خالی میگزین اور متعدد چلے ہوئے خول بکھرے ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق ملزمان کی فائرنگ سے ایس ایچ او تھانہ صدر مریدکے کی سرکاری گاڑی کی باڈی پر بھی گولیاں لگی ہیں۔ کارروائی کے بعد مکان سے یرغمال بنائے گئے عبدالحفیظ، ایوب، صائمہ بی بی، شہباز علی، آذان علی اور رباب کو بازیاب کرا لیا گیا۔
عبدالحفیظ نے پولیس کو بتایا کہ وہ ’گھر میں سو رہے تھے جب تین نامعلوم مسلح افراد دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے اور اسلحے کے زور پر اہل خانہ کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔‘
عبدالحفیظ کے مطابق مکان میں موجود دو افراد بعد میں صحن میں مردہ حالت میں ملے جبکہ ایک نوجوان فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق لاہور میں حملوں کے بعد ریحان بٹ اور اس کے ساتھی ایک گاڑی میں شیخوپورہ کی طرف فرار ہوئے تھے، جس کے بعد اطلاع ملتے ہی لاہور پولیس کی ٹیم بھی شیخوپورہ پہنچی اور مقامی پولیس کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں حصہ لیا۔
ترجمان شیخوپورہ پولیس محمد یونس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ریحان بٹ اور اس کا والد فیاض بٹ مارے گئے جبکہ فرار ہونے والے تیسرے ملزم کی تلاش جاری ہے۔
