گلگت بلتستان الیکشن: انتخابی مہم جاری، عوام کی بڑی امید کیا ہے؟

گلگت بلتستان میں سات جون کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین گلگت بلتستان کا دورہ کر کے سیاسی تقاریب میں شریک ہو رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور رکن قومی اسمبلی بلال بھٹو زرداری نے پیر کو گلگلت بلتستان کا دورہ کیا اور اپنی جماعت کی انتخابی مہں میں شریک ہوئے۔ 

اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائدین انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ 

پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر اور رکن قومی اسمبلی محمد نواز شریف کو بھی دو جون کو  گلگت بلتستان جا کر انتخابی مہم میں شرکت کریں گے۔

گلگلت بلتستان میں انتخابات کی تاریخ 

گلگت بلتستان ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کی 2009 میں منظوری کے بعد وہاں عام انتخابات کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ اسی ارڈر کے تحت پہلی مرتبہ نومبر 2009 میں عام انتخابات کرائے گئے اور اس کے بعد ہر پانچ سال بعد انتخابات ہوتے ہیں۔

آخری عام انتخابات 2020 میں ہوئے تھے جس میں پی ٹی آئی کے خالد خورشید وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ تاہم گلگت بلتستان کی عدالت نے 2023 میں خالد خورشید کو جعلی ڈگری کیس میں نااہل کر دیا تھا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی کے ناراض ارکان، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی حکومت قائم کی تھی، جس کا دورانیہ 24 نومبر 2025 کو ختم ہو گیا۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 عام نشستوں کے لیے اب مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں اور اس مرتبہ پھر پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

اس انتخابات میں گلگت بلتستان کے نو لاکھ 50 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان ووٹروں میں پانچ لاکھ سے زائد مرد اور چار لاکھ 54 ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس کے رہنماؤں کو گذشتہ روز انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان میں داخلے سے روک دیا گیا۔ تاہم گلگت بلتستان کی نگران حکومت کے ترجمان کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو انتخابی مہم میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر روکا گیا۔

پی ٹی آئی اور مجلس وحدت المسلمین نے ان انتخابات میں اتحاد کا اعلان کر رکھا ہے اور مجلس وحدت المسلمین کے مطابق جہاں پی ٹی آئی کا امیدوار کھڑا ہوگا، اسے اس کی سپورٹ حاصل ہوگی اور جہاں مجلس وحدت المسلمین کا امیدوار ہوگا، وہاں اسے پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہوگی۔

تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟

تجزیہ کار گلگت بلتستان کے اس انتخابات کو ملک کی سیاسی صورت حال کے لیے اہم سمجھتے ہیں کیوں کہ ان کے مطابق شاید اس سے مستقبل میں ملک بھر میں عام انتخابات کے حوالے سے بیانیہ ہموار ہو سکتا ہے۔

مقامی صحافی فہیم اختر  نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مجموعی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم جاری ہے لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے کچچ الزامات سامنے آرہے ہیں لیکن وہ بظار این او سی کا مسئلہ لگ رہا تھا۔ 

اس کے علاوہ فہیم اختر کے مطابق ووٹرز لسٹوں میں کچھ علاقوں میں مسائل موجود ہیں کیوں کہ اگر ایک گھر میں پانچ افراد ہیں تو ان کو الگ الگ پولنگ سٹیشن دیا گیا ہے۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’بعض پولنگ سٹشن ووٹرز کے گھر سے بہت دور ہیں لیکن مجموعی طور پر انتخابات ٹھیک لگ رہے ہیں جب کہ اس مرتبہ وفاقی حکومت گلگلت بلتستان پر نظریں زیادہ جمائے لگ رہی‘

سیاسی جماعتوں کی پوزیشن کے حوالے سے فہیم اختر نے بتایا کہ پی پی پی نے ایک عام نشست کے علاوہ باقی 23 نشستوں پر امیدوار کھڑے ہیں کیے ہیں جو سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ اور پی ٹی آئی نے آزاد حیثیت میں امیدواران کھڑتے کیے ہیں۔ 

انتخابات سے عوام کی امیدوں کے حوالے سے فہیم نے بتایا کہ گلگت بلتستان کا ایک دیرینہ مطالبہ آئینی اصلاحات ہیں۔ لوگوں کی اب بھی اس سے امیدیں وابستہ ہیں۔ 

فہیم اختر کا کہنا تھا کہ ’عوام کی یہی امید ہوتی ہے کہ گلگلت بلتستان کی آئینی حیثیت مضبوط اور گورننس کے حوالے سے باقاعدہ ریفارمز کی جائیں گی۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *