ڈنمارک نے ہفتے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس اور چین کو گرین لینڈ میں اڈے قائم کرنے سے روکنے اور اس آرکٹک خطے کی سکیورٹی پر واشنگٹن کو ’مستقل کنٹرول‘ دینے کے لیے اعلان کردہ ’پابند‘ معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
جنوری 2025 میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد سے ٹرمپ بارہا اصرار کرتے رہے ہیں کہ واشنگٹن کو تزویراتی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جس پر نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک میں تشویش پیدا ہوئی اور اتحاد کا شدید ردعمل سامنے آیا۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ، جو ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، دونوں نے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وہ اگلے ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقعے پر اس پر دستخط کریں گے۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے ہفتے کو کہا کہ ممکنہ دستخط کا مطلب ہے کہ ’اگلا ہفتہ اچھا ثابت ہو سکتا ہے۔‘
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا ’امید ہے غیر یقینی کی ایک طویل مدت کی جگہ ایک پابند معاہدہ لے گا، جو آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں سکیورٹی کو مضبوط کرے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں ڈنمارک کی ’سرخ لکیروں‘ کا احترام کیا گیا ہے، تبدیل شدہ سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں ’اہم‘ ہے۔
تاہم معاہدے کی شرائط غیر واضح ہیں اور ڈنمارک کا مؤقف ہے کہ اس کی خودمختاری برقرار رہے گی۔
’مستقل کنٹرول‘
ایک بیان میں ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے معاہدے کو ’ایسا معاہدہ قرار دیا جو بیک وقت مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور گرین لینڈ کے عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔‘
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر کہا ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ امریکہ نے مملکت ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، جو امریکہ کو گرین لینڈ میں سکیورٹی اور دیگر تمام ضروریات پر مستقل کنٹرول دیتا ہے۔‘
80 سالہ ٹرمپ نے کہا ’اب سے امریکہ کا کوئی بھی مخالف ہماری واضح تحریری منظوری کے بغیر گرین لینڈ میں کبھی بھی اڈہ قائم نہیں کر سکتا، گرین لینڈ میں فوجی موجودگی نہیں رکھ سکتا یا حساس سرمایہ کاری نہیں کر سکتا۔‘
انہوں نے کہا یہ ’لامحدود مدت‘ کا معاہدہ ہے، ’اس کی کوئی انتہا نہیں!‘ اور یہ کہ واشنگٹن فوری طور پر اس خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی موجودگی بڑھانا شروع کرے گا۔
ٹرمپ نے بارہا خبردار کیا کہ روس اور چین گرین لینڈ میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ گرم ہوتے آرکٹک میں بالادستی کے لیے تزویراتی مقابلہ جاری ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی واضح کر دیا کہ انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار نے کہا ’یہ معاہدہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ چین اور روس گرین لینڈ میں اڈہ قائم نہیں کر سکتے، وہ گرین لینڈ میں فوجی دستے نہیں بھیج سکتے اور حساس شعبوں میں سرمایہ کاری روکنے کے لیے ضروری طریقہ کار موجود ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رواں سال جنوری میں ڈیووس اقتصادی فورم میں ٹرمپ نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ گرین لینڈ کے مستقبل کے حوالے سے ایک مبینہ معاہدہ کیا تھا، تاہم اس کی شرائط اب تک غیر واضح رہی ہیں۔
فریڈرکسن نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ ’گرین لینڈ، مملکت ڈنمارک اور امریکہ کے لیے ایک اچھے معاہدے کے امکانات پر خوش ہیں‘ اور یہ ’نیٹو اور یورپ کے لیے بھی اچھا ہے۔‘
گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا امریکہ کے ساتھ یہ معاہدہ خطے کی سکیورٹی کو ’مضبوط‘ کرتا ہے۔
نیٹو کے ساتھ کشیدگی
ٹرمپ نے یہ تفصیلات نہیں بتائیں کہ معاہدہ کس طرح کام کرے گا اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا یہ روٹے کے ساتھ ہونے والے معاہدے سے منسلک ہے یا اس سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔
تاہم متعدد ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ امریکہ جنوبی گرین لینڈ میں تین نئے فوجی اڈے قائم کرنا چاہتا ہے، جو خطے کے شمال میں پہلے سے موجود پِٹوفِک فوجی اڈے کے علاوہ ہوں گے۔
1951 کا ایک دفاعی معاہدہ، جسے 2004 میں اپ ڈیٹ کیا گیا تھا، پہلے ہی واشنگٹن کو اس جزیرے پر فوجیوں کی تعیناتی اور فوجی تنصیبات میں اضافہ کرنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ وہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کو پیشگی اطلاع دے۔
بحران کے عروج پر ٹرمپ نے 57 ہزار آبادی والے اس خطے پر قبضہ کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو مسترد کرنے سے بھی گریز کیا تھا، جس سے یورپی یونین اور نیٹو میں تشویش پیدا ہوئی۔
اس کے بعد کشیدگی میں کچھ کمی آئی ہے اور بظاہر ٹرمپ کو مطمئن کرنے کے لیے نیٹو نے آرکٹک میں سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا مشن شروع کیا ہے۔
