گالف کارٹ کے پیچھے دوڑنے والی خاتون ٹرمپ کی بااعتماد مشیر کیسے بنیں؟

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے سے پہلے جب وہ گالف کھیلنے کے لیے میدان میں وقت گزارتے تھے تو نیٹلی ہارپ ان کی گالف کارٹ کے پیچھے ’دوڑتی ہوئی‘ نظر آتی تھیں۔ اب 34 سالہ ہارپ، وائٹ ہاؤس کے عملے میں ہر وقت موجود رہنے والی شخصیت بن گئی ہیں اور حیران کن حد تک اثر و رسوخ کی حامل ہیں۔

یہ بات نیو یارک ٹائمز کی رپورٹر میگی ہیبرمین نے کہی ہے۔

ہیبرمین نے یہ ریمارکس ہفتے کو ایم ایس ناؤ  کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیے، جہاں انہوں نے اپنی نئی شائع ہونے والی کتاب Regime Change پر گفتگو کی۔ یہ کتاب ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی کی اندرونی کہانی بیان کرتی ہے اور ہزاروں انٹرویوز کے ساتھ متعدد گمنام ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر مبنی ہے۔

تجربہ کار صحافی نے انکشاف کیا کہ ہارپ، جو ایک سابق ٹی وی میزبان رہ چکی ہیں اور اب صدر کی ایگزیکٹو اسسٹنٹ ہیں، وائٹ ہاؤس میں ’تقریباً ہر ایک میٹنگ‘ میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ رسمی ذرائع سے ہٹ کر بھی ٹرمپ تک معلومات پہنچانے میں مدد کرتی ہیں اور ان سے ایسی غیرمعمولی وابستگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، جس نے ایک وقت میں سیکرٹ سروس کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے اس سے قبل دی انڈپینڈنٹ کو بتایا تھا: ’نیٹلی ہارپ وائٹ ہاؤس کی ایک نہایت پسندیدہ اہلکار ہیں اور جعلی خبروں کا میڈیا کبھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ ان جیسا قابل اعتماد اور قابل ستائش ہونا کیسا ہوتا ہے۔‘

ہیبرمین کی کتاب، جو انہوں نے نیویارک ٹائمز کے ایک اور رپورٹر جوناتھن سوان کے ساتھ مل کر لکھی ہے، ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت سے متعلق تفصیلات سے بھری ہوئی ہے۔ اس میں ایپسٹین فائلز سے متعلق انتظامیہ کے طرزِ عمل سے لے کر صدر کی اندرونی آرائش کے شوق تک مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

’رجیم چینج‘ کی تین لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور گذشتہ ماہ اس کی اشاعت کے بعد سے یہ کتاب بارہا ٹرمپ کی ناراضی کا باعث بنی ہے۔ ہفتے کو ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کتاب کے ’90 فیصد‘ حصے کو ’جعلی خبریں‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے ہیبرمین کو ’ناکام شخصیت‘ کہا جبکہ سوان کو ’ان کا تابع دار ساتھی‘ قرار دیا۔

ایم ایس ناؤ سے اپنی گفتگو کے دوران ہیبرمین نے ٹرمپ کے ساتھ نیٹلی ہارپ کے ابتدائی دنوں کو یاد کیا، جب ٹرمپ واشنگٹن چھوڑ کر فلوریڈا منتقل ہو گئے تھے۔

ہیبرمین نے کہا: ’وہ ہر وقت ساتھ نظر آنے لگیں۔ جب ٹرمپ گالف کھیلتے تھے تو وہ گالف کورس پر بھی ان کے ساتھ موجود ہوتیں۔ آپ جانتے ہیں، اقتدار سے باہر رہنے کے اس عبوری دور میں، حتیٰ کہ انتخابی مہم شروع ہونے سے پہلے بھی، بعض اوقات وہ لفظی طور پر ان کی گالف کارٹ کے پیچھے دوڑتی ہوئی دیکھی جاتی تھیں۔‘

ون امریکا نیوز نیٹ ورک (OAN) کی سابق میزبان ہارپ پہلی بار 2019 میں ٹرمپ کی توجہ کا مرکز بنی تھیں، جب کینسر سے بچ جانے کی ان کی داستان نے ان کی توجہ حاصل کی۔ بعد ازاں وہ 2022 میں ٹرمپ کے عملے کا حصہ بن گئیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2024 کے صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران انہیں ’انسانی پرنٹر‘ کا لقب ملا، کیونکہ وہ اپنے ساتھ بیٹری سے چلنے والا ایک پورٹیبل پرنٹر رکھتی تھیں تاکہ ٹرمپ کو ’مثبت خبروں کی معقول مقدار‘ مسلسل فراہم کی جا سکے۔

لیکن ہیبرمین کے مطابق انتخابی مہم کے دوران بھی ہارپ تشویش کا باعث بن گئی تھیں۔ ان کے بقول ہارپ ٹرمپ کی نجی جگہوں پر ان کے لیے نہایت ذاتی نوعیت کے نوٹس چھوڑ جایا کرتی تھیں۔ ان میں ایک نوٹ پر لکھا تھا: ’آپ ہی میرے لیے سب کچھ ہیں۔‘ رپورٹر کے بیان کے مطابق سیکرٹ سروس اس طرزِ عمل پر ’فکرمند‘ ہو گئی تھی۔

تاہم ٹرمپ بظاہر ان کی وفاداری کو بہت سراہتے ہیں۔ ہیبرمین نے کہا: ’وہ اپنے مشیروں سے کہتے ہیں، آپ جانتے ہیں، ’تم سب لوگ ایک دن یہاں سے چلے جاؤ گے اور پیسہ کمانے لگو گے۔۔۔ لیکن وہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گی۔‘

گذشتہ ماہ ہارپ کے ناراض بڑے بھائی نے صدر کے ساتھ ان کے قریبی تعلق کو ’بہت غیر صحت مند‘ قرار دیا تھا۔

گذشتہ جنوری میں ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد ہارپ، جن کے پاس لبرٹی یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری ہے، وائٹ ہاؤس کے سب سے بااثر عملے میں شامل شخصیات میں سے ایک کے طور پر سامنے آئیں۔

ہیبرمین نے ایم ایس ناؤ کو بتایا: ’وہ تقریباً ہر ایک میٹنگ میں موجود ہوتی ہیں، میرا مطلب ہے، واقعی میں مذاق نہیں کر رہی، تقریباً ہر ایک میٹنگ میں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہارپ عموماً اوول آفس کی دیوار کے ساتھ اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی نظر آتی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں بھی انہیں ٹرمپ کے ساتھ گالف کورسز پر دیکھا گیا ہے۔ جون کے اواخر میں جب صدر ٹرمپ نے وزیر داخلہ ڈگ برگم کے ہمراہ واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں واقع ایک گالف کورس کا دورہ کیا تو ہارپ بھی ان کے ساتھ موجود تھیں۔

دی انڈپینڈنٹ نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

ہارپ کی بنیادی ذمہ داری ’معلومات کی ترسیل کا ذریعہ‘ بننا ہے۔ بعض اوقات اس کا مطلب دستاویزات حاصل کرنا ہوتا ہے اور بعض مواقع پر وہ بیرونی افراد کو رپبلکن صدر تک رسائی دلانے میں مدد کرتی ہیں۔

ہیبرمین کے مطابق: ’وہ ایک ایسا ذریعہ ہیں جس کے ذریعے لوگ سرکاری اور رسمی طریقہ کار کو نظرانداز کر سکتے ہیں۔ وہ ایک راستہ ہیں جس سے لوگ وہ ٹیکسٹ پیغامات ٹرمپ تک پہنچا سکتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں کہ وہ خود دیکھیں اور یہی اپنے آپ میں طاقت کی ایک الگ سطح ہے۔‘

کتاب کے مطابق ہارپ، جن کے نام کا تلفظ ٹرمپ فرانسیسی انداز میں کرتے ہیں، ان چند افراد میں بھی شامل ہیں، جنہیں ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ تک رسائی حاصل ہے۔

وال سٹریٹ جرنل نے مئی میں رپورٹ کیا تھا کہ ہارپ نے ٹرمپ کی بعض متنازع ترین سوشل میڈیا پوسٹس کی تشکیل میں بھی کردار ادا کیا، اگرچہ ان تمام پوسٹس کی حتمی منظوری خود صدر ٹرمپ نے دی تھی۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال ہارپ کے مشورے پر ٹرمپ نے ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں اوباما خاندان کو بندروں کی شکل میں دکھایا گیا تھا، جبکہ ایک اور تصویر میں انہیں مسیح جیسی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ دونوں جماعتوں کی جانب سے مذمت کے بعد یہ دونوں پوسٹس بعد میں حذف کر دی گئی تھیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے اس سے قبل دی انڈپینڈنٹ کو بتایا تھا: ’کسی بھی صدر نے سوشل میڈیا کو اتنے مؤثر انداز میں استعمال نہیں کیا جتنا صدر ٹرمپ نے کیا ہے، جنہوں نے امریکی عوام کے ساتھ براہِ راست رابطے کی ایک لائن قائم کی ہے۔ جعلی خبروں کا میڈیا اس بات سے نالاں ہے کہ اسے اس رابطے سے باہر کر دیا گیا ہے، لیکن امریکی عوام اپنے صدر سے براہِ راست سننے کو سراہتے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *