کیا پی ایس ایل 11 سے پاکستان کرکٹ کو کچھ فائدہ ہوا؟

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے رواں ایڈیشن کا فائنل اتوار کی شام لاہور میں کھیلا جا رہا ہے۔

اس میچ کے لیے پشاور زلمی نے تو باآسانی جگہ بنائی لیکن دوسری ٹیم حیدرآباد کنگزمین تمام تر دقتوں اور سخت محنت کے بعد پہنچی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کی توقع ہے کیونکہ دونوں کی کارکردگی لاجواب رہی اور دونوں ٹیموں کے چند کھلاڑیوں نے متعدد بار ڈوبتی ہوئی کشتی پار لگائی۔  

اب دونوں کے لیے آخری بازی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ کون سکندر بنتا ہے۔ فائنل میں ایک ہی ٹیم جیتے گی اور ظاہر ہے جو اچھا کھیلے گی اور اپنے حواس پر قابو رکھے گی وہی فتح یاب ہوگی۔

لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس ایک ماہ سے زائد مدت میں جاری رہنے والے ایونٹ نے پاکستان کرکٹ کو کتنا فائدہ پہنچایا۔ 

اس ایونٹ میں اگرچہ بہت سے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع ملا لیکن کچھ ایسے بھی تھے جنھوں نے مایوس کیا۔ انھیں مسلسل کھلایا گیا لیکن وہ طفل مکتب ثابت ہوئے۔  

کامیاب کھلاڑی 

جن کھلاڑیوں نے اس سیزن میں متاثر کیا ان میں سرفہرست سمیر منہاس اور حنین شاہ ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے سمیر نے 349 رنز بنا کر لیگ کے نمایاں بلے بازوں میں جگہ بنائی۔

انھوں نے صرف رنز ہی نہیں بنائے بلکہ اپنی بیٹنگ ٹیکنیک سے بھی سب کو متاثر کیا۔ ان کا اعتماد اور شاٹ سلیکشن متاثر کن تھا۔

وہ بدقسمتی سے آخری میچ میں اپنی ٹیم کے لیے کچھ نہیں کرسکے لیکن انہیں اس سیزن کی دریافت کہا جا سکتا ہے۔  

دوسرے حیدرآباد کے حنین شاہ، جو 16 وکٹ لے سکے ہیں اور ابھی فائنل میچ باقی ہے جہاں وہ اپنی تعداد بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن ان کی اصل خوبی ٹیم کو وقت ضرورت بہترین بولنگ تھی۔ 

اسلام آباد کے خلاف پلے آف میچ کے آخری اوور میں چھ رنز کا دفاع ناممکن تھا کیونکہ کرس گرین اور فہیم اشرف مکمل روانی میں تھے لیکن حنین نے گذشتہ کئی میچوں کی طرح بہت عمدہ بولنگ کی اور چھ رنز نہیں بننے دیے۔ 

ان کی سب سے شاندار بات اپنے بھائی نسیم شاہ کی طرح ہائی بولنگ ایکشن ہے جس سے انھیں صحیح باؤنس کے ساتھ صحیح لینتھ بھی ملتی ہے۔ حنین یقینی طور پر پاکستان کے لیے طویل کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔

ان دونوں کے علاوہ معاذ صداقت، سفیان مقیم، عاکف جاوید، فیصل اکرم، عبید شاہ، فرحان یوسف اور عثمان خان نے بھی متاثر کیا۔

سفیان سب سے زیادہ وکٹ لینے والے بولر ہیں۔ وہ گذشتہ تین سال سے پی ایس ایل کھیل رہے ہیں لیکن بدقسمت ہیں کہ انھیں مناسب مواقع نہیں دیے جاتے۔ اسی طرح معاذ کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے۔  

ناکام کھلاڑی 

وہ کھلاڑی جنھوں نے بھرپور مواقع ملنے کے باوجود مایوس کیا بلکہ اپنے غلط انتخاب کو ثابت کیا ان میں سر فہرست کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے شامل حسین ہیں۔

اپنے پہلے دو میچوں میں نصف سینچری بنانے کے بعد ان کی کارکردگی زیرو ہو گئی۔ ان کی بیٹنگ ٹیکنیک اور شاٹ سیلیکشن بہت خراب ہے۔

وہ ایک ہی جگہ آن سائیڈ پر شاٹ مارتے ہیں اور وہیں پر آؤٹ ہوتے ہیں۔ کوئٹہ نے انھیں منتخب کر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی۔ 

دوسرے سب سے ناکام کھلاڑی صائم ایوب ہیں۔ پی ایس ایل کے سب سے مہنگے کھلاڑی ہونے کے باعث سب کی نظریں ان پر لگی ہوئ تھی لیکن وہ کسی بھی میچ میں سکور نہ کر سکے  اور بولنگ بھی واجبی رہی۔

لیکن ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کی محنت نے ان کی بدترین کارکردگی پر پردہ ڈال دیا۔

مایوس تو شاہین شاہ آفریدی نے بھی بہت کیا جن کی بولنگ سے لاہور قلندرز کو بہت توقعات تھی لیکن وہ پوری نہ کر سکے۔ اسی طرح سلمان علی آغا بھی ناکام رہے اور اپنی ٹیم کراچی کنگز کے کسی کام نہ آسکے۔ 

بابر اعظم کی واپسی

اس سیزن میں سب سے اہم بات بابر اعظم کی روایتی بیٹنگ فارم کی واپسی ہے۔ بابر جو گذشتہ ایک سال سے اپنی فارم حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کررہے تھے بالاآخر کامیاب ہو گئے۔

انھوں نے اس سیزن میں دو سینچریاں بنا کر ثابت کردیا کہ وہ اب بھی پاکستان کے سب سے بہترین بلے باز ہیں۔

اگرچہ ناقدین ان سینچریوں کو کمزور بولنگ کے خلاف کوئی اہمیت نہیں دے رہے، لیکن سینچری بنانا کوئی آسان بات نہیں۔

کلب کرکٹ میں بھی سینچری بنانا ایک ہمت اور حوصلہ کا کام ہوتا ہے۔ ان کی بیٹنگ سے محسوس ہو رہا ہے کہ وہ اپنے خراب دور سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔

بابر کی کپتانی کی بھی تعریفیں ہوتی رہی جس کے بعد ان کو قومی ٹیم کا کپتان دوبارہ بنانے کی بازگشت ہے۔  

تماشائیوں کے بغیر کرکٹ 

پی ایس ایل میں کرونا کے بعد دوسرا موقع ہے جب تماشائیوں پر پابندی لگائی گئی۔ تماشائیوں کے بغیر کرکٹ پھیکی رہی اور وہ شور وغلغلہ جو تماشائی کرتے ہیں دراصل کھلاڑیوں کے اوسان بھی بحال کرتا ہے  اور ان کو بڑے شاٹ کا حوصلہ دیتا ہے۔  

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جب پلے آف کے لیے تماشائیوں کی اجازت دی تو مختصر نوٹس پر تماشائیوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔

کراچی میں تو تعداد تسلی بخش تھی لیکن لاہور میں مایوسی کا عالم رہا۔ چند ہزار لوگ ہی میچ دیکھنے آئے جس سے اس بات کو تقویت ملی کہ پی ایس ایل کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔  

نامناسب میچ شیڈولز

رواں پی ایس ایل میں جس شخص نے بھی میچ شیڈول بنایا اس نے بہت زیادتی کی کیونکہ کچھ ٹیموں کو روزانہ میچ کھیلنے پڑے اور کچھ کو ایک ہفتہ آرام کرنا پڑا۔

غلط شیڈول سے ٹیموں کا امتزاج بھی متاثر ہوا اور کچھ کھلاڑی آرام کرنے اپنے گھر چلے گئے۔

 ملتان سلطانز کی پوری ٹیم آرام کرنے دبئی چلی گئی، جس سے لیگ کی نیک نامی پر حرف آیا، لیکن پی سی بی کے ذمہ داران نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔

غلط شیڈول نے ٹیموں کی کارکردگی پر بھی اثر ڈالا۔

نئے کھلاڑیوں کے لیے مواقع

اس سیزن کی خاص بات یہ رہی کہ بہت سے نئے مقامی کھلاڑیوں موقع ملا جو فرسٹ کلاس کرکٹ تو کھیل رہے تھے لیکن قومی ٹیم تک رسائی نہیں تھی۔

یاسر خان، عبداللہ فضل، محمد اسماعیل، محمد فاروق، اخلاق حسین، عامر خان اور بہت سے ایسے کھلاڑی تھے جنہیں پی ایس ایل میں موقع ملا تاکہ اپنے جوہر دکھا سکیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ زیادہ تر کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ تاہم چند ایک نے متعدد مواقع پر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

پی ایس ایل کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ فرنچائز اونرز اپنی ٹیم کو مضبوط بنانے کے لیے نئے ٹیلنٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔

اگر نئے ٹیلنٹ پر اعتماد کی بات کی جائے تو اسلام آباد یونائیٹڈ اور راولپنڈیز نے نئے کھلاڑیوں کو زیادہ چانسز دیے۔  

وہ کھلاڑی جو بوجھ بن گئے 

اس سیزن میں کچھ کھلاڑی اپنی ٹیموں پر بوجھ بنے رہے جن میں سرفہرست محمد عامر تھے۔

عامر کی بولنگ نے بہت مایوس کیا جبکہ محمد نواز، فہیم اشرف اور حسن علی بھی ناکام رہے۔ تینوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن تھی۔

شاید یہ سیزن ان تینوں کے لیے آخری تھا اور آئندہ سیزن میں کوئی انہیں منتخب نہ کرے۔ سعود شکیل، حسن نواز، عماد وسیم اور محمد رضوان بھی اپنی ٹیموں پر بوجھ بنے رہے، ان کے لیے بھی آئندہ سیزن میں جگہ بنانا مشکل ہوگا۔  

پاکستان کرکٹ جو طویل عرصے سے زبوں حالی کا شکار ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ٹورنامنٹس میں بہت پیچھے رہ جاتی ہے،  اس کے لیے ایک مدھم سی امید پی ایس ایل ہوتی ہے، جہاں سے کوئی متاثر کن ٹیلنٹ نکل سکتا ہے لیکن اس سیزن میں سوائے سمیر منہاس کے کوئی خاص کھلاڑی نہیں سامنے آ سکا۔    

پی ایس ایل 11 مجموعی طور پر ایک تفریحی ایونٹ تو بنا رہا، لیکن سنجیدہ کرکٹ کا رخ نہ بن سکا۔ اس سیزن میں قومی ٹیم کے بہت سے کھلاڑیوں کی بدترین کارکردگی نے الگ سوالات قائم کیے۔

پاکستان کو اب اگلے چھ ماہ ٹیسٹ کرکٹ اور ایک روزہ کرکٹ کھیلنی ہے اور اس قسم کی کرکٹ کے لیے پی ایس ایل بہر حال کوئی اچھا ایونٹ نہیں ہو سکتا کیونکہ ٹی ٹوئنٹی میں کرکٹ کی اصل روح کی بجائے انٹرٹینمنٹ کا عنصر غالب رہتا ہے۔ 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *