’میں نے خود سے کہا تھا، انڈیا کے سامنے پاکستان کا سر نہیں جھکنا چاہیے۔ مجھے اپنے ملک کے لیے گولڈ میڈل جیت کر واپس جانا ہے۔‘
یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی کک باکسر عائشہ بلوچ کا جنہوں نے جون میں ہوئی ایشین گیمز 2026 میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے فائنل میں انڈیا کو شکست دی اور پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتا تھا۔
کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی تنگ گلیوں سے نکل کر ایشین گیمز کے پوڈیم پر پاکستان کا پرچم بلند کرنا کسی خواب سے کم نہیں، مگر یہ خواب عائشہ بلوچ نے اپنی محنت، ثابت قدمی اور اپنی والدہ کی غیر متزلزل حمایت سے حقیقت میں بدل دیا۔
’انڈیا کے سامنے پاکستان کا سر نہیں جھکنا چاہیے‘
رِنگ میں قدم رکھنے سے پہلے عائشہ بلوچ چند لمحوں کے لیے جھکتی ہیں، زمین کو چھوتی ہیں اور دل ہی دل میں ایک دعا مانگتی ہیں۔
’میں نے خود سے کہا تھا، انڈیا کے سامنے پاکستان کا سر نہیں جھکنا چاہیے۔ مجھے اپنے ملک کے لیے گولڈ میڈل جیت کر واپس جانا ہے۔‘
عائشہ بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ یہ صرف ایک مقابلہ نہیں تھا۔ یہ کراچی کے اورنگی ٹاؤن کی تنگ گلیوں سے نکلنے والی اس لڑکی کی برسوں کی محنت، قربانی اور مسلسل جدوجہد کا امتحان تھا، جس نے 12 سال کی عمر میں کک باکسنگ شروع کی اور نو سال بعد ایشین گیمز کے فائنل میں انڈین حریف کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیت لیا۔
وہ کہتی ہیں کہ پاکستان کے لیے گولڈ میڈل تو جیتا، لیکن اہم بات یہ تھی کہ روایتی حریف کو شکست دے کر یہ کامیابی حاصل ہوئی۔
’مجھے جب علم ہوا کہ فائنل میں انڈیا کے ساتھ مقابلہ ہے تو میرا جذبہ بہت بڑھ گیا۔ میں رات کو سو نہیں سکی۔ صبح اٹھتے ہی میں نے دوبارہ ٹریننگ کی اور جب رنگ میں اتری تو ٹھان لیا کہ اپنے وطن کا سر بلند کرنا ہے۔ میں نےانڈیا کو شکست دی کیونکہ دل میں صرف وطن سے محبت کا جذبہ تھا۔‘
لیکن اس کامیابی کی کہانی رنگ میں نہیں، بلکہ اس سے بہت پہلے شروع ہوتی ہے۔
اورنگی ٹاؤن سے عالمی مقابلوں تک
اورنگی ٹاؤن، جہاں عائشہ کی پرورش ہوئی، ایشیا کی سب سے بڑی کچی آبادیوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں لڑکیوں کا کھیل کے میدان تک پہنچنا آج بھی آسان نہیں۔
عائشہ کہتی ہیں کہ ان کے علاقے میں لڑکیوں کے گھر سے نکلنے پر ہی سوال اٹھائے جاتے ہیں، جبکہ بلوچ خاندان سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں پر سماجی پابندیاں مزید سخت سمجھی جاتی ہیں۔
اس وقت انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی، مگر یہ سفر کامیابیوں سے زیادہ آزمائشوں کا سفر تھا۔
’باکسنگ سیکھ کر کیا کرو گی؟‘
عائشہ بتاتی ہیں کہ ’لوگ کہتے تھے، تم باکسنگ سیکھ کر کیا کرو گی؟ گھر جاؤ، کپڑے دھو، برتن سنبھالو۔ آخرکار شادی ہی تو کرنی ہے۔‘
’میرے کپڑوں کو بہت جج کیا گیا۔ لوگ کہتے تھے، دیکھو یہ شارٹس پہن کر گلیوں میں گھومتی ہے، اسے شرم بھی نہیں آتی۔ حالانکہ وہ میرے کھیل کا یونیفارم تھا، جیسے ہر کھیل کا اپنا ایک ڈریس ہوتا ہے۔‘
اصل مقابلہ رنگ سے باہر تھا
ایشین گیمز سے پہلے بھی ان کے لیے اصل مقابلہ رنگ کے اندر نہیں بلکہ رنگ سے باہر تھا۔
سری لنکا روانگی سے پہلے فنڈز کا مسئلہ ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا۔ وہ ایک ادارے سے دوسرے ادارے کے چکر لگاتی رہیں، مگر کہیں سے خاطر خواہ مدد نہ مل سکی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بقول عائشہ بلوچ: ’کبھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا، کبھی کسی اور کے پاس جانا پڑتا۔ ہر جگہ یہی جواب ملتا کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں۔‘
اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ محدود وسائل کے ساتھ سری لنکا پہنچیں، جہاں پہلے میزبان ملک کی کھلاڑی کو شکست دی، پھر فائنل میں انڈیا کی کھلاڑی ان کے سامنے تھی۔
گولڈ میڈل کے بعد خاموش ایئرپورٹ
لیکن عائشہ کے لیے سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب وہ گولڈ میڈل جیت کر وطن واپس پہنچیں۔
عائشہ بلوچ کے خیال میں ’میں سوچ رہی تھی کہ ایئرپورٹ پر لوگ ہوں گے، شاید سپورٹس حکام ہوں گے، کوئی استقبال کرے گا۔ لیکن وہاں میرے استاد کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ نہ کوئی سپورٹس منسٹر، نہ کوئی سرکاری نمائندہ۔ اس دن میرا دل بہت دکھا۔‘
فتح کے بعد سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ شازیہ مری اور چیئرمین بلاول بھٹو نے انہیں سماجی ویب سائٹ پر مبارک باد بھی دی۔
’ہمیں بھی سپورٹ کی ضرورت ہے‘
وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ سمیت کئی کھیلوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے، مگر کک باکسنگ جیسے کھیلوں کے کھلاڑی بنیادی سہولیات کے لیے بھی جدوجہد کرتے ہیں۔
’میری خواہش ہے کہ حکومت ہمیں بھی سپورٹ کرے، تاکہ ہم صرف فنڈز کے لیے نہیں بلکہ اپنے کھیل پر توجہ دے سکیں۔‘
عائشہ بلوچ کی کہانی صرف ایک گولڈ میڈل کی کہانی نہیں، بلکہ اس معاشرے میں خواب دیکھنے والی ہر اس لڑکی کی کہانی ہے جسے بتایا جاتا ہے کہ اس کی جگہ کھیل کے میدان میں نہیں، بلکہ گھر کی چار دیواری میں ہے۔
اورنگی ٹاؤن کی اس لڑکی نے ثابت کیا کہ اگر حوصلہ زندہ ہو، ایک ماں اپنی بیٹی پر یقین رکھتی ہو، اور خواب ہار ماننے سے انکار کر دیں، تو پھر دنیا کا کوئی رنگ، کوئی حریف اور کوئی سماجی دیوار راستہ نہیں روک سکتی۔
