امریکہ، پاکستان کا ٹی ٹی پی سمیت عسکریت پسندوں کے خلاف تعاون بڑھانے کا عزم

امریکہ اور پاکستان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف تعاون مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان انسداد دہشت گردی سے متعلق واشنگٹن میں مذاکرات ہوئے جس کے بعد بدھ کو جاری مشترکہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور بیشتر حملے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔

پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے پڑوسی ملک افغانستان میں محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، تاہم کابل میں طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں، بالخصوص بی ایل اے کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا، جن کا ہدف سکیورٹی فورسز اور اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق انفراسٹرکچر ہیں۔

2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں سرد مہری آ گئی تھی تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں دونوں ممالک نے انسداد دہشت گردی، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سفارت کاری کے شعبوں میں روابط بڑھا کر تعلقات کی بحالی کی کوشش کی ہے۔ حالیہ امریکہ، ایران رابطوں میں پاکستان نے ثالثی کا کردار بھی ادا کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں حکومتوں نے امریکہ، پاکستان انسداد دہشت گردی مذاکرات کے چوتھے دور کے بعد بدھ کو جاری مشترکہ بیان میں کہا: ’امریکہ اور پاکستان نے ان دہشت گرد تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا جو ان کے شہریوں کے تحفظ اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں، جن میں داعش خراسان (آئی ایس آئی ایس۔کے)، القاعدہ (اے کیو)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس سے وابستہ گروہ شامل ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دونوں حکومتوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا کہ ان کا انسداد دہشت گردی تعاون دونوں ممالک کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ علاقائی امن، خوش حالی اور استحکام کے ایک دیرپا وژن کا حصہ رہے گا۔‘

یہ مذاکرات منگل کو واشنگٹن میں ہوئے جن کی قیادت امریکی رابطہ کار برائے انسداد دہشت گردی سفیر گریگوری لوگیرفو اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے خصوصی سیکریٹری سفیر نبیل منیر نے کی۔

مشترکہ بیان کے مطابق حکام نے بدلتے ہوئے خطرات کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، انسداد دہشت گردی تعاون بڑھانے کے طریقوں کا جائزہ لیا اور سرحدی سکیورٹی مضبوط بنانے اور دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورکس کو ناکام بنانے کے اقدامات پر گفتگو کی۔

جن تنظیموں پر بات ہوئی ان میں داعش خراسان بھی شامل تھی، جو افغانستان میں قائم داعش کی علاقائی شاخ ہے۔ یہ تنظیم افغانستان اور پاکستان میں متعدد بڑے حملوں کی ذمہ دار رہی ہے اور دونوں ممالک اسے خطے کی سکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان ٹی ٹی پی کو اپنی داخلی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ 2021 میں افغان طالبان کے کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اس گروہ نے حملوں میں تیزی لائی ہے۔

بی ایل اے بلوچستان میں سرگرم سب سے بڑی علیحدگی پسند مسلح تنظیم ہے۔ افغانستان اور ایران کی سرحد سے متصل معدنی وسائل سے مالا مال اس صوبے کے لیے آزادی اس تنظیم کا بنیادی مطالبہ ہے۔

حالیہ برسوں میں اس نے پاکستانی سکیورٹی فورسز، چینی شہریوں اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کو بڑھ چڑھ کر نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان، امریکہ اور کئی دیگر ممالک بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *