کفایت شعاری مہم: بازاروں کی جلد بندش، عید سے قبل تاجر و خریدار پریشان

پاکستان بھر کے تاجروں نے عید سے قبل رات آٹھ بجے بازار بند کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید کے دنوں میں کاروباری سرگرمیاں رات گئے تک جاری رہتی ہیں اور محدود اوقاتِ کار سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

جبکہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے کفایت شعاری مہم کے تحت بازار آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ نہ کرنا پڑے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے سبب پاکستان میں حکومت نے 7 اپریل 2026 سے تمام مارکیٹین، بازار اور شاپنگ مال رات آٹھ بجے جبکہ ریسٹورینٹ اور شادی ہال رات 10 بجے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس حکم پر عمل درآمد تو جاری ہے مگر عید قریب آتے ہی اس فیصلے پر عمل درآمد تاجروں اور خریداروں کے لیے مشکلات کا سبب بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ جس پر تاجروں اور خریداروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’کاروباری اوقات کار رات 10 بجے تک اور ریسٹورنٹس 12 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دی جائے جبکہ عید کے موقع پر سمارٹ لاک ڈاؤن مکمل طور پر ختم کیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’حکومت کو تین دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہیں۔ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ اس بار شٹر ڈاؤن ہڑتال نہیں کی جائے گی بلکہ زبردستی مارکیٹیں کھولی جائیں گی اور اگر تاجروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تو متعلقہ تھانوں کا گھیراؤ کیا جائے گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاجر رہنماؤں کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ عید خریداری کے سیزن میں خصوصی رعایت دی جائے تاکہ شہریوں کو خریداری میں آسانی اور کاروباری طبقے کو ریلیف مل سکے۔

مال روڑ لاہور کے تاجر رہنما لئیق احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عید قریب ہے لیکن سٹاک دوکانوں پر موجود ہونے کے باوجود سیل 75 فیصد کم ہو چکی ہے۔ کرائے، ٹیکس اور اخراجات کہاں سے پورے کریں۔ گرمی کے موسم میں جو خریداری کا وقت ہوتا ہے اسی وقت آٹھ بجے حکومت دکانیں بند کروا دیتی ہے۔‘

خریداروں نے بھی جلد بازار بند ہونے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا کہ کام چھوڑ کر شاپنگ کرنا پڑ رہی ہے۔ کیونکہ مارکیٹیں جلد بند ہونے کی وجہ سے شام کو جانا مشکل ہوتا ہے۔ ایک کی بجائے کئی کئی چکر لگنے سے پیٹرول زیادہ استعمال ہورہا ہے۔ لہذا حکومت کو عید کے موقع پر یہ پابندی ختم کر دینی چاہیے۔

تاجر رہنماؤں کے مطابق بازاروں کی آٹھ بجے بندش سے اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ جس سے ٹیکس ریونیو میں بھی کافی کمی کا خدشہ ہے کیونکہ کاروبار نہیں ہوں گے تو ٹیکس کیسے ادا کریں گے؟

حکومتی عہدیداروں کا موقف ہے کہ بازار جلد بند کرنے کا مقصد توانائی کی بچت اور ٹریفک و سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم تاجروں نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عید تک کاروباری اوقات رات دیر تک کرنے کی اجازت دی جائے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *