کراچی میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی موت، مالی مشکلات کا انکشاف

کراچی کے علاقے بن قاسم کی گلشن فلک ناز سوسائٹی میں منگل کی صبح ایک گھر سے میاں بیوی، ان کی دو کم عمر بیٹیوں اور شوہر کی بہن سمیت پانچ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

 لاشوں کی شناخت شاہزیب، ان کی اہلیہ صبا، بہن شمائلہ اور ان کی دو کم سن بیٹیوں سے ہوئی۔

لاشوں کا جناح ہسپتال میں پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد انہیں ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک پستول اور ایک مبینہ خط بھی ملا ہے، جس میں مالی مشکلات، بے روزگاری اور رشتے داروں سے شکایات کا ذکر کیا گیا ہے۔

 تاہم پولیس نے تاحال اموات کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی اور واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

والدین کے انتقال کے بعد خاندان کے حالات بدل گئے: ایس ایس پی ملیر

ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق متوفی خاندان مالی مشکلات کا شکار تھا اور شاہزیب کو اپنے رشتے داروں سے بھی بعض گلے شکوے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’مبینہ خط میں بھی ان مسائل کا اظہار کیا گیا ہے اور بظاہر شاہزیب شدید ذہنی دباؤ میں تھے، تاہم پولیس کسی ایک وجہ کو حتمی قرار دینے کے بجائے ہر پہلو سے تفتیش کرے گی۔‘

ڈاکٹر عبدالخالق پیرزادہ کے مطابق ’خاندان کے حالات ماضی میں بہتر تھے۔ شاہزیب کے والد کا انتقال ایک حادثے میں ہوا تھا، جبکہ ان کی والدہ اس سے پہلے وفات پا چکی تھیں۔ والدین کے انتقال کے بعد شاہزیب اور ان کی بہن رہ گئے تھے۔‘

ایس ایس پی ملیر نے بتایا کہ ’شاہزیب زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھے اور ان کے پاس بھی کوئی اچھی ملازمت نہیں تھی۔ خاندان پہلے ایک بہتر گھر میں رہتا تھا، بعدازاں وہ گھر فروخت کرکے نسبتاً چھوٹے مکان میں منتقل ہوا اور پھر کرائے کے ایک کمرے کے مکان میں رہنے لگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ابتدائی معلومات ہیں اور پولیس تمام حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔ تفتیش میں جو بھی حقائق سامنے آئیں گے، ان سے آگاہ کیا جائے گا۔‘

شاہزیب مالی پریشانی میں تھے، ملازمت تلاش کر رہے تھے: کزن

شاہزیب کے کزن علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’شاہزیب مالی حالات کی وجہ سے پریشان تھے اور روزگار کی تلاش میں تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’خاندان کے دیگر افراد کو اندازہ نہیں تھا کہ شاہزیب کو مالی مشکلات کا سامنا کس حد تک تھا۔‘

’لوگ بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے‘: ظفر عباس

سماجی کارکن ظفر عباس نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں مہنگائی اور روزمرہ اخراجات نے عام لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ عوام روٹی کے لیے مر رہی ہے اور پورے پورے پیج کے کاغذ لکھ کر جا رہی ہے کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔‘

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ’اگر کوئی شخص ماہانہ 50 سے 60 ہزار روپے کماتا ہے تو اس کے لیے 30 سے 40 ہزار روپے کرایہ اور اتنے ہی کے قریب بجلی کا بل ادا کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔‘

ظفرعباس نے بتایا کہ ’میں متوفین کے اہل خانہ کی مدد کے لیے ڈھائی لاکھ روپے نقد لے کر آیا تھا۔ تدفین اور دیگر انتظامات پر بھی تقریباً ڈھائی سے تین لاکھ روپے یا اس سے زیادہ خرچ آ سکتا ہے۔‘

ایدھی رضاکار نے کیا دیکھا؟

ایدھی رضاکار آصف جوکھیو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’مجھے ایدھی ایمرجنسی کنٹرول سے گلشن فلک ناز جانے کی اطلاع ملی تھی۔ جب میں جائے وقوعہ پر پہنچا تو وہاں پولیس اور دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’گھر کے اندر پانچ لاشیں موجود تھیں اور دو لاشوں پر گولی لگنے کے نشانات تھے۔ گھر بہت چھوٹا اور پرانا تھا۔ وہاں ایک چارپائی اور پنکھا لگا ہوا تھا۔‘

لاشیں کس حالت میں ملیں؟

پولیس کی ابتدائی معلومات کے مطابق شاہزیب اور ان کی اہلیہ صبا کی لاشیں صوفے پر بیٹھی ہوئی حالت میں ملیں اور دونوں کے سروں پر گولی لگنے کے نشانات تھے۔ جائے وقوعہ سے صبا کی گود میں ایک پستول بھی ملا۔

شاہزیب کی بہن شمائلہ اور دونوں بچیوں کی لاشیں بستر پر چادر کے نیچے موجود تھیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بچیوں اور شمائلہ کی موت زہر دینے سے ہوئی ہو سکتی ہے، تاہم اس کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔

پولیس کے مطابق گھر کا دروازہ اندر سے بند تھا اور اسے بند رکھنے کے لیے دروازے کے ہینڈل میں ایک ڈمبل کی سلاخ پھنسا دی گئی تھی۔

کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے اور لاشوں کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا گیا۔

خط میں کیا لکھا ہے؟

پولیس کے مطابق شاہزیب کی جیب سے ایک خط ملا ہے، جس میں مالی مشکلات، بے روزگاری اور رشتے داروں سے شکایات کا ذکر ہے۔ تاہم خط کس نے لکھا اور اس میں درج الزامات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

خط کے متن سے معلوم ہوتا ہے کہ والد کے انتقال کے بعد خاندان کے حالات خراب ہوئے اور گذشتہ چھ ماہ سے وہ رشتے داروں سے راشن، بچوں کے دودھ اور دیگر ضروریات کے لیے مدد مانگ رہے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خط میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ بعض رشتے داروں نے مدد کرنے کے بجائے انہیں ذلیل کیا، رابطے منقطع کیے اور گھر آنے سے منع کیا۔

پولیس کی تحقیقات سے یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ خط کس نے لکھا اور اس میں بیان کیے گئے حالات کی حقیقت کیا ہے۔

پولیس کی تحقیقات

پولیس حکام کے مطابق واقعے کو ابتدائی طور پر مشتبہ اجتماعی خودکشی کے امکان سمیت مختلف پہلوؤں سے دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم یہ طے ہونا باقی ہے کہ پانچوں افراد کی موت کن حالات میں ہوئی اور آیا کسی دوسرے شخص کا اس واقعے میں کوئی کردار تھا۔

واقعے کی حتمی نوعیت اور موت کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم، کیمیائی تجزیے اور دیگر فرانزک شواہد اہم ہوں گے۔

 پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی مزید حقائق سامنے آ سکیں گے۔

کراچی میں اس سے قبل ستمبر 2026 میں احسن آباد کے علاقے سے بھی ایک خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں ملی تھیں، جن میں ایک ڈاکٹر، ان کی اہلیہ اور تین بچیاں شامل تھیں۔

 اس واقعے میں بھی موت کی حتمی وجہ جاننے کے لیے کیمیائی تجزیے کا انتظار کیا جا رہا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *